https://tagassistant.google.com/#/?url=https%3A%2F%2Fguldastakafi.blogspot.com%2F سچی توبہ کا واقعہ

سچی توبہ کا واقعہ

سچی توبہ کا واقعہ (گلدستہ کافی)

حضرت عبداللہ بن عمر بن الخطاب رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو ارشاد فرماتے ہوئے سنا کہ سابقہ امت میں تین آدمی تھے وہ ایک دفعہ کہیں چلے جا رہے تھے کہ دوران سفر ان کو ایک غار میں رات گزارنا پڑی، چنانچہ وہ تینوں ایک غار کے اندر داخل ہو گئے، تھوڑی ہی دیر کے بعد پہاڑ سے ایک بڑا پتھر سر کا اور اس نے آکر غاز کا منہ بند کر دیا۔ 

سب کہنے لگے کہ اس پتھر سے نجات اور خلاصی کی یہی صورت ہے کہ ہر آدمی اپنے نیک اعمال کا اللہ تعالیٰ کے سامنے وسیلہ پیش کر کے دعا کرے، چنانچہ ان میں سے ایک آدمی نے یوں دعا شروع کی کہ اے اللہ ! میرے بوڑھے ماں باپ تھے، میں ان سے پہلے اپنے بچوں کو دودھ نہیں پلاتا تھا، ایک دن میں درختوں کی تلاش میں دور نکل گیا، جب شام کو واپس آیا تو وہ دونوں سو چکے تھے، میں نے ان کے لئے رات کا دودھ دوہا، جب ان کی خدمت میں لے کر حاضر ہوا تو وہ سوئے ہوئے تھے، میں نے ان کو جگانا پسند نہیں کیا اور مجھے یہ بات بھی اچھی نہ لگی کہ ان سے پہلے اپنے بچوں کو دودھ پلاؤں، چنانچہ میں اسی حالت میں کہ دودھ کا پیالہ میرے ہاتھ میں تھا اور ان کے بیدار ہونے کا انتظار کرتا رہا یہاں تک کہ ساری رات گزرگئی اور صبح صادق ہو گئی اور بچے میرے قدموں میں بلبلاتے رہے، پھر وہ بیدار ہوئے تو انہوں نے دودھ نوش کیا ، اے اللہ ! اگر میں نے یہ کام تیری رضا جوئی کے لئے کیا تھا تو اس پتھر کی وجہ سے جس پریشانی میں ہم مبتلا ہیں اس کو دور کر دے، چنانچہ وہ پتھر تھوڑا سا ہٹ گیا ، لیکن ابھی اس سے نکلنا مشکل تھا۔

 پھر دوسرے آدمی نے یوں دعا کی کہ اے اللہ ! میری  ایک چچا زاد بہن تھی، وہ مجھے بہت پسند تھی، ایک روایت میں یہ الفاظ ہیں کہ میں اس سے اس قدر محبت کرتا تھا، جس قدر کوئی مرد عورت سے محبت کرتا ہو، بلکہ اس سے بھی زیادہ ، ایک دن میں نے اس سے برائی کا ارادہ کیا تو وہ نہ مانی حتی کہ وہ قحط میں مبتلا ہوئی تو میرے پاس آئی، میں نے اس کو ایک سو بیس دینار اس شرط پر دیئے کہ وہ مجھے برائی کا موقع دے گی ، وہ تیار ہو گئی، یہاں تک کہ جب میں نے اس پر قابو پالیا، ایک روایت میں ہے کہ جب میں اس کی دو ٹانگوں کے درمیان (مباشرت) کے لئے بیٹھ گیا تو وہ کہنے لگی کہ خدا سے ڈرو، جائز طریقہ ہی سے پردہ بکارت زائل کرو، پس میں اس سے دور ہو گیا، حالانکہ وہ مجھے بہت زیادہ محبوب تھی اور جو سونا میں نے اس کو دیا تھا واپس نہیں لیا، اے اللہ ! اگر میں نے یہ کام تیری خوشنودی کے لئے کیا تھا تو اس مصیبت سے ہمیں نجات دیدے جس میں ہم سب مبتلا ہیں، چنانچہ وہ پتھر تھوڑا سا مزید اپنی جگہ سے ہٹ گیا، لیکن ابھی بھی اس سے نکلنا مشکل تھا۔

