ایک با فیض با توفیق اور با کمال عالم دین
ادیب باکمال لسانیات کا ماہر منبع علم و فکر حضرت مولانا محمد سجاد حسین صاحب قاسمی دامت فیوضہم کا مقالہ بنام ایک بافیض باتوفیق اور باکمال عالم دین ندائے دارالعلوم وقف دیوبند میں شائع ہوا ہے، جو نہایت عمدہ دلچسپ اور معلومات افزا ہے۔
استاذ محترم و مکرم نے جس شرح و بسط کے ساتھ حضرت مولانا محمد اسلام صاحب قاسمی رحمۃ اللہ علیہ کی حیات مستعار، زندگی کے اتار چڑھاؤ اور خدمات لامحدود کو قلم بند کیا ہے، وہ کسی ادیب، مفکر اور لفظوں سے کھیلنے کا ملکہ و دسترس رکھنے والے ہی کو زیب ہے، کیوں کہ ایک عظیم ہنستی کے کارنامے کو بروئے کار لانے کے لئے ایک عظیم ہنستی ہی موزوں و مناسب ہے۔
بہر کیف استاذ گرامی کی یہ تحریر حقیقت کا عکاس، لفظوں کا محور اور نہایت پر سوز ہے، میں نے بارہا مطالعہ کیا ہے، افادۂ سامعین و قارئین کی غرض سے بغیر کسی تغیر و تبدیلی کے اس پلیٹ فارم سے شائع کیا جا رہا ہے اور آخر میں ندائے دارالعلوم وقف دیوبند کا وہ بیج بھی دے دیا جائے گا، جن پر یہ مقالہ شائع ہوا ہے۔
امید ہے کہ آپ تمام حضرات اس سے بھرپور فائدہ اٹھائیں گے اور دوسروں کو بھی تلقین کریں گے۔
اس سینہ گیتی پر نہ جانے کتنے اصحاب فضل و کمال، رجال فکر و نظر، اساطین علم و ادب، ماہرین سیاست اور نابغہ روز گار شخصیات آئیں اور اپنے اپنے میدانوں میں محیر العقول اور قابل قدر کارناموں کی انجام دہی کے بعد بہ قضائے الہی اس کائنات ارضی کو خیر آباد کہتے ہوئے ہزاروں معتقدین دین و محبیین ، مستفیدین و متسین کو نمناک و غمناک کر کے اس فانی دنیا کی گلفتوں سے نجات حاصل کر کے مالک حقیقی سے جاملے۔
ہر ایک کے اپنے کمالات و خوبیاں، ہر ایک کی اپنی حسین ادا ئیں اور قابل رشک اچھائیاں اور ہر ایک کی حیرت انگیز علمی کاوشیں اور خیرہ کن فکری نقوش و آثار ہوتے ہیں، جو کرہ ارض پر بسنے والے انسانوں کے لئے کسی نہ کسی طرح باعث کشش ثابت ہوتے ہیں، جو انسان کو مرنے کے بعد بھی جلا و دوام بخشتے ہیں۔
حضرت مولانا محمد اسلام صاحب قاسمی نور اللہ مرقدہ، استاذ حدیث دارالعلوم وقف دیو بند بھی ان ہی جاوداں اور محبوب ترین شخصیات میں سے ایک تھے، جو اس کلفت بھری زندگی کو داغ مفارقت دینے کے بعد ہی ہندو بیرون ہند میں آبادان گفت علم دوست اور علم نواز حلقوں میں زندہ و پائندہ ر ہیں گے اور اپنی علمی و دینی خدمات کی بہ دولت عرصہ دراز تک یاد کئے جائیں گے۔
پرکشش اور دلآویز شخصیت
در از قامت ، گندمی رنگ گول چہرہ ، آنکھیں بڑی، کشادہ پیشانی سنجیدگی و متانت کے پیکر، شرافت و نجابت کے مرقعہ، خوش اطوار، خوش مزاج ، خوش پوشاک ، خوش گفتار، نفاست و نزا بت میں ممتاز، شریف النفس، محمل المزاج، خودی و خودداری ، خودشناسی و خدا شناسی کی بولتی تصویر، جرأت و عزیمت کا حسین امتزاج، با ضمیر، با اخلاق اور بامروت انسان، علم میں گہرائی و گیرائی ، وسعت مطالعہ ، ژرف نگاہی ، بصارت و بصیرت کی دولت سے مالا مال ، ہمدردی