علم نحو کی اہمیت و افادیت کے بارے میں اس سے قبل ہم نے جانا کہ عربی زبان سیکھنے، پڑھنے اور سمجھنے میں اس کا کتنا اہم رول ہے؟
اب آئیے! علم نحو کی وجہ تدوین جاننے کی کوشش کرتے ہیں: محمد عربی صلی اللہ علیہ والہ وسلم کی رحلت کے بعد دین اسلام رفتہ رفتہ عرب سے نکل کر عجم میں بھی پھیلنے لگا، چوں کہ ہر کوئی عربی سے واقف نہیں تھا، اس لئے لوگوں نے عربی زبان میں خلط ملط کرنے کے ساتھ ساتھ قرآن و احادیث میں بھی غلطیاں کرنے لگا۔
واقعہ مشہور ہے کہ ایک اعرابی نیا نیا مسلمان ہو کر مسجد نبوی کے دروازے پر پہونچا، تو مسجد کے اندر کوئی تلاوت کر رہا تھا، جب اس نے سورہ توبہ کی یہ آیت "ان اللہ بریٌ من المشرکینِ و رسولہٗ" جس کا ترجمہ ہے بلاشبہ اللہ تعالیٰ مشرکین سے بیزار ہے اور اللہ کے رسول بھی۔
تلاوت کرنے والا نے "رسولہ" میں رفع کے بجائے جر پڑھا، جس کا ترجمہ ہوا بلاشبہ اللہ تعالیٰ بیزار ہے مشرکین سے اور اپنے رسول سے بھی( نعوذبااللہ)، جب اعرابی یہ آیت سنی، تو اس نے سوچا کہ جب اللہ اپنے رسول سے بیزار ہے، تو مجھے ایمان لانے کا فائدہ نہیں، اس لئے وہ مرتد ہوکر لوٹ گیا۔
ایک بزرگ ہے ابو الاسود دویلی اس واقعہ کی خبر ان تک پہونچی، تو انہوں نے اس کو حضرت علی کرم اللہ وجہ سے بیان کیا اور فرمایا: "نحوتُ اَن أضعَ میزانا للعربِ لیتقوموا بہ لسانَہ" یعنی میں ایسے اصول بنانا چاہتا ہوں، جس سے لوگ عربی زبان کو درست رکھ سکے۔
حضرت علی رضی اللہ عنہ نے بھی کہا کہ "اَقصدُ نحوَہٗ" یعنی میں بھی اس کا ارادہ رکھتا ہوں۔
ایک اور واقعہ مشہور ہے، جس کو بیان کر دینا بھی مناسب سمجھتا ہوں: ایک شخص کسی کی میت پر گیا اور اس نے پوچھنا چاہا کہ کس کا انتقال ہوگیا ہے، لیکن اس نے عربی میں یوں بولا "مَن المتوفِّیْ" جس کا مطلب ہے مارنے والا کون ہے؟
لوگوں نے کہا اللہ تعالیٰ، تو اس شخص نے جواب دیا، اللہ تعالیٰ کی ذات تو ہمیشہ زندہ رہنے والی ہے۔
پھر اس شخص نے بولا میں یہ کہہ رہا ہوں: کس کا انتقال ہوا ہے؟
لوگوں نے کہا پھر آپ کو اسم مفعول کا صیغہ استعمال کرنی چاہیے تھی( مَن المتوفّی') یعنی مرنے والا کون ہے؟
بہرحال ان وجوہات و واقعات کی بناء پر علم نحو کی تدوین کا عمل پیش آیا۔
مدون
اس علم کو سب سے پہلے تدوین کس نے کی؟
اس سلسلے میں دو نام آتے ہیں:( ١) حضرت علی رضی اللہ تعالیٰ عنہ اور( ٢) حضرت ابوالاسود دویلی کا۔
وجہ تسمیہ
مذکورہ بالا دونوں بزرگوں کی گفتگو سے ہمیں یہ بات بھی معلوم ہوگئی کہ اس علم کا نام "نحو" کیوں رکھا گیا، اس لئے کہ دورانِ گفتگو انہوں نے نحو کا استعمال کیا جس کا معنی ارادہ کرنا۔
نحو کا ایک اور معنی ہے "کنارہ" چوں کہ اس علم میں ہر کلمے اور ہر الفاظ کے آخری حرف سے بحث کی جاتی ہے، اس لئے بھی اس کو علم نحو کہتے ہیں۔
ابن یوسف کافیٓ
![]() |
| فی امان اللہ |

