https://tagassistant.google.com/#/?url=https%3A%2F%2Fguldastakafi.blogspot.com%2F کنکریوں نے کلمہ پڑھا, یہ والی روایت کی تحقیق:

کنکریوں نے کلمہ پڑھا, یہ والی روایت کی تحقیق:

 

کنکریوں نے کلمہ پڑھا

سوال: حدیثوں میں آتا ہے کہ ابو جہل ایک دفعہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں آیا اور کہا کہ میرے ہاتھ میں کیا ہے، اگر آپ بتا دیں تو میں ایمان لے آوں گا۔

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ یہ بھی ہو سکتا ہے کہ میں بتاؤں کہ تیرے ہاتھ میں کیا ہے اور یہ بھی ممکن ہے کہ تیرے ہاتھ کی چیز خود بتادے کہ میں کون ہوں؟ اس کے بعد فرمایا کہ اپنے ہاتھ کو اپنے کان کے قریب لے جاؤ ، وہ جب اپنے کانوں کے قریب لے گیا، تو ہاتھ کی کنکریوں سے آواز آرہی تھی ) لیکن اس پر اسے ہدایت نہیں ملی ، اس نے ہاتھ کی کنکریوں کو پھینک دیا اور کہنے لگا کہ محمد کا جادو کنکریوں پر بھی چل گیا۔ دیکھئے ابو جہل ہدایت پانا نہیں چاہتا تھا ؟ اس لئے رسول الله صلى الله عليه وسلم کا معجزہ بھی اس کے کام نہ آیا۔

کیا یہ روایت درست ہے، راہنمائی فرمائیں۔ 

جواب: 

 عنوان :آپ ﷺکے فرمانے پرابوجہل کے ہاتھوں میں کنکریوں کا آپ ﷺ کی شہادت دینا۔ 

 ایک دفعہ ابوجہل آپ ﷺ کی خدمت میں مٹھی میں کنکریاں چھپا کر لایا، اور کہا کہ اگر آپ ﷺ سچے نبی ہیں تو بتائیں کہ میرے ہاتھ میں کیا ہے، آپ ﷺ نے فرمایا میں بتاؤں یا یہ خود بتائیں، اس پر کنکریوں نے آپ ﷺ کی رسالت کی گواہی دی۔

روایت کا مصدر

عارف باللہ مولانا جلال الدین محمد رومیرحمتہ اللہ علیہ (المتوفی 672ھ) ’’مثنوي‘‘[1] میں لکھتے ہیں:

’’اظہار معجزہ پیغمبر علیہ السلام،و سخن آمدنِ سنگریزہ در دستِ ابوجہل، و گواہی دادن برسالتِ آنحضرت ﷺ

سنگہا اندر در کفِ بوجہل بود، گفت اے احمدﷺ بگو ایں چیست زود؟ گر رسولی چیست در دستم نہاں؟ چوں خبر داری ز راز آسماں، گفت چوں خواہی بگویم کانچہاست؟ یا بگویند آنکہ ما حقیم و راست، گفت بوجہل آں دوم نادر ترست، گفت آرے حق ازاں قادر ترست، گفت شش پارہ حجر در دست تست، بشنو از ہر یک تو تسبیح درست، از میان مشت او ہر پارہ سنگ، در شہادت گفتن آمد بے درنگ، لا الہ گفت و الا اللہ گفت، گوہر احمد رسول اللہ سفت، چوں شنید از سنگہا بوجہل ایں، زد خشم آں سنگہاں را بر زمیں، گفت نبود مثل تو ساحر دگر، ساحران را سر توئی و تاج سر، چوں بدید آں معجزہ بوجہل تفت، گشت در خشم و بسوئے خانہ رفت، رہ گرفت و رفت از پیش رسولﷺ، اوفتاد اندر چہ آں زشت سفول، معجزہ را دید و شد بدبخت و رفت، سوئے کفر و زندقہ شد تیز رفت، خاک بر فرقش کہ بد کور و لعیں، چشم او ابلیس آمد خاک بیں‘‘۔

پیغمبر ﷺ کا معجزہ ظاہر کرنا، اور سنگ ریزوں کا ابوجہل کے ہاتھ میں بات کرنا، اور گوہی دینا آنحضرت ﷺ کی رسالت پر:۔

سنگ ریزے ابوجہل کی مٹھی میں تھے، بولا اے احمد ﷺجلد بتا یہ کیا ہے؟ اگر تو رسول ہے میرے ہاتھ میں کیا چھپا ہے؟ جبکہ آسمان کے راز کا تو خبر دار ہے، فرمایا: تو کیا چاہتا ہے، میں بتاؤں کہ وہ کیا ہے؟ یا وہ کہیں کہ ہم برحق اور سچے ہیں، ابوجہل نے کہا: دوسری بات زیادہ انوکھی ہے، فرمایا: ہاں (اللہ تعالی) اس سے زیادہ پر قادر ہے، فرمایا: تیرے ہاتھ میں پتھر کے چھ ٹکڑے ہیں، اور ہر ایک سے تو صحیح تسبیح سن لے، اس کی مٹھی میں ہر سنگریزے نے فوراً کلمہ شہادت پڑھنا شروع کردیا، لا الہ کہا اور الا اللہ کہا، احمد رسول اللہ کا موتی پرویا، ابوجہل نے پتھروں سے جب یہ سنا، غصہ سے ان پتھروں کو زمین پر دے مارا، بولا تجھ جیسا کوئی دوسرا جادوگر نہ ہوگا، تو ساحروں کا سردار اور سرتاج ہے، جب ابوجہل نے وہ معجزہ دیکھا، جل گیا، غصہ میں بھر گیا، اور گھر کی طرف چلا گیا، راستہ لیا، اور رسولﷺ کے سامنے سے چلا گیا، وہ بدبخت، پست فطرت کنویں میں جا گرا، معجزہ دیکھا، اور مزید بدبخت اور سخت ہوگیا، کفر اور بےدینی کی طرف تیز رو ہوگیا، اس کے سر پر خاک، کیونکہ اندھا اور ملعون تھا، اس کی آنکھ خاک کو دیکھنے والا شیطان ثابت ہوئی۔

 روایت کا حکم 

تلاش بسیار کے باوجودمذکورہ روایت سند اًتاحال ہمیں کہیں نہیں مل سکی اورجب تک اس کی کوئی معتبر سند نہ ملے، اسے آپ ﷺ کے انتساب سے بیان کرنا موقوف رکھا جائے، کیونکہ آپﷺ کی جانب صرف ایساکلام اور واقعہ ہی منسوب کیا جاسکتا ہے، جومعتبر سند سے ثابت ہو۔

غیر معتبر روایات کا فنی جائزہ (حصہ چہارم)

[1] مثنوي مولوي معنوي:1/234،مترجم:قاضي سجاد حسين،حامد ايند كمبني ـ لاهور

واللہ اعلم بالصواب

Post a Comment

Previous Post Next Post