امن و امان اور چین و سکون کا حصول اللہ تبارک و تعالی کی عظیم نعمتوں میں سے ایک ہے، جس کی درخواست جلیل القدر پیغمبر حضرت ابراہیم علی نبینا علیہ الصلوۃ والسلام نے اللہ سبحانہ وتعالی سے فرمائی: ’’رب احعل هذا البلد آمنا‘‘ یا اللہ !اس شہر کو امن کا گہوارہ بنا۔
اس آیت کی رو سے معلوم ہوتا ہے کہ امن و امان، اطمینان و سکون ایک انسانی حق اور بنیادی ضرورت ہے اس کی بقا کے لیے جہاں حاکم اور بادشاہِ وقت ذمہ دار ہے وہیں عوام اور رعایا کا ہر ہر فرد بھی اس قضیہ میں برابر کا شریک ہے
اس کے علاوہ اگر شرعی طور پر ووٹ کی حیثیت دیکھی جائے تو کم ازکم اس کا درجہ شہادت کی ہے، اس کو محض سیاسی ہار جیت کا ذریعہ قرار دینا سخت نادانی ہے، قرآن و سنت کی رو سے واضح ہے کہ نااہل، ظالم، فاسق اورغلط آدمی کو ووٹ دینا گناہِ عظیم ہے۔
اسی طرح ایک اچھے نیک اور قابل آدمی کو ووٹ دینا ثواب بلکہ ایک فریضہ شرعی ہے، قرآن کریم میں جیسے جھوٹی شہادت کو حرام قرار دیا ہے اسی طرح سچی شہادت کو واجب اور لازم فرمایا ہے، ارشاد باری ہے کُونُوا قَوَّامِینَ لِلَّہِ شُہَدَاء َ بِالْقِسْطِ اور دوسری جگہ ہے کُونُوا قَوَّامِینَ بِالْقِسْطِ شُہَدَاء َ لِلَّہِ ان دونوں آیتوں میں مسلمانوں پر فرض کیا کہ سچی شہادت سے جان نہ چرائیں، اللہ کے لیے ادائیگی شہادت کے لیے کھڑے ہوجائیں، تیسری جگہ سورہٴ طلاق میں ارشاد ہے وَأَقِیمُوا الشَّہَادَةَ لِلَّہِ یعنی اللہ کے لیے سچی شہادت قائم کرو، ایک آیت میں ارشاد فرمایا کہ سچی شہادت کا چھپانا حرام اور گناہ ہے، ارشاد ہے: وَلَا تَکْتُمُوا الشَّہَادَةَ وَمَنْ یَکْتُمْہَا فَإِنَّہُ آَثِمٌ قَلْبُہُ یعنی شہادت کو نہ چھپاوٴ اور جو چھپائے گا اسکا دل گنہ گار ہے۔ حاصل یہ ہے کہ مسلمانوں کو ووٹ ضرور ڈالنا چاہیے، البتہ ووٹ ڈالنے جس امیدوار کے حق میں ووٹ ڈال رہا ہے، اس کے حق میں گویا یہ خود ہی گواہی دے رہا ہے کہ یہ امیدوار میرے علم کے مطابق سب سے زیادہ مستحق اور دیانت دار ہے۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ جہاں ووٹ کا دینا ملی اور سماجی ذمہ داری ہے وہیں شرعی و دینی ذمہ داری بھی ہے۔
(فتاوی دارالعلوم دیوبند انڈیا، فتاوی نمبر: ۴۳۰۹۴)
