آپ ﷺ کا پیالہ بیچ کر کلہاڑی خریدنے کا حکم
سوال: مجھے وہ حدیث مطلوب ہے، جس میں ایک صحابی کو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پیالہ بیچ کر کلہاڑی خرید کر لانے کے لیے کہا، پھر آپ نے اپنے دست مبارک سے اس میں دستہ لگایا اور اس سے کہا کہ لکڑی کاٹ کر تجارت کرو۔۔۔۔وغیرہ۔ وغیرہ
پوری حدیث مطلوب ہے مع ترجمہ و تشریح۔
الجواب و باللہ التوفیق مذکورہ روایت سنن ابن ماجہ سنن ترمذی اور سنن ابو داؤد میں مذکور ہے۔
،مذکورہ روایت میں صرف پیالہ بیچ کر کلہاڑی نہیں خریدی، بلکہ ان صحابی کے گھر میں ایک پیالہ اور ایک کمبل تھا پیارے رسولﷺ نے دونوں کو طلب کیا اور دونوں چیزوں کی صحابہ کے درمیان بولی لگادی، جس پر ایک صحابی نے وہ دونوں چیزیں دو درہم میں خرید لیے ایک درہم کا آپ نے اناج خریدنے کا حکم دیا اور ایک درہم سے کلہاڑی خریدنے کا حکم دیا اور اس کلہاڑی میں اپنے دست مبارک سے ایک لکڑی لگادی، جس کو دستہ بولا جاتا ہے۔
اس روایت سے یہ مسئلہ مستنبط ہوتا ہےکہ کسی چیز کی بولی لگانا جائز ہے، جیسا کہ ہمارے معاشرے میں اس کا رواج ہے
: حدیث مع ترجمہ یہ ہے 👇👇👇
عَنْ أَنَسِ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَاعَ حِلْسًا وَقَدَحًا، وَقَالَ: «مَنْ يَشْتَرِي هَذَا الحِلْسَ وَالقَدَحَ»، فَقَالَ رَجُلٌ: أَخَذْتُهُمَا بِدِرْهَمٍ، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «مَنْ يَزِيدُ عَلَى دِرْهَمٍ، مَنْ يَزِيدُ عَلَى دِرْهَمٍ؟»، فَأَعْطَاهُ رَجُلٌ دِرْهَمَيْنِ: فَبَاعَهُمَا مِنْهُ. (رواه الترمذى وابوداؤد وابن ماجه)
حضرت انس ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے (بچھانے کا) ایک ٹاٹ اور ایک پیالہ اس طرح فروخت کیا کہ آپ نے (مجلس کے حاضرین کومخاطب کر کے) فرمایا کہ یہ ٹاٹ اور پیالہ کون خریدنا چاہتا ہے (وہ بولی بولے) ایک شخص نے عرض کیا کہ میں یہ دونوں چیزیں ایک درہم میں لے سکتا ہوں ..... آپ ﷺ نے فریاما کون ایک درہم سے زیادہ دینے کو تیار ہے؟ تو ایک دوسرے صاحب نے آپ کو دو درہم پیش کر دئیے تو آپ نے وہ دونوں چیزیں اُن کے ہاتھ بیچ دیں۔
خلاصہ اس حدیث سے معلوم ہوا کہ نیلام کے طریقہ پر خرید و فروخت جائز ہے اور خود آنحضرتﷺ نے ایسا کیا ہے۔
واللہ اعلم بالصواب
Tags
تخریج الاحادیث
