https://tagassistant.google.com/#/?url=https%3A%2F%2Fguldastakafi.blogspot.com%2F تراویح کا بیان حصہ دوم، کوئز نمبر پچیس (۲۵)

تراویح کا بیان حصہ دوم، کوئز نمبر پچیس (۲۵)

تراویح کا بیان حصہ دوم 

رکعاتِ تراویح:

بیس رکعات کی تعداد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اور صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین اور تابعین وتبع تابعین کے اقوال واعمال اور اجماعِ صحابہ سے ثابت ہے، انہیں روایات اور آثار کی وجہ جمہور علما امت اور حضرات ائمہ اربعہ (امام ابوحنیفہؒ، امام مالکؒ ، امام شافعیؒ اور امام احمد ابن حنبلؒ ) کا متفقہ موقف یہ ہے کہ تراویح کی رکعات ۲۰؍ سے کم نہیں ہیں، ۲۰؍ سے زیادہ کے تو اقوال ملتے ہیں(جیسا کہ امام مالکؒ کا قول ہے) لیکن ۲۰؍ کے عدد سے کم کا ائمہ اربعہ میں سے کوئی قائل نہیں ہے ا ور تمام عالم میں شرقاً و غرباً صدیوں سے امت کا عمل یہی چلا آرہا ہے۔

مزید تسلی و تشفی کے لیے چند روایات و آثار پیش خدمت ہیں:

حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما  کی روایت ہے: ’’أن رسول الله صلى الله عليه و سلم كان يصلي في رمضان عشرين ركعةً و الوتر‘‘ کہ رسول اللہ ﷺ رمضان میں بیس رکعت تراویح اور وتر پڑھتے تھے۔

(مصنف ابن ابی شیبہ، ج:۲، ص:۲۸۴، السنن الکبری للبیہقی ،ج: ۲، ص: ۴۹۶)

حضرت جابر بن عبداللہ ؓ فرماتے ہیں:’’ خرج النبی صلی اللہ علیہ وسلم ذات لیلة فی رمضان فصلی بالناس أربعة وعشرین رکعة و اوتر بثلاثۃٍ‘‘ کہ نبی کریم ﷺ رمضان میں ایک رات تشریف لائے اور لوگوں کو چار (فرض) بیس رکعت (تراویح) اور تین رکعت وتر پڑھائے۔

(تاریخ جرجان للسہمی، ص:۳۱۷)

حضرت ابی بن کعب ؓ فرماتے ہیں: ’’ اَن عمر بن الخطاب امر ابی بن کعبٍ ان یصلی باللیل فی رمضان فصلی بہم عشرین رکعۃ‘‘ کہ عمر بن خطاب ؓ نے مجھے حکم دیا کہ میں رمضان شریف کی راتوں میں نماز (تراویح) پڑھاؤں،تو میں نے لوگوں کو بیس رکعات نماز (تراویح ) پڑھائی۔

(مسند احمد بن منیع بحوالہ اتحاف الخیرۃ المہرۃ، ج:۲، ص۴۲۴)

حضرت سائب بن یزیدؓ فرماتےہیں کہ ’’کانوا یقومون علی عھد عمر فی شھر رمضان بعشرین رکعة، وکانوا لیقرؤن بالمئین من القرآن‘‘امیرالمومنین حضرت عمربن خطاب ص کے دورخلافت میں رمضان المبارک کے مہینہ میں صحابہ وتابعین بیس(۲۰)رکعات تراویح پڑھتے تھے، اور وہ سوسو آیتیں پڑھاکرتے تھے۔

(مسند ابن الجعد ۲۸۲۵)

علاوہ ازیں :یزید بن رومانؒ فرماتے ہیں کہ لوگ رمضان المبارک میں حضرت عمر بن الخطاب ؓ کے زمانہ میں تئیس رکعت نماز پڑھتے تھے (بیس رکعت تراویح اور تین رکعت وتر)  (السنن الکبری للبیہقی ،ج: ۲، ص:۶۹۹)

ابولخصیبؒ، ابو عبدالرحمن السلمیؒ وغیرہ کی روایت سے معلوم ہوتا ہے کہ نبی کریم ﷺ کا اورآپ کے بعد صحابہ و تابعین وتبع تابعین و مجتہدین امت کا طریق رمضان المبارک میں ۲۰؍ رکعت ہی پڑھنے کا رہا ہے۔

حدیث عائشہؓ کی وضاحت:

تراویح کی رکعات کے بارے میں علما کے ایک طبقہ کو ام المؤمنین حضرت عائشہ صدیقہؓ کی ایک روایت سے اشتباہ ہوگیا ہے، جس میں حضرت عائشہ صدیقہ ؓ نے رمضان اور غیر رمضان کی نوافل کو ۸؍ کے عدد میں منحصر کیا ہے۔ 

(بخاری شریف ،ج: ۱، ص:۱۴۵)

اس روایت سے بہت سے لوگ یہ استدلال کرتے ہیں کہ تروایح کی رکعات بھی صرف ۸؍ ہیں، اس سے زیادہ نہیں؛ حالاں کہ اس روایت کا تعلق تراویح سے نہیں؛ بلکہ تہجد سے ہے اور تروایح کی رکعات پر اس روایت سے استدلال بالکل غیر معقول ہے؛ کیوں کہ (۱) حضرت عائشہؓ کا ’’غیر رمضان‘‘ کو شامل کرکے جواب دینا یہ بتا رہا ہے کہ سوال ایسی نماز سے متعلق ہے، جو غیر رمضان میں بھی پڑھی جاتی ہے اور ایسی نماز تہجد تو ہوسکتی ہے، تراویح نہیں ہو سکتی؛ کیوں کہ اسے غیر رمضان میں پڑھنے کا کوئی قائل نہیں۔

