روزہ کے اہم مسائل
روزہ کے لیے نیت کرنا:
کھانے، پینے اور جنسی خواہش کی تکمیل سے رکنے کو روزہ کہتے ہیں؛ لیکن اس کے لیے نیت شرط ہے، بغیر نیت کے بھوکا ، پیاسا دن گزار دینے سے روزہ نہ ہوگا، اس لیے کہ روزہ کے صحیح ہونے کے لیے نیت کا ہونا ضروری ہے ۔
(فتاوی ہندیہ، ج: ۱، ص: ۱۹۵، ردالمحتار،ج: ۲، ص: ۴۰۳)
ہر روزہ کے لیےالگ الگ نیت کرنا:
رمضان المبارک کے ہر روزے کے لیے الگ الگ نیت کرنا ضروری ہے۔
(تحفہ رمضان، صفحہ نمبر: ۵۹ ، از: مفتی سلمان صاحب منصورپوری مدظلہ العالی)
روزہ کی نیت کے لیے زبان سے تلفظ ضروری نہیں ہے:
نیت دل کے ارادے کا نام ہے، پس دل سے روزہ رکھنے کا ارادہ کرلینا بھی کافی ہوگا، اگرچہ زبان سے نیت کے الفاظ ادا کرلینا زیادہ بہتر ہے، سحری خود نیت کے قائم مقام ہے، بشرطیکہ روزہ نہ رکھنے کی نیت سے سحری نہ کی گئی ہو۔
رمضان کے ادا روزے میں مطلقاً نیت کرنا ہی کافی ہوتا ہے، حتی کہ رمضان المبارک میں نفلی روزہ یا قضا روزہ کی نیت سے بھی رمضان کا روزہ ہی ادا ہوتا ہے، البتہ رمضان کے علاوہ میں نیت کو متعین کرنا ضروری ہے کہ کونسا روزہ رکھ رہے ہیں۔
(فتاوی ہندیہ، ج: ۱، ص: ۱۹۵)
روزہ کے لیے نیت یقینی والا ہونا ضروری ہے:
روزہ کی نیت میں تردد اور شک نہیں ہونا چاہیے؛ لہذا اگر روزہ رکھنے میں شک ہو یا رکھنے اور نہ رکھنے میں تردد کا شکار ہو یا کسی چیز کے ساتھ معلق کرکے نیت کی گئی ہو(جملہ شرطیہ کا استعمال کیا ہو) جیسے کوئی اس طرح نیت کرے کہ ’’ اگر فلاں شخص کی دعوت ہوگی، تو میرا روزہ نہیں ہے اور اگر اس نے دعوت نہ کی، تو میرا روزہ ہے ۔‘‘ اس طرح روزہ رکھنا درست نہ ہوگا؛ کیوں کہ اس سے نیت مکمل نہیں ہوتی ہے اور جب نیت مکمل نہ ہو، تو روزہ بھی نہیں ہوتا ہے۔
(فتاوی ہندیہ، ج: ۱، ص: ۱۹۵)
روزہ کی نیت کب کرنا بہتر ہے:
بہتر یہ ہے کہ رات ہی کو روزہ رکھنے کی نیت کر لیں یا کم از کم صبح صادق سے پہلے پہلے نیت کر لی جائے۔
(فتاوی ہندیہ، ج:۱، ص: ۱۹۶)
نیت کرنے کے بعد بھی صبح صادق تک کھا پی سکتے ہیں:
روزہ کا وقت صبح صادق سے شروع ہوتا ہے، اس لیے جب تک صبح صادق نہ ہو کھانا، پینا وغیرہ سب جائز ہے، اگرچہ روزہ کی نیت کرچکا ہو۔
(تحفہ رمضان، ص:۶۰، از: مفتی سلمان صاحب منصورپوری مدظلہ العالی )
نصف النہار سے پہلے پہلے نیت کرنا صحیح ہے:
نصف النہار (زوال) سے پہلے تک بھی اگر رمضان المبارک کے ادا روزے کی نیت کرلی جائے، تو روزہ صحیح ہو جائے گا۔ (اور یہ حکم رمضان کے ادا روزوں، نذرِ معین اور نفلی روزوں میں ہے)
