https://tagassistant.google.com/#/?url=https%3A%2F%2Fguldastakafi.blogspot.com%2F مقابلہ جاتی امتحانات اور ہماری حصہ داری

مقابلہ جاتی امتحانات اور ہماری حصہ داری

مقابلہ جاتی امتحانات اور ہماری حصہ داری (گلدستہ کافی)

 مقابلہ جاتی امتحانات اور ہماری حصہ داری

عمر کے ساتھ معاشی الجھنوں کا سامنا اور نت نئے چیلنجز اور حالات سے واسطہ پڑتا رہتا ہے۔

(مقابلہ جاتی امتحانات میں پیش آمدہ لغات)

دنیاوی تعلیم سے وابستہ حضرات تو بہت حد تک اپنی دنیاوی راہیں ہموار کرلیتے ہیں، لیکن دینی تعلیم سے لیس حضرات معاشی طور بہت زیادہ پریشان حال رہتے ہیں، تنگدستی، زبوں حالی اور فقر و فاقہ کا کالا سایہ چھٹنے کا نام نہیں لیتا اور ایسا اس لیے ہوتا ہے کہ تعلیم کے دوران ان کی صحیح راہنمائی نہیں کی جاتی، چہار دیواری سے نکلنے کے بعد عملی زندگی کے مسائل و مشکلات سے آگاہ نہیں کیا جاتا، تعلیم کے مطابق روزگار پانے، نوکریاں حاصل کرنے کے طور و طریق اور امکانات نہیں بتائے جاتے۔

حالاں کہ مدرسہ سے فارغ التحصیل حضرات بھی اچھے عہدے پر فائز ہیں، معاشی و مالی حالات بھی بہتر ہیں، تجارت و زراعت میں بھی خوب خوب کامیاب ہیں اور درس و تدریس تو اپنا میدان ہے، لیکن ان کے علاوہ نو فارغین علمائے عظام جو مدرسہ مسجد کی ملازمت کو ذریعہ معاش بنانا نہیں چاہتے، مہتمم کی چاپلوسی، چندہ کی جھنجھٹ پالنا نہیں چاہتے، مسجد کے نمازی اور متولی کی لعن طعن اور جی حضوری سے بچنا چاہتے ہیں، تو آپ مقابلہ جاتی امتحانات میں شرکت کرکے بآسانی سرکاری نوکری لے سکتے ہیں، اپنوں کے بیچ میں رہ کر خوش حال اور کامیاب و کامران والی زندگی گزار سکتے ہیں، خود کے کام آ سکتے ہو اور ملک و ملت کی بھی خدمت کرسکتے ہیں، لیکن اس کے لئے شرط ہے کہ آپ سرکاری نوکریوں کو شجر ممنوعہ نہیں سمجھتے ہوں اور آپ درس نظامی کے ساتھ کسی منظور شدہ بورڈ سے بھی سند (ڈگری) حاصل کیے ہوں۔

آپ بالکل سنجیدہ رہیں، قطعاً گھبرائے نہیں، یہ سوچ سوچ کر ہلکان مت ہوئیے کہ مقابلہ جاتی امتحانات کے نصاب سے کبھی ہمارا واسطہ پڑا ہی نہیں ہے، اس لئے اس میدان میں کودنا، اس کے چکر میں پڑنا حماقت کی بات ہوگی۔

یاد رکھیے! آپ کی بات درست ہے کہ کبھی اس سے آپ کا سابقہ نہیں پڑا ہے، لیکن اتنا بھی مشکل اور کٹھن نہیں ہے، جس کا حصول محال ہے، جبکہ اس سے کہیں زیادہ مشکل اور مغلق نصاب نحو، صرف، انشاء، عروض، بلاغت، منطق، فلسفہ، فقہ، حدیث اور تفسیر کی کتابوں کی ورق گردانی کرچکے ہیں، جو ہر اعتبار سے ان نصابوں سے بالا تر ہے، آپ کی ہلکی سی کوشش، محنت، لگن اور تگ و دو منزل کو آسان اور سہل بنادے گی۔

