اسباب (فکری ارتداد کے مزید کچھ اسباب)
کارٹون یا دیگر ویڈیوز کے ذریعے عقائد پر حملے
بچوں کی تربیت کے حوالے سے بڑی غفلت و لاپرواہی پرتی جا رہی ہے، بچے آہستہ آہستہ ماحول کی آلودگی کا اثر لےکر برے راستہ پر چل پڑتے ہیں، تو پھر وہ چھوٹے بڑے گناہ اور جرم کرنے سے دریغ نہیں کرتے ، اللہ کی نافرمانی، رشتہ داروں اور مخلوق کی ایذا رسانی، جھوٹ، دھوکہ، امانت میں خیانت، چغل خوری، ڈاکہ زنی، زنا، قل و رشوت، حرام خواری ان کا شیوہ بن جاتا ہے اور پھر بعض مرتبہ انسان ذہنی، فکری اور مذہبی ارتداد کا شکار بھی ہو جاتا ہے۔
بے شمار ایمان سوز اور حیا سوز کارٹون، ڈرامے اور فلموں کے نام ہم آپ کو گنواں سکتے ہیں، جنہیں ہمارے بچے بچیاں بڑے ذوق و شوق سے دیکھتے اور لطف اندوز ہوتے ہیں، لیکن والدین اور ذمہ داران کے کانوں پر جوں تک نہیں رینگتا، بلکہ اس سے خوش ہوتے ہیں کہ بچے ہماری جان چھوڑ کر رہ رہے ہیں، ضد اور پریشان نہیں کر تے ہیں، اس سے ہمیں بھی چین و سکون ہے اور بچوں کے لیے بھی مفید ہے۔
ہندو یا دیگر تشدد پسند تنظیموں کی سازشیں
شر پسند دشمن عناصر تنظیم بالخصوص بھگوا دھاری آر ایس ایس ہندو شدت پسند تنظیموں کی طرف سے مسلمانوں کو مرتد بنانے کی جو مہم جا ری ہے اور اس کے لیے مختلف ہتھکنڈے استعمال کیے جا رہے ہیں، وہ تشویس ناک ہے۔
’’اسکولوں میں مسلمان بچوں کے ذہن میں ارتداد کا زہر گھولنے اور مذہب اسلام سے ان کو بیزار کرنے کے لیے آر ایس ایس کے منصوبے اور ان کی ناپاک سر گرمیوں کا اندازہ ذیل کے واقعہ سے بخوبی لگایا جا سکتا ہے: اطلاعات کے مطابق آر ایس ایس کی جانب سے ایک منظم پروگرام کے تحت سیکڑوں مسلمان بچوں کو ہند و شناخت کے ساتھ آر ایس ایس کے ٹریننگ کیمپ میں بھیجا جا رہا ہے، وہاں ان کو بھگوان کی مورتیوں کی پوجا سمیت ہندو مذہبی تعلیمات سے ورشناس کرایا جا رہا ہے، کیمپوں میں مسلمان بچوں کو یہ باور کرایا جا رہا کہ کسی مسلمان کا نام ہندووانہ نام ہونا یا رکھنا کوئی مسئلہ نہیں، اگر کہیں انہیں اپنے ہندووانہ نام سے کوئی مسئلہ درپیش ہو جائے، تو انہیں چاہئے کہ وہ آر ایس ایس کی جانب سے ’’ رضا کاروں کے نام پر جاری کردہ شناختی کارڈ‘‘ کو استعمال کریں، جس میں مسلم طلبہ کو ہندو نام دئے گیے ہیں۔
مسلمان طلبہ کے خلاف یہ سازش اس وقت آشکارہ ہوئی، جب اتر پردیش کے سدھارتھ نگر سے تعلق رکھنے والے ایک کم سن آٹھویں کلاس کا مسلمان طالب علم گلزار احمد کے والد محبوب احمد نے سدھارتھ نگر کوتوالی، پرتی بازار پولس اسٹیشن میں درخواست دی کہ ان کے بیٹے گلزار احمد کو ان کے ہیڈ ماسٹر نے ایجوکیشن ٹور کے نام پر ہندو نام کی شناخت دے کر آر ایس ایس ٹریننگ کیمپ میں بھیج دیا ہے۔‘‘
