https://tagassistant.google.com/#/?url=https%3A%2F%2Fguldastakafi.blogspot.com%2F بچوں کے گلے یا ہاتھ میں کالا ڈورا باندھنا، बच्चों के गले या हाथ में काली रस्सी बांधना

بچوں کے گلے یا ہاتھ میں کالا ڈورا باندھنا، बच्चों के गले या हाथ में काली रस्सी बांधना

بچوں کے گلے یا ہاتھ میں کالا ڈورا باندھنا، बच्चों के गले या हाथ में काली रस्सी बांधना

 بچوں کے گلے یا ہاتھ میں کالا ڈورا باندھنا 

 مسئلہ :بچے کی پیدائش پر مائیں اپنے بچوں کو نظرِ بد سے بچانے کیلئے اس کے گلے یا ہاتھ کی کلائی میں کالے رنگ کی ڈوری باندھ دیتی ہیں  یا بچے کے سینے یا سر پر کاجل سے سیاہ رنگ کا نشان لگادیا جاتا ہے، تاکہ بچے کو بری نظر نہ لگے، اگر اس سے اعتقاد میں کوئی خرابی نہ ہو، تو کوئی حرج نہیں، صرف مقصد یہ ہو کہ بد نما کردے تاکہ کسی کی نظرِ بد نہ لگے اور آج کل والدین اپنے چھوٹے بچوں کو جو کالا نشان لگاتے ہیں یا کالا دھاگا باندھتے ہیں اس سے ان کا مقصد صرف یہی ہوتا ہے کہ ہمارے بچوں کو کسی کی نظر نہ لگے، لہذا اس طرح کالا نشان لگانے اور کالا دھاگا ڈالنے میں کوئی برائی نہیں ہے ،کیونکہ اس سے اعتقاد پر کوئی فرق نہیں پڑتا۔

الحجۃ علی ما قلنا

ما ’’ السنن النسائي ‘‘ : عن أبي سعید قال : کان رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم یتعوذ من عین الجان ، وعین الإنس، فلما نزلت المعوذتان أخذ بہما وترک ما سوی ذلک *۔

(۲/۲۷۰،کتاب الاستعاذۃ ، الاستعاذۃ من عین الجان)=_ 

ما في ’’ الدر المختار‘‘: ولا الرتیمۃ ہي خیط یربط بأصبع أو خاتم لتذکر الشیء ، والحاصل أن کل ما فعل تجبراً کرہ ، وما فعل لحاجۃ لا ۔ عنایۃ ۔ ’’ درمختار‘‘ ۔

قولہ : (ولا الرتیمۃ) ۔۔۔۔۔۔۔۔۔ وفي المنح : إنما ذکر ہذا لأن من عادۃ بعض الناس شد الخیوط علی بعض الأعضاء وکذا السلاسل وغیرہا، وذلک مکروہ لأنہ محض عبث، فقال : إن الرتم لیس من ہذا القبیل کذا في شرح الوقایۃ اھـ۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔ وفیہا لا بأس بوضع الجماجم في الزرع والمبطخۃ لدفع ضرر العین ، لأن العین حتی تصیب المال والآدمي والحیوان ویظہر أثرہ في ذلک عرف بالآثار ، فإذا نظر الناظر إلی الزرع یقع نظرہ أولاً علی الجماجم لارتفاعہا ، فنظرہ بعد ذلک إلی الحرث لا یضرہ ، روي أن امرأۃ جاء ت إلی النبي صلی اللہ علیہ وسلم وقالت: نحن من أہل الحرث وإنا نخاف علیہ العین ، فأمر النبي صلی اللہ علیہ وسلم أن یجعل فیہ الجماجم ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ قال عیاض : قال بعض العلماء : ینبغي إذا عرف واحد بالإصابۃ بالعین أن یجتنب ویحترز منہ ، وفي النسائي : أن النبي صلی اللہ علیہ وسلم قال : ’’إذا رأی أحدکم من نفسہ أو مالہ أو أخیہ شیئاً یعجبہ فلیدع بالبرکۃ ، فإن العین حق‘‘ والدعاء بالبرکۃ أن یقول : تبارک اللہ أحسن الخالقین ، اللہم بارک فیہ ، ویؤمر العائن بالاغتسال ویجبر إن أبی ، ملخصاً ، واللہ سبحانہ وتعالی أعلم۔

(رد المحتار: ۹/۵۲۲۔۵۲۴،کتاب الحظر والإباحۃ ، فصل في اللبس)

محقق و مدلل جدید مسائل ج/١ص٨٠

کلائی پر کالا دھاگا باندھنا 

مسئلہ :آج کل بہت سے مسلم نوجوان اپنی کلائی پر کا لا دھاگا یا زنجیر یا کڑا باندھتے اور پہنتے ہیں، اگران چیزوں کا پہننا یا باندھنا کسی غلط عقیدہ پر مبنی ہے ،یعنی ان سے فائدہ پہنچتا ہے،تو یہ حرام ہے،اور اگر محض زینت کے طور پر ہے تو یہ مکروہِ تحریمی ہے 

الحجة علی ما قلنا :

ما ف '' القرآن الکریم '' : قولہ تعالیٰ :( قل لا املک لنفس ضرًّا ولا نفعًا لا ما شاء اللہ) ۔

(سورة یونس :٤٩)

ما ف '' مشکوة المصابیح '' : قولہ علیہ السلام : '' أبغض الناس لی اللہ ثلثة: مُلحد فی الحرم ، ومُبتغ فی الاسلام سنة الجاہلیة ، ومطلب د م امریٔ مسلم بغیر حق لیہریق دمہ '' ۔ رواہ البخار

المسائل المہمہ ج اول ص٢١

رتبہ:مفتی محمد حیدر صاحب مظاھری سہارنپوری

٢٢محرم الحرام ١٤٤٥ 

Post a Comment

Previous Post Next Post