کیا قیامت دس محرم کو قائم ہوگی؟
روایت:
محترم مفتی صاحب! ہم نے یہ بات کئی لوگوں سے سنی ہے اور سرسری طور پر کہیں پڑھی بھی ہے کہ قیامت جمعہ کے دن اور یوم عاشوراء کو آئے گی۔
براہ کرم اگر اس سلسلے میں کوئی حدیث ہوتو وہ بیان فرمائیں۔
روایت کا حکم: مفتی شبیر صاحب قاسمی فتاوی قاسمیہ ج/2ص/28پر لکھتے ہیں کہ قیامت جمعہ کی قائم ہوگی یہ تو احادیث شریفہ سے ثابت ہے البتہ ۱۰ محرم کو قیامت آۓگی ایسی کوئی بات صحیح حدیث سے ثابت نہیں ہے جن صحیح احادیث میں جمعہ کے قیامت قائم کا تذکرہ ہے وہ یہ ہیں
مسلم شریف میں ہے عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ خَيْرُ يَوْمٍ طَلَعَتْ عَلَيْهِ الشَّمْسُ يَوْمُ الْجُمُعَةِ فِيهِ خُلِقَ آدَمُ وَفِيهِ أُدْخِلَ الْجَنَّةَ وَفِيهِ أُخْرِجَ مِنْهَا وَلَا تَقُومُ السَّاعَةُ إِلَّا فِي يَوْمِ الْجُمُعَةِ۔
رواہ مسلم، مشکوۃ شریف، کتاب الصلاۃ، باب الجمعۃ، الفصل الأول ۱۱۹، مسلم شریف، کتاب الجمعۃ، باب فضیلۃ یوم الجمعۃ …، مکتبہ بلال ۱/ ۲۸۲، بیت الأفکار رقم: ۸۵۴، موطأ مالک، ماجاء في الساعۃ التي ترجی في یوم الجمعۃ، مکتبہ أشرفي دیوبند ۳۸، ترمذي، أبواب الجمعۃ، باب في الساعۃ التي ترجی في یوم الجمعۃ، النسخۃ الہندیۃ ۱/ ۱۱۰، بیروت، رقم: ۴۸۸)
رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا : ان دنوں میں سے کہ جن میں آفتاب طلوع ہوتا ہے سب سے بہتر دن جمعہ ہے، اسی دن حضرت آدم علیہ السلام پیدا کئے گئے۔ (یعنی ان کی تخلیق مکمل ہوئی) اسی دن وہ جنت میں داخل ہوئے اور اسی دن انہیں بہشت سے نکالا گیا (اور زمین پر اتارا گیا) اور قیامت بھی جمعہ ہی کے روز قائم ہوگی
اسی طرح ابو داؤد شریف اور سنن ترمذی اور مجمع الزوائد میں ہے عن أبي ہریرۃؓ قال: قال رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم خیر یوم طلعت فیہ الشمس یوم الجمعۃ فیہ خلق آدم وفیہ أہبط، وفیہ تیب علیہ، وفیہ مات، وفیہ تقوم الساعۃ۔ (أبوداؤد، کتاب الصلاۃ، باب تفریع أبواب الجمعۃ، النسخۃ الہندیۃ ۱/ ۱۵۰، دارالسلام، رقم: ۱۰۴۶، ترمذي شریف، أبواب الجمعۃ، باب فضل یوم الجمعۃ، النسخۃ الہندیۃ ۱/ ۱۱۰، دارالسلام، رقم: ۴۹۱، مجمع الزوائد ۲/ ۱۶۴،
آپ کے مسائل اور ان کا حل اضافہ تخریج شدہ ایڈیشن جلد دوم ص 355 پر مولانا یوسف صاحب لدھیانوی ؒ فرماتے ہیں کہ قیامت کے آثار تو ظاہر ہوچکے ہیں لیکن قیامت کب آۓگی اسکے بارے میں کوئی نہیں جانتا۔
البتہ اتنا معلوم ہے کہ قیامت جس دن بھی آۓگی وہ جمعہ کا دن ہوگی۔ لیکن وہ کس ماہ کا جمعہ اور پھر کس سال کا جمعہ ہوگا یہ سب امور صرد اللہ تعالی ہی جانتے ہیں
باقی جس روایت میں آتا ہے کہ دسویں محرم کا جمعہ ہوگا تو یہ روایت بالکل بے اصل ہے ۔
ولا تقوم الساعۃ إلا یوم الجمعۃ، وفي ’’العرف الشذي‘‘: ورد في حدیث قوي: أن قیام الساعۃ یکون یوم عاشوراء، عاشر المحرم فیکون العاشوراء یوم الجمعۃ، أقول: لم أقف علیہ فلینظر۔ (معارف السنن، أبواب الجمعۃ، باب في الساعۃ التي ترجی في یوم الجمعۃ، مکتبہ أشرفیہ دیوبند، ۴/ ۳۰۶)
أخرج ابن جریر وابن أبي حاتم عن قتادۃ أنہ قال في الآیۃ: خمس من الغیب استأثر اللہ تعالی بہن، فلم یطلع علیہن ملکا مقربا ولا نبیا مرسلا …، ولا یدري أحد من الناس متی تقوم الساعۃ، في أي سنۃ، ولا في أي شہر أ لیلا أم نہارا۔ (روح المعاني، سورۃ لقمان، تحت رقم الآیۃ: ۳۴، مکتبہ زکریا ۱۲/ ۱۶۸)
اور فتاوی دار العلوم میں ہے جن روایات سے قیامت کا دس محرم میں آنے کا تذکرہ ہے ان تمام روایات کو "ماثبت بالسنة" میں موضوع (من گھڑت) قرار دیا گیا ہے، ”وتقوم القیامة یوم عاشورا، موضع ذکرہ ابن الجوزی عن ابن عباس وفیہ حبیب بن أبي حبیب وھو آفة“ (ماثبت بالسنة: ۱۱)۔ (رقم الفتوی : 23179)
معلوم ہوا کہ قیامت جمعہ کے دن قائم ہوگی، لیکن تاریخ دس محرم الحرام یعنی عاشوراء کا دن ہوگا یہ بات کسی بھی معتبر روایت سے ثابت نہیں ہے۔ لہٰذا اس بات کو بیان کرنے سے اجتناب کرنا چاہیے۔
واللہ تعالی اعلم بالصواب
محمد حیدر مظاھری سہارنپوری
2/صفر المظفر/1444ھ
مطابق/31/8/2022
بروز بدھ
Tags
تخریج الاحادیث
