https://tagassistant.google.com/#/?url=https%3A%2F%2Fguldastakafi.blogspot.com%2F بن بیاہی حاملہ عورت کا نکاح، زانیہ کی شادی

بن بیاہی حاملہ عورت کا نکاح، زانیہ کی شادی

بن بیاہی حاملہ عورت کا نکاح 

 جناب مفتی صاحب! بن بیاہی حاملہ عورت کا نکاح اگر اس مرد سے ہوجائے (عورت کے بقول) جس کا وہ حمل ہے، تو صحت کے اعتبار سے نکاح کا کیا حکم ہے اور بچہ کا کیا حکم ہے، آیا بچہ حرام ہے   اور حمل کا اسقاط کرانا صحیح ہے یا اسقاط نہ کرانا  براہ مہربانی تسلی بخش جواب مرحمت فرمائیں۔

 بسم اللہ الرحمٰن الرحیم 

الجواب و باللہ التوفیق 

زانیہ عورت کا حالت حمل میں زانی سے نکاح درست ہے۔باقی زنا کرنے کی وجہ سے حمل ٹھہرنے کے بعد زانی سے نکاح کرنے کی صورت میں اگر نکاح کے چھ مہینے بعد اس حمل سے بچہ پیدا ہو، تو وہ بچہ ثابت النسب ہوگا، لیکن اگر نکاح کے بعد چھ ماہ گزرنے سے پہلے ہی بچہ پیدا ہوگیا، تو پھر اس بچہ کا اس زانی سے نسب ثابت نہیں ہوگا اور وہ بچہ ولد الزنا ہی کہلائے گا۔ 

البتہ اس صورت میں  اگر زانی اس بچے کے باپ ہونے کا اقرار کرلیتا ہے اور زنا کا ذکر نہیں کرتا تو بھی اس بچے کا نسب اس سے ثابت ہوجائے گا۔

مذکورہ صورت میں اسقاط حمل جائز نہیں ہے، بلکہ ان دونوں کا ایک دوسرے سے نکاح ہی بہتر ہے ۔

الدر المختار وحاشية ابن عابدين (رد المحتار) (3/ 49):

"لو نكحها الزاني حل له وطؤها اتفاقاً، والولد له ولزمه النفقة.

 (قوله: والولد له) أي إن جاءت بعد النكاح لستة أشهر، مختارات النوازل، فلو لأقل من ستة أشهر من وقت النكاح لايثبت النسب، ولايرث منه إلا أن يقول: هذا الولد مني، ولايقول: من الزنى، خانية. والظاهر أن هذا من حيث القضاء، أما من حيث الديانة فلايجوز له أن يدعيه؛ لأن الشرع قطع نسبه منه، فلايحل له استلحاقه به، ولذا لو صرح بأنه من الزنى لايثبت قضاءً أيضاً، وإنما يثبت لو لم يصرح؛ لاحتمال كونه بعقد سابق أو بشبهة حملاً لحال المسلم على الصلاح، وكذا ثبوته مطلقاً إذا جاءت به لستة أشهر من النكاح؛ لاحتمال علوقه بعد العقد، وأن ما قبل العقد كان انتفاخاً لا حملاً، ويحتاط في إثبات النسب ما أمكن". 

 فقط واللہ اعلم باالصواب 

Post a Comment

Previous Post Next Post