و بہی خواہی ان کا مزاج و مذاق، با فیض مدرس، با توفیق معلم ، لطف و محبت کا عکس جمیل، حسن اخلاق کا مجسمہ، اسلامی عظمت کے پرستار، اتحاد اسلامی کے پیغامبر ، صداقت وصاف گوئی میں طاق ، تکلف و تصنع سے کوسوں دور، چھل کپٹ سے متنفر، باہمی عداوت و شکر رنجی سے گریزاں ، اشتعال انگیزی اور قنوطیت سے یکسر دور، لایعنی کاموں اور غیر ضروری مشاغل سے دامن کشاں، اپنی قابلیت وصلاحیت پر فخر و ناز سے بالکلیہ احتراز ان کا شیو ہ تھا۔
تری سے ثریا تک کا پر بھار سفر
اس کار گہ حیات میں نہ جانے کتنے علمی عملی لعل و گوہر آئے جنہوں نے اپنی تابانی اور درخشندگی سے پوری دنیا کو چھکایا اور اپنی ضوفشانی سے اسے اجالا عطا کیا۔
اس سفرت حیات میں کتنے عظیم المرتبت ، جوان عزم ، قوت ارادی کی دولت سے مالامال، دلیری و جوانمردی کے شہنشاہ، جانفشانی اور جاں کا ہی کے جوہر سے نہال شخصیات نے اپنی تعمیری سفر کا آغاز کیا ۔
حالات سے ٹکرائے ، مشکلات کا سامنا کیا، مصائب کے سامنے سینہ سپر ہوئے، فتنوں اور یورشوں کو سپر کیا ، راہ ترقی کے سنگ گراں کو ہمت و عزیمت کے اوزاروں سے پاش پاش کر کے اپنی راہ بنائی اور بلند یوں کے منازل طے کر کے تاریخ کے اوراق میں سنہرے حروف سے اپنے نام درج کرائے ۔
ان ہی با حوصلہ، با عزیمت، دلیر ونڈ ر اور آزمائشوں اور امتحانات کے سامنے سپر نہ ڈالنے والی ایک اہم شخصیت حضرت مولانا محمد اسلام صاحب قاسمی رحمہ اللہ کی تھی، جنہوں نے ایک دیہات سے حصول علم کے لئے بادہ پیمائی کی علمی ہیرے جواہرات سے اپنے دامن مراد کو سجانے کے لئے کئی مشکہار اور عطر بیز علمی و عرفانی دبستانوں کا رخ گیا، ہر خوشبو دار اور خوش رنگ پھول کے دلفریب نظاروں سے اپنی آنکھوں کو خوش کیا اور دماغ کو معطر کیا۔
ان کے اشہب شوق نے مختلف علوم وفنون میں انہیں دیوانہ وار سرگرم رہنے پر مجبور کیا ، ان کے علمی شوق لگن، دیدہ وری ، اور جان سوزی نے ایک لمحے کے لئے انہیں اپنے مقصد کی حصول یابی سے غافل نہیں کیا۔
اس تماشا گاہ عالم میں اپنی ذات کو مختلف صلاحیتوں اور قابلیتوں سے لیس کرنے میں ہر وادی میں طبع آزمائی کی اور ہر کوچہ میں قدم رکھا۔
فن خطاطی ہو یا انشاء پردازی، خطابت ہو یا صحافت، سخن فہمی ہو یاسخن سنجی، تحریر ہو یا تقریر، تصنیف ہو یا تخلیق، حتی کہ انتظامی امور کو سنبھالنے اور ملی مسائل کی گتھیاں سلجھانے میں بھی آبلہ پائی کی ۔
الغرض مرحوم نے اپنی شخصیت کو نکھارنے، سنوارنے اور اپنی صلاحیتوں کو بال و پر دینے کے لئے حتی المقدور کوشش کی اور ہر میدان میں اپنے معاصرین میں فائق وممتاز نظر آئے۔
یہ ایک حقیقت ہے کہ وہ طفل مکتب جس کی تعلیم کا آغاز ایسے گھرانے سے ہو جہاں نہ تو علم کا چرچا ہو اور نہ ہی علم وفن کی قدر ہو، جس کے خاندانی پس منظر میں اصحاب فضل و کمال کا وجود تو درکنار، وہ خانوادہ ہی علم دین کے معتبر و مستند علماء سے خالی ہو وہ اگر علمی میدان میں قدم رکھے اور جہد مسلسل، بے پایاں شوق اور بے انتہا جذبے کی دولت سے علمی حلقے میں اپنا نام پیدا کرے، اپنی ایک منفر داور جدا گا نہ شناخت قائم کرکے مطلع علم وادب پر جگمگانے لگے، تو یہ اس کے کمال اور تفوق کی دلیل بھی ہے اور اس کے لئے یہ سرمایہ فخر و ناز بھی ہے۔