 پھر تیسرے آدمی نے دعا کی کہ اے اللہ ! میں نے چند مزدور اجرت پر رکھے تھے، ایک آدمی کے سوا سب کی مزدوری میں نے ادا کر دی، وہ آدمی جس کی مزدوری میں نے ادا نہیں کی تھی وہ اپنی مزدوری چھوڑ کر چلا گیا تھا، میں نے اس کی اجرت کو بڑھایا یہاں تک کہ اس سے اموال کثیرہ ہو گئے ، پھر ایک عرصہ کے بعد وہ آیا اور اس نے کہا کہ اے اللہ کے بندے ! میری اجرت مجھے دے دو میں نے کہا کہ یہ اونٹ، گائے، بکریاں اور غلام وغیرہ جو تجھے نظر آ رہے ہیں، یہ سب تیری ہی اجرت ہے۔

 اس نے کہا کہ اے اللہ کے بندے ! میرے ساتھ مزاح نہ کر، میں نے کہا کہ میں تیرے ساتھ مزاح نہیں کر رہا ہوں، چنانچہ اس نے وہ سارا مال لیا، اور سارے جانور ہانک کر لے گیا، کوئی چیز نہیں چھوڑی، اے اللہ ! اگر میں نے یہ کام تیری رضا حاصل کرنے کے لئے کیا تھا، تو ہمیں اس مصیبت سے چھٹکارا عطا فرمادے ، جس میں ہم بھی مبتلا ہیں، چنانچہ وہ پتھر دور ہو گیا اور وہ تینوں اس غار سے نکل کر آگے کو روانہ ہو گئے۔

(بخاری شریف، رقم الحدیث: ۲۲۷۲، مسلم شریف، رقم الحدیث: ۲۷۴۳)

فوائد حدیث:

نمبر ایک: معلوم ہوا کہ مصائب و مشکلات کے پیش آنے پر اللہ تعالی سے دعا کرنی چاہیے اور یہ تعمیل حکم بھی ہے، جیسا کہ ارشاد ہے:

وَقَالَ رَبُّكُمُ ادْعُونِي اسْتَجِبْ لَكُمْ ﴾ (غافر : ٢٠) یعنی تمہارے پروردگار نے فرمایا ہے کہ تم مجھ سے دعا کیا کرو

میں تمہاری دعا قبول کروں گا۔

نمبر دو: نیک اعمال کو وسیلہ میں پیش کرنا چائنہ ہے۔

نمبر تین: کرب و بلا سے نجات حاصل کرنے میں بندہ کے تقوی کو بڑا دخل ہوتا ہے،جیسا کہ فرمایا

وَمَن يَتَّقِ اللَّهَ يَجْعَل لَّهُ مَخْرَجًا (الطلاق، آیت نمبر: ۲)

یعنی جو شخص تقوی اختیار کرتا ہے، اللہ تعالیٰ سے ڈرتا ہے، اللہ تعالی مصائب سے نکلنے کی کوئی نہ کوئی راہ نکال دیتے ہیں۔

نمبر چار:  اس حدیث سے والدین کے ساتھ حسن سلوک اور ان کی خدمت گزاری کی فضیلت معلوم ہوتی ہے۔ نیز معلوم ہوا کہ ان کو دوسروں پر ترجیح دینا باعث فضیلت کام ہے۔

نمبر پانچ: پاکدامنی اور غیر محرم عورتوں سے دور رہنے کی فضیلت معلوم ہوئی۔

نمبر چھ: عقد اجارہ کا جواز معلوم ہوا، جس کی تعریف یہ ہے کہ وہ ایسا معاملہ ہے جو متعین قیمت پر ایک مدت کے لئے کسی منفعت کے حصول پر کیا جائے۔

قرآن کریم میں اس کی مشروعیت پر یہ آیت دلیل ہے : فَإِنْ أَرْضَعْنَ لَكُمْ فَأْتُوهُنَّ أُجُورَهُنَّ (سورہ طلاق، آیت ۱)

 اور حدیث نبوی میں یہ فرمان دلیل ہے: ”تین اشخاص ایسے ہیں جن کا میں خود قیامت کے روز فریق بنوں گا، آپ نے ان تین افراد کا ذکر کرتے ہوئے فرمایا کہ وہ آدمی جس نے کسی کو اجیر کے طور پر رکھا، اس سے پورا پورا کام لیا، لیکن اس کی اجرت اس کو نہیں دی۔ [ رواه البخاری (۲۲۲۷)] ۔ 

نمبر سات: اس سے حسن معاملہ کی فضیلت معلوم ہوئی۔

نمبر آٹھ: اس سے معلوم ہوا کہ معاملات میں امانت کی ادائیگی اور فیض و سخاوت سے کام لینا بہت اچھا عمل ہے۔

نمبر نو:  اس سے ثابت ہوا کہ اولیاء کرام کی کرامات برحق ہیں، جیساکہ اہل سنت والجماعت کا مذہب ہے۔

 سی ٹیٹ کا ایک اہم حصہ کوہلبرگ 



Post a Comment

Previous Post Next Post