(۲) خود حضرت عائشہ ؓ کی روایت تہجدکی آٹھ رکعت سے کم و بیش کے بارے میں بھی وارد ہے، تو چوں کہ رکعتوں کی تعیین کے متعلق روایت میں اضطراب پایا جاتا ہے؛ لہذا استدلال تام ہے۔

(۳) اسی روایت میں ایک سلام سے تین رکعت وتر پڑھنے کا ذکر ہے اور جو طبقہ تراویح کی آٹھ رکعات کا قائل ہے، وہ اس روایت کے برخلاف ایک سلام سے وتر کی تین رکعات کا منکر ہے، اس لیے جب وتر میں یہ روایت ان کے نزدیک حجت نہیں، تو تراویح کی رکعات میں حجت کیسے مانی جاسکتی ہے؟

(ملخص: تحفہ رمضان ، ص: ۸۰۔ ۸۱)

تراویح کے بعض اہم مسائل

تراویح کی شرعی حیثیت:

رمضان المبارک میں عشا کی نماز کے بعد تراویح کی بیس رکعات دس سلاموں سے پڑھنا مرد و عورت سب کے لیے سنت مؤکدہ ہے۔

درمختار، ج:۲، ص:۴۲۹)

تراویح کی نیت: 

نمازِ تراویح اور تمام سنن و نوافل اگرچہ مطلق نماز کی نیت سے درست ہو جاتی ہیں، لیکن بہتر اور احوط یہ ہے کہ تراویح کا باقاعدہ دل میں ارادہ کرکے نماز شروع کی جائے۔

(در مختار، ج: ۲، ص: ۸۶)

تراویح کا وقت:

تراویح کا وقت عشا کے بعد سے صبح صادق تک ہے، بہتر ہے کہ وتر تراویح کے بعد پڑھی جائے، لیکن اگر وتر کے بعد بھی تراویح پڑھیں، تو بھی شرعاً درست ہے۔

(در مختار، ج:۲، ص:۴۳۰)

تراویح کی جماعت :

تراویح کی مسجد میں باجماعت ادائیگی سنتِ کفایہ ہے، اگر محلہ کی مسجد میں تراویح کی جماعت نہ ہو، تو سارے اہل محلہ گنہ گار ہوں گے۔

تحفہ رمضان، ص:۸۴)

تراویح کی نماز پورے رمضان کی سنت ہے:

اگر کسی جگہ مہینہ ختم ہونے سے پہلے قرآن کریم مکمل ہوجائے، تو باقی دنوں میں بھی نماز تراویح حسب دستور ادا کی جاتی رہے گی؛ کیوں کہ اس طرح صرف قرآن کریم مکمل ہونے کی سنت ادا ہوتی ہے، تراویح کی سنت باقی رہتی ہے اور جب تک رمضان باقی ہے، اس سنت پر عمل کرنا ضروری ہے۔

(فتاوی شامی، ج:۲، ص:۴۳۱، فتاوی دارالعلوم، ج:۴، ۲۵۱)

تراویح میں ختم قرآن:

تراویح میں کم از کم ایک مرتبہ ختم قرآن سنت ہے اور اس سے زائد مستحب ہے۔

(تحفہ رمضان،ص:۸۵)

ایک مسجد میں تراویح کی دو جماعتیں:

ایک مسجد میں بیک وقت (مثلاً پہلی منزل اور دوسری منزل میں الگ الگ جماعت کرنا) یا پے در پے (ایک جماعت ہونے کے بعد دوسری جماعت قائم کرنا) تراویح کی جماعت کرنا مکروہ ہے۔

(تحفہ رمضان، ص:۸۵)

تراویح میں تنہا عورتوں کی جماعت:

تراویح یا کسی بھی جماعت میں عورتوں کی تنہا جماعت مکروہ ہے؛ لیکن اگر وہ جماعت کریں، تو ان کی امامت کرنے والی عورت صف کے بیچ میں مقتدی عورتوں کے ساتھ ہی کھڑی ہو، آگے بڑھ کر نہ کھڑی ہو۔

(رمضان کے شرعی احکام، ص: ۲۷۴)

مرد امام کا عورتوں کو تراویح پڑھانا:

اگر مرد تراویح کی امامت کرے اور اس کے پیچھے کچھ مرد ہوں اور بقیہ پردہ میں عورتیں ہوں اور یہ امام عورتوں کی امامت کی نیت کرے، تو یہ شرعاً درست ہے، اس میں کوئی قباحت نہیں اور اگر امام تنہا ہو بقیہ سب عورتیں ہوں، تو نیت امامت کے ساتھ ساتھ یہ بھی ضروری ہے کہ مقتدی عورتوں میں اس امام کی کوئی محرم رشتہ دار یا بیوی بھی شامل ہو ورنہ تنہا تمام اجنبیات کی امامت کرنا مکروہ ہوگا۔

(تحفہ رمضان، ص:۸۵۔۸۶)


2 Comments

  1. السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ

    ReplyDelete
  2. السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ

    ReplyDelete
Previous Post Next Post