https://tagassistant.google.com/#/?url=https%3A%2F%2Fguldastakafi.blogspot.com%2F ایک دلچسپ واقعہ کی تحقیق (عبداللہ بن زید یا عبد الواحد بن زید؟)एक दिलचस्प वाक़िया की तहक़ीक़ (अब्दुल्लाह बिन ज़ैद या अब्दुल वाहिद बिन ज़ैद?)

ایک دلچسپ واقعہ کی تحقیق (عبداللہ بن زید یا عبد الواحد بن زید؟)एक दिलचस्प वाक़िया की तहक़ीक़ (अब्दुल्लाह बिन ज़ैद या अब्दुल वाहिद बिन ज़ैद?)

ایک دلچسپ واقعہ کی تحقیق (عبداللہ بن زید یا عبد الواحد بن زید؟)एक दिलचस्प वाक़िया की तहक़ीक़ (अब्दुल्लाह बिन ज़ैद या अब्दुल वाहिद बिन ज़ैद?)

ایک دلچسپ واقعہ کی تحقیق 

سوال

ہماری تاریخ میں بہت بڑا خوبصورت نام عبداﷲ بن زید رحمۃ ﷲ علیہ کا ہے۔ آپ نے ساری زندگی نکاح نہیں کیا، جوانی گزر گئی بڑھاپا آیا ایک دن بیٹھے حدیث مبارکہ پڑھ رہے تھے تو اس میں نبی کریم صلی اﷲ علیہ وآلہ وسلم کا فرمان پڑھا جس کا مفہوم یہ تھا کہ:''جنت میں کوئی اکیلا نہیں ہو گا جو نکاح کی عمر میں نہیں پہنچا یا پہنچا بھی تو کسی وجہ سے نہیں ہوا اور وہ مسلمان ہی مرا تو ﷲ مسلمان مردوں اور عورتوں کا جنت میں آپس میں نکاح کر دے گا''۔

جب یہ حدیث پاک نظر سے گزری تو دل میں خیال آیا کہ یہاں تو نکاح نہیں کیا، لیکن جنت میں تو نکاح ہونا ہی ہونا ہے، تو جنت میں میری بیوی کون ہو گی؟ دعا کی کہ یا ﷲ! مجھے دکِھا تو سہی جنت میں میری بیوی کون ہو گی؟

پہلی رات دعا قبول نہیں ہوئی، دوسری رات بھی دعا قبول نہیں ہوئی، تیسری رات دعا قبول ہو گئی، خواب میں کیا دیکھتے ہیں: کالے رنگ کی عورت ہے حضرت بلال حبشی کے دیس کی رہنے والی ہے اور وہ کیا کہتی ہے کہ:''میں میمونہ ولید ہوں اور میں بصریٰ میں رہتی ہوں''۔

پتہ مل گیا آنکھ کھلی حضرت کی تہجد کا وقت تھا نوافل پڑھے نماز فجر باجماعت ادا کی اور سواری لے کر حضرت عبداﷲ بن زید بصریٰ گئے وہاں لوگوں نے بڑا استقبال کیا حضرت کا نام ہی بہت بڑا تھا بیٹھا کر پوچھا حضرت بتائے بغیر کیسے آنا ہوا خیر تو ہے آپ نے پوچھا یار یہ تو بتاؤ یہاں کوئی میمونہ ولید رہتی ہے،لوگوں نے حیران ہو کر پوچھا حضرت آپ اتنے دٗور سے چل کر میمونہ ولید سے ملنے آئے ہیں؟ آپ نے فرمایا کیوں؟ اُس سے کوئی نہیں مل سکتا؟ نہیں حضور وہ تو دیوانی ہے لوگ اُسے پتھر مارتے ہیں، حضور نے پوچھا کیوں مارتے ہیں حضور کام ہی ایسی کرتی ہے: کوئی رو رہا ہو تو اسے دیکھ کر ہنسنے لگتی ہے اور کوئی ہنس رہا ہو تو رونا شروع کر دیتی ہے اور وہ اجرت پر پیسے لیکر لوگوں کی بکریاں چڑاتی ہے، آج بھی وہ ہماری بکریاں لیکر جنگل میں گئی ہے، آپ آرام فرمائیں عصر کے بعد آ جائے گی ،آپ مل لیجیے گا۔

حصْرت نے فرمایا عصر کس نے دیکھی؟ کہا وہ کس سمت گئی ہے لوگوں نے کہا حضور جنگل نہ جائیں بہت خوفناک جنگل ہے آپ نے فرمایا بتاؤ کس طرف گئی ہے لوگوں نے بتایا۔