(کفر و اتداد کا زمانہ اور امت مسلمہ کی غفلت و بے حسی صف: ۱۱۴)
’’بعض اسکولوں میں باضابطہ سرسوتی کی مورتی رکھی جاتی ہے، جن کو ہندو آئیڈیا لوجی کے مطابق تعلیم کی دیوی ماناگیا ہے اور بلا فرق مذہب تمام بچوں سے کہا جاتا ہے کہ اس پر پانی اور پھول چڑھائیں۔،،
’’بعض اسکولوں میں ریاستی سرکار کے حکم نامے کے تحت سال میں ایک دن سورج کی پرستش کی جاتی ہے، اس کو ’’ سوریہ نمسکار‘‘ کہا جاتا ہے اور تمام طلبہ و طالبات کو اس کا پابند بنایا جاتا ہے۔‘‘
(ماہنامہ ارمغان ولی اللہ، پھلت مظفر نگر، مارچ ۲۰۱۵ص: ۱۴)
ہندو تنظیموں کے علاوہ دوسری بہت سی جماعتیں اور تنظیمیں اس ارتدادی مشن میں سر گرم عمل ہیں، صرف ہمارے ملک ہندوستان میں ہی نہیں؛ بلکہ پوری دنیا میں عالمی پیمانے پر مسلمانوںکو ذہنی، فکری اور تہذیبی مرتد بنانے کے لیے کوشاں ہیں۔
نفسانی خواہشات کی اتباع
انسان کے اندر خواہش کا ہونا کوئی بری بات نہیں ہے؛ بلکہ درحقیقت یہ اللہ تعالی بڑی نعمت ہے، البتہ ناجائز اور حرام جگہوں میں خواہش کو استعمال کرنا یہ حرام، ناجائز اور ممنوع و قبیح ہے۔
انسانی خواہشات کی پیروی بڑا خطرناک مرض ہے، جس نے ہمیشہ راہِ راست و صراط مستقیم سے لوگوں کو ہٹایا اور گمراہی کے غار میں ڈھکیلا ہے، معلوم نہیں کہ اس بیماری کے شکار کتنے لوگوں کو اس نے جہنم رسید کیا ہے؟ اس کی جانب قرآن کریم میں بھی اشارہ ہے کہ اتباع خواہشات کی وجہ سے غلو پیدا ہوتا ہے، چناں چہ فرمایا گیا: ’’ وَلَا تُطِعْ مَنْ اَغْفَلْنَا قَلْبَہ عَنْ ذِکْرِنَا وَاتَّبَعَ ھَوَاہُ وَکَانَ اَمْرُہ فُرُطًا‘‘ اور تم پیروی نہ کرو اس کی جس کے دل کو ہم نے اپنے ذکر سے غافل کر دیا ہے اور وہ اپنی خواہش کی اتباع کرتا ہے اور اس کا معاملہ حد سے بڑھا ہوا ہے۔
(غلو فی الدین، حقیقت، اسباب اور صورتیں ص :۱۳۷)
محمد بن سیرین ؒ فرمایا کرتے تھے: ’’ اِنَّ اَسْرَعَ النَّاسِ رِدَّۃً اھْلُ الاَھْوَا‘‘ کہ خواہشات کے پیچھے چلنے والے سب سے جلدی ارتداد کی طرف بڑھتے ہیں۔
پتہ چلا کہ خواہشات کا اتباع اور شہوات کی پیروی کا سب سے خطرناک پہلو یہ ہوتا ہے کہ کبھی کبھی اس کا انجام بے ایمانی و بے دینی اور ایمان و یقین سے محرومی کی شکل میں ظاہر ہوتا ہے۔
مذکورہ بالا اسباب کے علاوہ فقر و تنگدستی، بچوں کو خاندان اور امور خانہ داری میں حق نہ ملنا، نکاح میں تاخیر، مصرفانہ شادی بیاہ ، گھریلو و معاشرتی بگاڑ وغیرہ یہ تمام چیزیں ہیں، جن کی طرف غور و خوض اور توجہ کی اشد ضرورت ہے، تاکہ ہماری نئی نسلوں کے دین و ایمان کی حفاظت ہو سکیں۔
مابقیہ فکری ارتداد کے اسباب کا ذکر پورا ہوا۔

السلام علیکم ورحمَہ اللہ و برکاتہ
ReplyDelete