جیسا کہ معلوم ہوا کہ ووٹ کی اہمیت و ضرورت جمہوری ملک میں بہت زیادہ ہے، لیکن ایسی صورت حال میں کہ دشمنان دین ہر طرح سے ہمیں نست و نابود اور ملیا میٹ کرنے پر تلے ہوئے ہیں، جو کہ کسی اہل نظر سے مخفی نہیں ہیں مسلم پرسنل لا میں مداخلت، ہجومی تشدد کے بڑھتے واقعات، غنڈہ گردی کا ماحول، میڈیا کی مسلمانوں کے خلاف زہر افشانی، انسانی خون کی ارزانی، مساجد پر حملے، مدارس پر نشانہ، اذان پر پابندی، حجاب پر مقدمات، نہ جانے کیا کچھ چیلنجز اس وقت ملت اسلامیہ ہندیہ کے سامنے ہیں صاف نظر آرہا ہے کہ زعفرانی نمائندے اور ایک خاص آئیڈیولوجی کو پروموٹ کرنے والی دو فیصد قوم کی نظر میں مسلمان کھٹک رہے ہیں اور ان کی ہر ممکن کوشش ہے کہ مسلمانوں سے ان کا دینی ملی مذہبی تشخص چھین لیا جائے ان کی تہذیب کا گلا گھونٹ دیا جائے، ان کی تاریخ کو مسخ کردیا جائے، ان کی عمارتوں کو بلڈوزر سے مسمار کردیا جائے، ان کا رسم الخط مٹادیا جائے حتی کہ پوری قوم کی گھر واپسی کرکے ارتداد کا ننگا ناچ کیا جائے، ایسی صورت میں ووٹ کی اہمیت و ضرورت دوچند ہو جاتی ہے۔ووٹ سے متعلق چند اہم امور جن کا جاننا اور ان کے مطابق عمل کرنا نہایت ضروری ہے:
نمبر ایک: ووٹ ڈالنے میں احتیاط سے کام لے، تاکہ غلط جگہ مہر وغیرہ نہ لگے،اس لیے کہ اس سے ووٹ ضائع ہوجائے گا جو کہ بڑا نقصان ہے۔
نمبر دو: باہم مشورے سے خوب سوچ سمجھ کر ووٹ دے، محض اپنے تعلقات یا غیرشرعی دباوٴ سے متأثر ہوکر ہرگز ووٹ نہ دیں۔
نمبر تین: جو امیدوار اس کے علم کے مطابق ووٹ کا زیادہ مستحق ہے دیانةً اسی کو اپنا ووٹ دیں۔
نمبر چار: جس امیدوار سے نقصان پہنچنے کا غالب اندیشہ ہو، اس کو ہرگز ووٹ نہ دیں۔
نمبر پانچ: اگر تمام امیدواروں کے حالات یکساں ہوں، تو پھر جس سے زیادہ فائدہ کی امید اور کم نقصان کا اندیشہ ہو اس کو ووٹ دیں۔
نمبر چھ: روپیہ یا کوئی مال لے کر کسی کو ووٹ نہ دیں یہ بدترین رشوت اور حرام فعل ہے۔
نمبر سات: اپنے ساتھ ساتھ اپنی قوم کے دیگر مسلمانوں کو بھی ووٹ ڈالنے کی جانب متوجہ کریں۔
یہ جو نقطہ ہے مسلم قوم میں دیگر بھائیوں کو بھی ووٹ ڈالنے کی جانب متوجہ کرنا، تاکہ سیاست کی اہمت اور ووٹ ڈالنے کی ضرورت کو سمجھ سکیں، اس موقع سے مفکر ملت حضرت مولانا ابو الحسن علی میاں ندوی صاحب کا قول نقل کرنا زیادہ مناسب ہے:’’اگر قوم کو پنج وقتہ نمازی نہیں، بلکہ سوفیصد تہجد گزار بنا دیا جائے ، لیکن ان کے سیاسی شعور کو بیدار نہ کیا جائے اور ملک کے احوال سے ان کو واقف نہ کیا جائے ، تو ممکن ہے کہ اس ملک میں آئندہ تہجد تو دور پانچ وقت کی نمازوں پر بھی پابندی عائد ہوجائے ؛ لہٰذا سیاسی شعور بیدار کرنا اور اپنے حق ( ووٹ ) کے ذریعے انقلاب برپا کرنا، منصبوں اور عہدوں پر لائق و فائق اشخاص کو بٹھانا یہ ہماری ذمہ داریوں میں سے ایک اہم ذمہ داری ہے ۔


.jpg)

السلام علیکم ورحمۃ اللہ
ReplyDeleteshukriya
ReplyDelete