 آپ فرماتے ہیں کہ میں نکل گیا آپ فرماتے ہیں کہ جب میں جنگل گیا واقع ہی خوفناک جنگل تھا جنگلی جانوروں کی بھرمار تھی قدم قدم پر کوئی نہ کوئی چیز کھڑی ہے آپ فرماتے ہیں کہ قربان جاؤں اس عورت کی مردانگی پر وہ اس جنگل میں کس طرح بکریاں چرا رہی ہے شیروں نے اس کی بکریوں کو ابھی تک کھایا نہیں اتنے درندے ہیں سارے مل کر حملہ کر دیں تو کیا کرے یہ اکیلی عورت کس کس کو روکے گی؟ خیر آپ فرماتے ہیں کہ وہ جگہ جہاں لوگوں نے مجھے بتائی تھی میں وہاں پہنچ گیا جب میں وہاں پہنچا تو منظر دیکھ کر میں حیران رہ گیا دو حیران کر دینے والے منظر تھے۔

پہلا یہ کہ میمونہ ولید ؒ بکریاں نہیں چرا رہی تھی بلکہ اُس جنگل میں جائے نماز بچھا کر نوافل پڑھ رہی تھی پر بکریاں چرانا تو بہانہ تھا یہ تو بہانہ تھا کنارہ کشی کا، لوگ یہی سمجھتے تھے میمونہ سارا دن بکریاں چراتی ہے لیکن میمونہ بکریاں نہیں چرا رہی تھی۔

دوسرا کیا دیکھا کہ میمونہ تو نماز پڑھ رہی ہیں پھر بکریاں کون چرا رہا ہے بکریاں تو ایک جگہ نہیں رکتیں کہیں اِدھر جاتی ہیں کہیں اُدھر آپ فرماتے ہیں کہ میمونہ نماز پڑھ رہی تھی اور شیر بکریاں چرا رہے ہیں بکریاں چر رہی ہیں شیر انکے اردگرد گھوم رہے ہیں اگر کوئی بکری بھاگتی ہے اس کی فطرت ہے شرارت کرنا تو شیر اُسے پکڑ کر واپس لے آتا ہے لیکن کہتا کچھ نہیں۔

آپ فرماتے ہیں میں حیران و پریشاں کھڑا تھا کہ یہ کیسے ہو گیا ہے یہ فطرت کیسے بدل گئی لوگ کہتے ہیں فطرت نہیں بدلتی یہ شیروں اور بکریوں میں یاری کیسے ہو گئی آپ فرماتے ہیں میں دنگ حیران و پریشان کھڑا ہوں مجھے نہیں پتہ کہ کب میمونہ ولید نے نماز ختم کر دی اور مجھے مخاطب کر کے کہتی ہیں کہ:''اے عبدﷲ ملنے کا وعدہ تو جنت میں تھا آپ یہاں آ گئے''۔

آپ فرماتے ہیں میں حیران رہ گیا اس سے پہلے تو ملاقات بھی نہیں ہوئی تو حضرت میمونہ ولید  کو میرا نام کیسے پتہ چل گیا

تو آپ فرماتے ہیں کہ میں نے حضرت میمونہ ولیدؒ سے سوال کیا اِس سے پہلے ہم ملے نہیں ملاقات نہیں ہوئی ہماری تو میرا نام کیسے پتہ چلا آپ کو تو جواب کیا ملا حضرت میمونہ ولیدؒ فرماتی ہیں عبدﷲ جس ﷲ نے رات کو تجھے میرے بارے میں بتایا ہے اُسی ﷲ نے مجھے آپ کے بارے میں بتایا ہے۔

آپ فرماتے ہیں کہ جس چیز نے مجھے سب سے زیادہ حیران کیا وہ یہ تھا کہ یہ فطرت کیسے بدلی میں نے حضرت میمونہ ولید ؒ سے پوچھا آپ یہ تو بتاؤ یہ شیروں نے بکریوں کے ساتھ یاری کیسے کر لی یہ تو غذا ہے ان کی اگر شیر بکریوں کے ساتھ یاری لگائے گا تو کھائے گا کیا یہ کیسے معاملہ ہو گیا تو حضرت میمونہ ولید ؒ فرماتی ہیں جب سے میں نے رب سے صلح کر لی ہے اُس دن سے اِن شیروں نے بھی میری بکریوں کے ساتھ صلح کر لی ہے۔

!سبحان اللہ 

الجواب وباللہ التوفیق : 

١) سوال میں ذکر کردہ واقعہ حضرت عبداللہ ابن زید رحمۃ اللہ علیہ کے نام سے مشہور ہے، لیکن حقیقت میں یہ واقعہ جن کتابوں میں موجود ہے ، وہاں پر عبداللہ کی بجائے (عبد الواحد بن زید) یہ نام مذکور ہے اور یہی صحیح ہے جیسا کہ امام ذہبی نے بھی یہی نام ذکر فرمایا ہے۔

