وہ چیزیں جن سے روزہ نہیں ٹوٹتا ہے حصہ اول
بھول کر کھانا،پینا یا جماع کرنا:
بھول کر کھانے، پینے اور جماع کرنے سے روزہ نہیں ٹوٹتا ۔
(کتاب المسائل، ج: ۲، ص: ۱۵۳)
روزہ کی حالت میں خون ٹیسٹ کرانا:
روزے کی حالت میں خون نکال کر ٹیسٹ کرانے سے روزہ فاسد نہ ہوگا؛ لیکن اتنا زیادہ خون نہ نکلوائیں کہ کمزوری غالب ہو جائے۔
(کتاب المسائل، ج: ۲، ص: ۱۵۳)
روزہ میں انجکشن یا ٹیکہ لگوانا:
اگر روزہ کے دوران انجکشن یا ٹیکہ لگوایا، تو اس سے روزہ پر کوئی فرق نہیں پڑا( لیکن اگر ایسا انجکشن ہو کہ دوا براہِ راست دماغ یا معدہ تک پہنچتی ہو، تو روزہ ٹوٹ جائے گا)
(کتاب المسائل، ج:۲، ص: ۱۵۴)
روزہ میں مسواک، خوشبو، سرمہ، انجکشن وغیرہ کا حکم:
مسواک کرنا، سرمہ لگانا، آنکھ میں دوا ڈالنا، خوشبو سونگھنا عطر کی ہو یا کسی پھول کی، انجکشن یا ٹیکہ لگوانا اور گلوکوز چڑھوانا یہ تمام چیزیں روزہ میں مباح ہیں، ان سے روزہ نہیں ٹوٹتا ۔
(تحفہ رمضان، ص: ۶۲، از: مفتی سلمان صاحب منصورپوری مدٖظلہ العالی)
روزہ کی حالت میں بھول کر کھانے والےکو دیکھنے والایاد دلائے یا نہیں؟
اگر کوئی شخص بھول سے روزے میں کھانے پینے لگے، تو دیکھنے والے کو کیا کرنا چاہیے، اس سلسلہ میں فقہا نے یہ تفصیل کی ہے کہ اگر وہ شخص (کھانے والا) طاقت ور ہے، تو اسے روزہ یاد دلانا ضروری ہے اور اگر وہ شخص کمزور یا بوڑھا ہے، تو یاد نہ دلانے کی گنجائش ہے۔
(تحفہ رمضان، ص: ۶۲، از: مفتی سلمان صاحب منصورپوری مدٖظلہ العالی)
بلا اختیار منہ میں مکھی، گرد وغبار یا دھواں چلا جانا:
حلق کے اندر مکھی چلی گئی یا اپنے آپ دھواں چلا گیا یا گرد و غبار چلا گیا، تو روزہ نہیں ٹوٹا، البتہ اگر قصداً ایسا کیا تو روزہ فاسد ہوجائے گا۔
(بہشتی زیور، ج: سوم، ص: ۱۱۸)
کان میں پانی چلا جانا:
کان میں خود بخود پانی چلے جانے سے روزہ نہیں ٹوٹتا؛ لیکن اگر باقاعدہ کان میں پانی داخل کیا، تو ایک قول کے مطابق روزہ ٹوٹ جائے گا۔
(تحفہ رمضان، ص: ۶۳، از: مفتی سلمان صاحب منصورپوری مدظلہ العالی)
خود بخود قے ہونا:
خود بخود قے (الٹی) آ جانے سے بھی روزہ میں کوئی خرابی نہیں آتی۔
(تحفہ رمضان، ص:۶۳،از: مفتی سلمان صاحب منصورپوری مدٖظلہ العالی)
قے کا خود بخود لوٹ جانا:
تھوڑی سی قے آئی پھر خود ہی حلق میں لوٹ گئی، تو روزہ نہیں ٹوٹے گا، البتہ قصداً لوٹانے سے روزہ ٹوٹ جائے گا۔
(تحفہ رمضان، ص: ۶۶، از: مفتی سلمان صاحب منصورپوری مدٖظلہ العالی)
تھوک نگلنے سے روزہ نہیں جاتا:
تھوک نگلنے سے روزہ نہیں جاتا ہے، چاہے جتنا ہو۔
(رمضان المبارک فضائل و مسائل، ص: ۴۴)
کلی کرنے کے بعد تھوک نگلنا:
کلی کرنے کے بعد اگر وہ ایک مرتبہ تھوک باہر نکال دیا، تو اب تھوک نگلنے سے روزہ میں کوئی خرابی نہ آئے گی۔
(تحفہ رمضان، ص: ۶۵، از: مفتی سلمان صاحب منصورپوری مدٖظلہ العالی)
آنسو یا پسینہ کا حلق میں چلا جانا:
آنسو یا چہرہ کا پسینہ ایک دو قطرہ بلا اختیار حلق میں چلا جائے، تو روزہ فاسد نہ ہوگا۔
(تحفہ رمضان، ص: ۶۵، از: مفتی سلمان صاحب منصورپوری مدٖظلہ العالی)
روزہ میں آکسیجن لینا:
روزہ میں اگر آکسیجن کے ذریعہ سانس لیا جائے، تو اس سے روزہ فاسد نہیں ہوتا؛ کیوں کہ آکسیجن محض ایک صاف ستھری ہوا ہے، اس کا بدن میں جانا مفسد صوم نہیں ہے۔
(کتاب المسائل، ج: ۲، ص: ۱۵۴۔۱۵۵)
کان کا میل نکالنا:
کان کا میل نکالنے سے بھی روزہ نہیں ٹوٹتا
(تحفہ رمضان، ص: ۶۵، از: مفتی سلمان صاحب منصورپوری مدٖظلہ العالی)
روزہ کی حالت میں ناخن یا بال کاٹنا:
روزہ کی حالت میں ناخن تراشنا یا بال کاٹنا، خواہ سر کے ہو یا بغل اور زیر ناف وغیرہ کے اس روزہ نہیں ٹوٹے گا۔
(انوار رمضان فضائل و مسائل، ص: ۲۲۱)
معدے کے ٹیسٹ کے لیے حلق میں نلکی ڈالنا:
اگر معدے وغیرہ کے ٹیسٹ کے لیے حلق یا ناک کے راستے سے دوربین والی نلکی ڈالی گئی، جس میں کوئی دوا یاچکناہٹ شامل نہ تھی اور اس کا ایک سرا باہر تھا، تو محض اس نلکی کے ڈالنے سے روزہ نہ ٹوٹے گا۔ (لیکن اگر نلکی کے ساتھ کوئی اور مادہ بھی شامل ہو، تو اس کے اندر داخل ہونے سے روزہ ٹوٹ جائے گا)
(کتاب المسائل، ج: ۲، ص: ۱۵۵)
دانت سے خون نکلا، مگر اندر نہیں گیا:
دانت سے خون نکل کر پیٹ میں نہ جائے، تو اس سے روزہ نہیں ٹوٹے گا۔
(کتاب المسائل، ج: ۲، ص: ۱۵۵)
