ایک صحابی کی نماز پر ایک گدھے کا زندہ ہونا اس واقعہ کی تحقیق وتخریج
سوال : ایک مشہور واقعہ ہے کہ ایک صحابی کے پاس ایک گدھا تھا، جسے وہ سواری کے لیے استعمال کرتے تھے ،اچانک مرگیا، وہ صحابی کھڑے ہوئے، اور دورکعت نماز پڑھ کر اللہ تعالٰی سے دعا مانگی ،تو اللہ نے اسے زندہ کردیا؛ کیا یہ واقعہ صحیح ہے؟
الجواب وباللہ التوفیق سوال میں ذکر واقعہ صحیح اور ثابت ہے. اسکو بیان کرنے میں کوئی قباحت نہیں ہے۔ امام بیہقی نے دلائل النبوۃ میں بسند صحیح ابوسبرہ نخعی سے روایت کیا ہے وہ فرماتے ہیں : یمن سے ایک شخص (آپ کا نام نباتہ بن یزید تھا) تشریف لائے، جب وہ راستہ میں تھے ان کی سواری (گدھا) ہلاک ہوگیی، چنانچہ اسی وقت وہ کھڑے ہوئے، وضو کیا اور دو رکعت نماز پڑھی، پھر کہا : اے اللہ! میں تیری راہ میں تیری رضاجوئی کے لیے جہاد میں نکلا اور میں اس بات کی گواہی دیتا ہوں کہ تو مردوں کو زندہ کرتا ہے اور جو قبروں میں ہیں، انہیں تو دوبارہ زندہ کرے گا، آج کسی کا بار احسان مجھ پر نہ ڈال، میں تجھ سے درخواست کرتاہوں کہ میرے گدھے کو زندہ کردے، چنانچہ وہ گدھا کان جھاڑتے ہوئے اٹھا۔بیہقی اور ابن ابی الدنیا نے دوسری سند سے یہ بھی ذکر کیا ہے کہ جب وہ زندہ ہوگیا، تو صحابی نے اس پر زین کسی اور لگام لگائ، پھر اپنے ساتھیوں کےپاس آئے، تو انہوں نے پوچھا کیا ہوا؟ کہا میرے ساتھ عجیب معاملہ ہوا وہ یہ کہ اللہ نے میری اس سواری کو مرنے کے دوبارہ زندہ کیا، شعبی فرماتے ہیں : میں نے اس گدھے کو کناسہ (کوفہ میں ایک مشہور مقام کا نام ہے) میں بکتے ہوئے دیکھا۔بیہقی ہی کے دوسرے طریق میں یہ بھی وارد ہواہے، کہ راوی قصہ (مسلم بن عبداللہ بن شریک نخعی) فرماتے ہیں: جب وہ بازار میں بیچ رہے تھے، اس وقت کسی نے ان سے کہا: آپ اس دراز گوش کو بیچ رہے ہیں جس کو اللہ نے مرنے کے بعد زندہ کیا. تو انہوں نے کہا کہ کیا کروں؟ اس وقت ان کے خاندان کے ایک شخص نے تین اشعار کہے جن میں مجھے یہ شعر یاد ہے :ومنا الذی احیا الإله حمارہ وقد مات منه كل عضو ومفصل ترجمہ : ہم میں کچھ ایسے ہیں خدا نے ان کے درازگوش کو زندہ کیا، جب کہ اس کا ہر عضو اور جوڑ مرچکا تھا۔ فائده : صاحب قصہ نباتہ بن یزید النخعي صحابی تھے یا نہیں؟ غالب گمان یہ ہے کہ یہ صحابی ہوں گے، حافظ ابن حجر نے الاصابہ میں ان کو دوسری قسم کے تحت ذکر کیاہے، اور اس قسم میں ان لوگوں کا تذکرہ ہے جو آنحضور صلی اللہ علیہ و سلم کے زمانے میں بچے تھے، اور سن شعور میں پہنچنے سے پہلے اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ و سلم دنیا سے پردہ فرماگئے، چونکہ صحابہ کی عام عادت تھی کہ وہ اپنے بچوں کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم کی خدمت میں تحنیک وتبریک وغیرہ کے لیے لایا کرتے تھے، جن سے ان کے صحابی ہونے کا گمان غالب ہوتا ہے اس قسم کے لوگوں کی روایت مرسل کہلاتی ہے. قال الحافظ ابن حجر فی مقدمة الإصابة : اﻟﻘﺴﻢ اﻟﺜﺎﻧﻲ: ﻣﻦ ﺫﻛﺮ ﻓﻲ اﻟﺼﺤﺎﺑﺔ ﻣﻦ اﻷﻃﻔﺎﻝ اﻟﺬﻳﻦ ﻭﻟﺪﻭا ﻓﻲ ﻋﻬﺪ اﻟﻨﺒﻲ ﺻﻠﻰ اﻟﻠﻪ ﻋﻠﻴﻪ ﻭﺳﻠﻢ ﻟﺒﻌﺾ اﻟﺼﺤﺎﺑﺔ ﻣﻦ اﻟﻨﺴﺎء ﻭاﻟﺮﺟﺎﻝ، ﻣﻤﻦ ﻣﺎﺕ ﺻﻠﻰ اﻟﻠﻪ ﻋﻠﻴﻪ ﻭﺳﻠﻢ ﻭﻫﻮ ﻓﻲ ﺩﻭﻥ ﺳﻦ اﻟﺘﻤﻴﻴﺰ، ﺇﺫ ﺫﻛﺮ ﺃﻭﻟﺌﻚ ﻓﻲ اﻟﺼﺤﺎﺑﺔ ﺇﻧﻤﺎ ﻫﻮ ﻋﻠﻰ ﺳﺒﻴﻞ اﻹﻟﺤﺎﻕ، ﻟﻐﻠﺒﺔ اﻟﻈﻦ ﻋﻠﻰ ﺃﻧﻪ ﺻﻠﻰ اﻟﻠﻪ ﻋﻠﻴﻪ ﻭﺳﻠﻢ ﺭﺁﻫﻢ ﻟﺘﻮﻓﺮ ﺩﻭاﻋﻲ ﺃﺻﺤﺎﺑﻪ ﻋﻠﻰ ﺇﺣﻀﺎﺭﻫﻢ ﺃﻭﻻﺩﻫﻢ ﻋﻨﺪﻩ ﻋﻨﺪ ﻭﻻﺩﺗﻬﻢ ﻟﻴﺤﻨﻜﻬﻢ ﻭﻳﺴﻤﻴﻬﻢ ﻭﻳﺒﺮﻙ ﻋﻠﻴﻬﻢ، ﻭاﻷﺧﺒﺎﺭ ﺑﺬﻟﻚ ﻛﺜﻴﺮﺓ ﺷﻬﻴﺮﺓ(الإصابة في تمييز الصحابة 156/1) وقال--الحافظ--: ﻟﻜﻦ ﺃﺣﺎﺩﻳﺚ ﻫﺆﻻء ﻋﻨﻪ ﻣﻦ ﻗﺒﻴﻞ اﻟﻤﺮاﺳﻴﻞ ﻋﻨﺪ اﻟﻤﺤﻘﻘﻴﻦ ﻣﻦ ﺃﻫﻞ اﻟﻌﻠﻢ ﺑﺎﻟﺤﺪﻳﺚ، ﻭﻟﺬﻟﻚ ﺃﻓﺮﺩﺗﻬﻢ ﻋﻦ ﺃﻫﻞ اﻟﻘﺴﻢ اﻷﻭﻝ. (الإصابة:156/1) حوالہ جات ملاحظہ فرمائیں بَابُ مَا جَاءَ فِي الْمُجَاهِدِ فِي سَبِيلِ اللهِ الَّذِي بُعِثَ حِمَارُهُ بَعْدَ مَا نَفَقَ .أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ: الْحُسَيْنُ بْنُ عُمَرَ بْنِ بَرْهَانَ، وَأَبُو الْحُسَيْنِ بْنُ الْفَضْلِ الْقَطَّانُ، وَأَبُو مُحَمَّدٍ الشُّكْرِيُّ، قَالُوا: أَنْبَأَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ مُحَمَّدٍ الصَّفَّارُ، حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ عَرَفَةَ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللهِ بْنُ إِدْرِيسَ، عَنْ إِسْمَاعِيلَ بْنِ أَبِي خَالِدٍ، عَنْ أَبِي سَبْرَةَ النَّخَعِيِّ، قَالَ:أَقْبَلَ رَجُلٌ مِنَ الْيَمَنِ فَلَمَّا كَانَ فِي بَعْضِ الطَّرِيقِ نَفَقَ حِمَارُهُ، فَقَامَ فَتَوَضَّأَ ثُمَّ صَلَّى رَكْعَتَيْنِ، ثُمَّ قَالَ: اللهُمَّ إِنِّي جِئْتُ مِنَ الدَّثَنِيَّةِ مُجَاهِدًا فِي سَبِيلِكَ وَابْتِغَاءِ مَرْضَاتِكَ، وَأَنَا أَشْهَدُ أَنَّكَ تُحْيِي الْمَوْتَى، وَتَبْعَثُ مَنْ فِي الْقُبُورِ، لَا تَجْعَلْ لِأَحَدٍ عَلَيَّ الْيَوْمَ مِنَّةً، أَطْلُبُ إِلَيْكَ أَنْ تَبْعَثَ لِي حِمَارِي، فَقَامَ الْحِمَارُ يَنْفُضُ أُذُنَيْهِ هَذَا إِسْنَادٌ صَحِيحٌ، وَمَثَلُ هَذَا يَكُونُ كَرَامَةً لِصَاحِبِ الشَّرِيعَةِ حَيْثُ يَكُونُ فِي أُمَّتِهِ مِثْلُ هَذَا كَمَا مَضَى فِي الْبَابِ قَبْلَهُ، وَقَدْ رَوَاهُ مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى الذُّهْلِيُّ وَغَيْرُهُ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عُبَيْدٍ، عَنْ إِسْمَاعِيلَ، عَنِ الشَّعْبِيِّ، وكأنه سمعه منهما.(١)دلائل النبوة للبيهقي ٦/٤٨ — أبو بكر البيهقي (ت ٤٥٨)المجلد السادس←جماع أبواب دلائل النبوة سوى ما مضى في هذا الكتاب ما ظهر منها على نبينا محمد ﷺ من وقت الولادة إلى أن بعث بالرسالة ثم من وقت الرسالة إلى وقت الهجرة ثم من وقت الهجرة إلى آخر مغازيه المعروفة وأسفاره المشهورة مؤرخا بتواريخه المنقولة و←باب ما جاء في المجاهد في سبيل الله الذي بعث حماره بعد ما نفق.(٢) البداية والنهاية ت التركي ٩/٣٩٢ — ابن كثير (ت ٧٧٤)سنة إحدى عشرة من الهجرة←فصل: إيراد ما بقي علينا من متعلقات السيرة الشريفة←معجزات لرسول الله ﷺ مماثلة لمعجزات جماعة من الأنبياء قبله←من كرامات الأتقياءواللہ اعلم بالصواب
Tags
تخریج الاحادیث