اور واعظین نے اصل واقعہ میں بہت کمی بیشی اور تحریف و تبدیلی بھی کی ہے ، جو کہ اصل کتاب میں موجود نہیں ہے، لہذا جو ترجمہ واقعے کا نیچے ذکر کیا جائے گا، اسے ہی بیان کیا جائے اور جو کمی زیادتی ہے اس کے بیان کرنے سے اجتناب کیا جائے ۔ 

۲) مذکورہ واقعے کو امام ابو نعیم اصبہانی رحمۃ اللہ علیہ نے اپنی سند سے (حلية الأولياء وطبقات الأصفياء - ط السعادة رقم ٤٤) میں اور امام ابن الجوزی نے (تنوير الغبش في فضل السودان والحبش ص ٢٢٢) میں اور (صفة الصفوة له ج ٢ ص ١١٥) میں ، اور امام ابن عساكر نے (تاريخ دمشق  رقم ٤٣١٧) میں ذکر فرمایا ہے ، تحریف اور کمی بیشی کے بغیر اصل واقعہ مختصرا کچھ اس طرح ہے : 

٣) صحیح واقعہ : حضرت فضیل بن عیاض رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں کہ حضرت عبدالواحد بن زید رحمۃ اللہ علیہ نے فرمایا کہ میں نے اللہ سے تین راتوں تک دعا کی کہ وہ مجھے یہ دکھا دے کہ جنت میں میرا رفیق کون ہے ؟

تو میں نے ایک کہنے والے کو سنا جو مجھ سے کہہ رہا تھا کہ اے عبدالواحد !  جنت میں تیرا رفیق میمونہ سوداء ہو گی 

میں نے کہا کہ وہ کہاں ہے ؟

تو اس نے کہا کہ وہ کوفہ شہر میں فلاں قبیلے میں ہے۔

 فرماتے ہیں کہ میں کوفہ کی طرف نکل گیا اور اس کے بارے میں پوچھا تو کہا گیا کہ وہ ایک مجنون عورت ہے، اس کے پاس کچھ بکریاں ہیں جنہیں وہ چراتی ہے۔

 تو میں نے کہا کہ میں اسے دیکھنا چاہتا ہوں، تو لوگوں نے کہا کہ فلاں جگہ پر جاؤ۔ 

چنانچہ میں گیا تو وہاں پر دیکھا کہ وہ نماز پڑھ رہی تھی اور اس کے اوپر ایک اونی کپڑا تھا جس پر لکھا ہوا تھا کہ : 

" یہ نہ خریدا جائے گا نہ بیچا جائے گا"

 اور بکریاں بھیڑیوں کے ساتھ تھیں۔

 نہ بھیڑیے بکریوں کو کھاتے اور نہ بکریاں بھیڑیوں سے خوف کھاتیں

 چنانچہ جب اس نے مجھ کو دیکھا تو نماز کو مختصر کردیا اور مجھ سے کہا اے ابن زید !  یہاں سے چلے جاؤ 

" ملاقات کا وعدہ دنیا کا نہیں بلکہ آخرت کا ہے "

 تو میں نے کہا کہ اللہ تم پر رحم کرے تم مجھے کیسے جانتی ہوں؟

 اس نے کہا کہ کیا آپ نہیں جانتے کہ روحیں لشکر کی طرح ہیں ، وہ مجھ سے مانوس ہوتی ہیں انہیں پہچانتی ہیں .

 میں نے اس سے کہا کہ مجھے نصیحت کرو 

تو اس نے کہا کہ 

تعجب ہے ایسے نصیحت کرنے والے پر جسے نصیحت کی جائے !

اے ابن زید ! جس شخص کو دنیا کی کوئی چیز دی جائے اور وہ اس کی دوبارہ تمنا کرے تو اس شخص سے خلوت کی محبت اللہ تعالی چھین لیتا ہے اور اسے قرب کے بعد دوری اور انسیت کے بعد وحشت دے دیتا ہے۔

 :پھر میمونہ سوداء نے عربی زبان میں ایک شعر کہا 

اس کے بعد میں نے اس سے کہا کہ میں ان بھیڑیوں کو بکریوں کے ساتھ دیکھتا ہوں 

نہ بکریاں بھیڑیوں سے خوف کھاتی ہے اور نہ ہی بھیڑیے بکریوں کو کھاتے ہیں؟

 تو اس نے کہا کہ میں نے اپنے اور اپنے آقا کے درمیان صلح کرلی تو اس نے بھیڑیوں اور بکریوں کے درمیان صلح کرا دی . 