سرکاری مقابلہ جاتی امتحانات میں سب سے بہتر اور فطری شعبہ "شعبہ تعلیم" ہے، کیوں کہ یہ ہم سب اقرب ہے؛ لیکن پرائمری ٹیچر (ماسٹر) جو ایک کلاس سے پانچ کلاس (1 - 5) تک طلبہ و طالبات کو پڑھانے پر معمور ہوتا ہے، یہ ٹیچر بننا تھوڑا دشوار ہے، اس لئے کہ اس میں بارہویں جماعت تک سبھی سبجیکٹ کا نالج ہونا ضروری ہے، اس کے بعد دو سال کا ٹیچنگ ڈپلومہ یعنی ڈی ایل ایڈ پھر اہلیتی ٹسٹ یعنی ٹی ای ٹی بعدہ بی پی ایس سی یا دیگر صوبہ جاتی امتحانات پاس کرکے پرائمری ٹیچر بن سکتے ہیں۔ 

یہ تھوڑا دشوار اس معنی کر ہے کہ پرائمری سطح پر آپ کسی مخصوص سبجیکٹ کے استاذ نہیں بنیں گے؛ بلکہ سبھی سبجیکٹ کو پڑھنا پڑھانا ہوتا ہے۔

مڈل اسکول ٹیچر بننے کے لئے آپ کے پاس گریجویشن لیول یعنی عالم یا اس سے اوپر کی ڈگری کا ہونا لازمی ہے، اس کے بعد بی ایڈ، پھر اہلیتی امتحانات سی ٹیٹ، ایس ٹی ای ٹی بعدہ بی پی ایس سی یا دیگر صوبہ جاتی امتحانات پاس کر کے مڈل اسکول ٹیچر بن سکتے ہیں، یہ امتحانات پاس کرنا قدرے آسان ہے، اس لئے کہ اس میں آپ اپنا مخصوص مضمون لے سکتے ہیں، جس میں آپ کو مہارت حاصل ہو، جیسے اردو، فارسی، عربی، ہندی وغیرہ۔

ہائی اسکول و +2 ٹیچر بننے کے لئے آپ کو گریجویشن (عالم) مع بی ایڈ کے ساتھ اہلیتی ٹیسٹ یعنی ایس ٹی ای ٹی اور اس کے بعد بی پی ایس سی یا دیگر صوبہ جاتی امتحانات پاس لازم و ضروری ہے اور یہ اور کے مقابلے زیادہ آسان ہے، اس لئے کہ یہاں آپ سے وہی سبجیکٹ سے سوالات کیے جائیں گے، جس کے آپ ٹیچر بننا چاہتے ہیں۔

اسسٹنٹ پروفیسر بننے کے لئے آپ کے پاس پوسٹ گریجویٹ (فاضل / ایم اے) کی ڈگری چاہیے، اس کے بعد نیٹ کا امتحان پاس کرنا ہوگا، جو آپ کے عزم و ہمت سے بڑھ کر نہیں ہے۔

یہ چند نگارشات ہیں، جو مخلصانہ طور پہ آپ جیسے اوالعزم، نیک طینت اور مخلص دوست احباب کے گوش گزار کرنے کی کوشش کی ہے، امید ہے کہ متانت و سنجیدگی سے اس پر غور و خوض کریں گے اور اپنے بہترین مستقبل کے لئے لائحہ عمل تیار کریں گے۔

پروں کو کھول زمانہ اڑان دیکھتا ہے

زمیں پہ بیٹھ کے کیا آسمان دیکھتا ہے

غافل نہ ہو خودی سے، کر اپنی پاسبانی

شاید کسی حرم کا تُو بھی ہے آستانہ


1 Comments

Previous Post Next Post