(تحفہ رمضان، ص:۵۹، از: مفتی سلمان صاحب منصورپوری مدظلہ العالی )
ان روزں میں رات سے نیت کرنا ضروری ہے:
رمضان المبارک کے قضا روزوں میں، نذرِ غیر معین، کفارات اور نفل روزے کی قضا میں صبح صادق سے پہلے پہلے نیت کرنا ضروری ہے، صبح صادق کے بعد نیت کی جائے، تو کافی نہ ہوگی۔
(تلخیص: تحفہ رمضان، ص:۶۰، از: مفتی سلمان صاحب منصورپوری مدظلہ العالی )
جن ممالک میں چھ مہینہ کے دن رات ہوں، وہاں روزہ کیسے رکھیں؟
دنیا کے جن خطوں میں چھ مہینہ کا دن اور چھ مہینہ کی رات ہوتی ہے، وہاں نماز روزہ کے اوقات کے تعین کے لیے قریبی معتدل اوقات والے ملک کو معیار بنایا جائے گا اور رات دن کے بارے میں وہاں کے نظام الاوقات کے مطابق نماز روزہ وغیرہ کو ادا کیا جائے گا۔
(تحفہ رمضان، ص:۵۸، از: مفتی سلمان صاحب منصورپوری مدظلہ العالی )
ان حالتوں میں روزہ نہ رکھنا مباح (جائز ) ہے:
مریض، مسافر، حاملہ، دودھ پلانے والی عورت، تیمار دار( جب کہ اس کے روزہ رکھنے سے مریض کا نقصان ہو) نہایت کمزور، بھوک پیاس سے مجبور، مجاہد فی سبیل اللہ ( جب کہ اس کے روزہ سے جہاد میں نقصان ہو) اور جنون اور بےہوشی میں مبتلا شخص کے لیے اعذار کی بنا پر روزہ نہ رکھنا مباح ہے، جب ان کا عذر زائل ہو جائے، تو وہ روزہ کی قضا کریں، ہاں اگر کوئی ایسا شخص ہو، جسے روزہ رکھنے پر قدرت ہی نہ رہے، تو اس کے لیے یہ حکم ہے کہ وہ ہر روز کے بدلہ میں فدیہ (صدقۂ فطر کی مقدار) دے دیا کرے
(تحفہ رمضان، ص:۵۹، از: مفتی سلمان صاحب منصورپوری مدظلہ العالی )
ان حالتوں میں روزہ رکھنا درست نہیں ہے:
حیض و نفاس والی عورتوں کے لیے روزہ رکھنا جائز نہیں؛ لیکن بعد میں قضا لازم ہے۔
(تحفہ رمضان، ص: ۵۸، از: مفتی سلمان صاحب منصورپوری مدظلہ العالی )
عورت صبح صادق کے بعد حیض سے پاک ہوئی:
اگر عورت صبح صادق کے بعد دن میں کسی وقت حیض و نفاس سے پاک ہوئی، تو آج کے دن وہ روزہ نہیں رکھے گی؛ بلکہ بعد میں اس دن کی قضا کرے گی، البتہ روزہ داروں کی طرح شام تک کھانے پینے سے احتراز کرے گی۔
(کتاب المسائل، ج: ۲، ص: ۱۴۹)
حائضہ عورت صبح صادق سے پہلے پاک ہوئی:
اگر کوئی عورت صبح صادق سے پہلے حیض سے پاک ہوئی، تو اس میں درج ذیل تفصیل ہے:
الف: اگر وہ دس دن مکمل حیض میں رہ کر پاک ہوئی ہے، تو اب خواہ صبح صادق سے قبل اسے غسل کا موقع اور وقت ملا ہو یا نہ ملا ہو، بہر حال وہ اس دن کا روزہ رکھے گی۔