٤) مذکورہ واقعے کو امام ابو نعیم اصبہانی نے درج ذیل سند سے ذکر کیا ہے : 

حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْعُثْمَانَيُّ، ثَنَا أَبُو الْحَسَنِ مُحَمَّدُ بْنُ أَحْمَدَ، ثَنَا عُمَرُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ يُوسُفَ، قَالَ: سَمِعْتُ أَبَا جَعْفَرٍ الصَّفَّارَ، يَقُولُ: سَمِعْتُ الْفَيْضَ بْنَ إِسْحَاقَ الرَّقِّيَّ، يَقُولُ: سَمِعْتُ الْفُضَيْلَ بْنَ عِيَاضٍ، يَقُولُ: قَالَ عَبْدُ الْوَاحِدِ بْنُ زَيْدٍ الخ.......! 

اس سند میں کوئی بھی راوی کذاب یا متہم بالکذب یا متروک نہیں ہے اور واقعات کے لئے سند کا ہونا بھی ضروری نہیں ہوتا ،لہذا مذکورہ واقعے کو بیان کیا جاسکتا ہے ، البتہ تحریف اور کمی بیشی کے بغیر بیان کیا جائے . 

 (حلية الأولياء وطبقات الأصفياء - ط السعادة رقم ٤٤)

وكذا ذكره ابن الجوزي في (تنوير الغبش في فضل السودان والحبش ص ٢٢٢) و في (صفة الصفوة له ج ٢ ص ١١٥) ، و ابن عساكر في (تاريخ دمشق  رقم ٤٣١٧) . 

٦) عبدالواحد بن زید رحمۃ اللہ علیہ اگرچہ بڑے صوفی ، زاہد اور عبادت گزاروں کے شیخ تھے، لیکن فن حدیث میں ان کی روایت میں شدید غلطیاں ہوتی تھیں ، چنانچہ امام ذہبی رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں کہ ان کی حدیث محدثین کے نزدیک (واہی) کی قسم سے ہے 

 امام بخاری فرماتے ہیں کہ محدثین نے انہیں ترک کردیا۔

 اور امام نسائی فرماتے ہیں کہ یہ متروک الحدیث ہیں۔

 اس سلسلے میں امام ابن حبان کا قول زیادہ مناسب معلوم ہوتا ہے، چنانچہ وہ فرماتے ہیں کہ حضرت عبد الواحد بن زید ان لوگوں میں سے تھے جن پر عبادت کا غلبہ ہوگیا تھا، چنانچہ وہ اتقان اور پختگی سے غافل ہوگئے، جس کی وجہ سے ان کی حدیث میں منکر روایتوں کی کثرت ہوگئی۔

لہذا وہ فن حدیث کے باب میں متروک کے درجے میں ہیں، لیکن وعظ و نصیحت سے متعلق ان کا یہ عالم تھا کہ امام ذہبی رحمۃ اللہ علیہ نے ان کا یہ واقعہ ذکر کیا ہے کہ ایک مرتبہ وہ وعظ کر رہے تھ،ے تو ایک شخص نے پکار کر کہا کہ رک جاؤ ! 

تم نے میرے دل کو چیر دیا ہے۔

 لیکن حضرت عبدالواحد بن زید رحمۃ اللہ علیہ نے اس کی طرف توجہ نہیں کی اور نصیحت کرتے رہے، تو اس شخص کی سانس رکنے لگی اور وہ مر گیا......! 

عبد الواحد بن زيد الزَّاهِدُ, القُدْوَةُ شَيْخُ العُبَّادِ أَبُو عُبَيْدَةَ البَصْرِيُّ 

وَحَدِيْثُه مِنْ قَبِيْلِ الوَاهِي عِنْدَهُم.

قَالَ البُخَارِيُّ: تَرَكُوْهُ.، وَقَالَ النَّسَائِيُّ: مَتْرُوْكُ الحديث.، وقال ابن حِبَّانَ: كَانَ مِمَّنْ غَلَبَ عَلَيْهِ العِبَادَةُ حَتَّى غَفِلَ عَنِ الإِتقَانِ فَكَثُرَتِ المَنَاكِيْرُ فِي حَدِيْثِهِ

وَعَنْ رَجُلٍ قَالَ: وَعَظَ عَبْدُ الوَاحِدِ فَنَادَى رَجُلٌ: كُفَّ فَقَدْ كَشَفْتَ قِنَاعَ قَلْبِي. فَمَا الْتَفَتَ، وَمَرَّ فِي المَوْعِظَةِ فَحَشْرَجَ الرَّجُلُ، وَمَاتَ فَشَهِدتُ جِنَازَتَه.

(سير أعلام النبلاء ج ٦ ص ٥٥٧)

فقط

واللہ تعالی اعلم 

وکتبہ ابواسامہ حنفی ملی غفرلہ 

١٧/ذی الحجۃ/١٤٤٣ھ

١٧/جولائی/۲۰۲۲ء

Post a Comment

Previous Post Next Post