ب: اگر دس دن سے کم میں پاک ہوئی ہے، تو یہ دیکھا جائے گا کہ صبح صادق سے پہلے پہلے وہ غسل کر کے پاک ہوسکتی ہے یا نہیں؟ اگر اتنا وقت ہے کہ وہ پاک ہو سکے،تو اس پر اس دن کا روزہ رکھنا ضروری ہوگا اور اگر اتنا وقت نہیں ہے کہ غسل کر سکے گویا کہ عین صبح صادق کے وقت پاک ہوئی ہے، تو اب اس پر اس دن کا روزہ رکھنا درست نہیں ہے؛ بلکہ بعد میں قضا کرنی ہوگی۔
(کتاب المسائل، ج: ۲، ص: ۲۴۹۔۱۵۰)
دن میں بچہ بالغ ہوا یا کافر اسلام لایا:
اگر دن میں کسی وقت بچہ بالغ ہوا یا کافر اسلام لایا، تو ان کو شام تک روزہ داروں کی طرح رہنا ضروری ہے ۔ (کتا ب المسائل، ج:۲، ص: ۱۵۰)
نصف النہار سے قبل بالغ ہونے یا اسلام لانے کے لیے نفل روزہ کی نیت:
اگر بچہ نصف النہار شرعی سے قبل بالغ ہوجائے اور اس نے ابھی تک کوئی منافی روزہ کام نہیں کیا ہے ،تو وہ نفل روزہ کی نیت کر سکتا ہے۔
اور اگر کوئی کافر نصف النہار شرعی سے پہلے اسلام لائے اور وہ نفل روزہ کی نیت کرنا چاہے، تو اس کی یہ نیت معتبر نہیں ہوگی۔
(کتاب المسائل، ج: ۲، ص: ۱۵۰)
دس سال کے بچوں کو روزہ کی تاکید کرنا:
جو بچہ دس سال کا ہوجائے اور روزہ کی طاقت ہو، تو اسے روزہ کا حکم دیا جائے اور اگر وہ بلاعذر روزہ چھوڑے گا ، تو اس کو تنبیہ کی جائے گی۔
(کتاب المسائل، ج: ۲، ص:۱۵۱)
کسی عورت نے نفلی روزہ رکھا پھر حائضہ ہوگئی:
اگر کسی عورت نے نفلی روزہ رکھ لیا، پھر صبح صادق کے بعد حیض شروع ہوگیا، تو یہ روزہ شروع کرنے سے لازم ہوگیا؛ لہذا حیض ختم ہونے کے بعد اس روزہ کی قضا لازم ہے۔
(کتاب المسائل، ج: ۲، ص: ۱۵۲)
مسافر اگر زوال سے پہلے مقیم ہوگیا:
اگر مسافر نصف النہار شرعی یعنی ضحوۂ کبری سے قبل مقیم ہوگیا اور اب تک اس نے کوئی منافی صوم عمل نہیں کیا ہے، تو اس کے ذمہ لازم ہے کہ وہ نیت کر کے اس دن کا رزہ رکھے۔
(کتاب المسائل، ج: ۲، ص: ۱۵۲)
عیدین اور ایام تشریق میں روزہ کی نیت درست نہیں ہے:
اگر عیدین یا ایام تشریق (یعنی ذی الحجہ کی ۱۱، ۱۲، ۱۳؍ تاریخ ) میں کوئی شخص روزہ کی نیت کرے، تو اس روزہ کا پورا کرنا ضروری نہیں اور فاسد ہونے کی صورت میں اس کی قضا بھی لازم نہ ہوگی؛ بلکہ اس کا فاسد کر دینا واجب ہے، اس لیے کہ ان ایام میں روزہ رکھنا مکروہ تحریمی ہے ۔
(تحفہ رمضان، ص:۶۰۔۶۱، از: مفتی سلمان صاحب قاسمی مدظلہ العالی )
Tags
ماہ مبارک کوئز