اس میں کوئی دورائے نہیں ہے کہ مولانا اسلام صاحب قاسمی ایک دور افتادہ علاقہ کے پر دو خاک سے نکل کرسن شعور کی آنکھیں ایسے ماحول میں کھولیں، جہاں نہ حرف آشنائی اور علم دوستی کی کوئی قدرو قیمت تھی ، نہ ہی حصول علم کے لئے کوئی تحریک یا تشویق تھی، نرا د یہات جہاں دور دور تک نہ دانش گاہ اور نہ مدرسہ تھا ،جہاں یہ ہو نہار بچہ اپی علمی تشنگی کو بجھا سکے، اپنی خداداد صلاحیتوں کو مہمیز لگا سکے اور اپنے فطری جو ہر کو آنچ دکھا سکے۔ بہر صورت کا تب تقدیر نے اس ذہین وفطین، زیرک و ہوشمند مختی و جفاکش، مثبت سوچ کے حامل اور منفی ذہنی ساخت سے خالی، طالب کی تقدیر میں ایک نمایاں استاذ ایک معتبر قلم کار، ایک خوش خط خطاط، ایک مستند محدث ، ایک کہنہ مشق ادیب، ایک بے باک صحابی و انشاء پرداز ، ایک ہر دلعزیز مربی، ایک دور رس مفکر، ایک وسیع المطالعہ محدث اور ایک قابل و مستند مورخ بننا لکھ رکھا تھا۔
سب سے نمایاں اور قابل تقلید امر یہ کہ ایک نامعلوم ، گمنام اور دور افتادہ علاقہ سے رخت سفر باندھنے والاشائق علم کس قدر برق رفتاری سے ہر میدان میں اپنا سکہ جماتا گیا اور ہر محفل کا صدرنشین بنتاگیا۔غور کرنے سے چند باتیں سامنے آتی ہیں۔
ہدف پر ترکیز اور کچھ کر گزرنے کا جنون
اس بات سے کسی صاحب عقل و خرد کو قطعا انکار کی گنجائش نہیں کہ خاکی پیکر انسان کمزور بھی ہے اور طاقتور بھی، کمزور اتنا کہ ہر کام کے آغاز سے قبل خدشات سے خائف اور نتائج کے تئیں پس و پیش کا شکار رہتا ہے اور کئی دن اسی تردد اور کشمکش میں گزر جاتا ہے کہ اس کام کا بیڑا اٹھائیں یا ترک کریں۔
یہی انسان جب قوت ارادی کے جوہر سے لیس ہو کر عزیمت کی طاقت سے مسلح ہو کر کسی مشکل ترین اور سنجیدہ کام کی انجام دہی کے لئے کمر بستہ ہو جاتا ہے تو ہمالیہ کی بلندی بھی اس کے سامنے اپنی کو تاہ قامتی کا شکوہ کرنے لگتی ہے اور سمندر کی وسعت بھی اپنی تنگی کا گلہ کرنے پر مجبور ہوتی ہے۔ الحاصل مولانا نے اپنے مستقبل کو تابناک بنانے اور حیات مستعار کو قابل قدر بنانے کے لئے ہمہ وقت فکر مندر ہے ، اپنے نصب العین کو سامنے رکھا، زندگی کو کا میاب اور قابل تقلید بنانے کے ہر قسم کے جتن کئے ، اپنے عزائم کو بروئے کار لانے کے لئے ہمیشہ سعی پیہم اور جہد مسلسل میں لگے رہے اور چوں کہ یہ دستور ربانی ہے "ليس لِلإِنسَانِ إِلَّا مَا سَعی" کہ انسان کو اس کی کوشش کا حاصل مل کر رہتا ہے، نیز باری تعالیٰ کا ارشاد ہے : " إِنَّا لَا نُضِيعُ أَجْرَ مَنْ أَحْسَنَ عَمَلا‘‘ نیک عمل کرنے والے کے عمل کو ہم رائیگاں نہیں کرتے ہیں۔
الغرض حضرت اپنے طے کردہ ہدف پر تر کیز اور تو فیق ربانی کی بہ دولت قلیل عرصے میں ہر محاذ پر نمایاں اور منفر د نظر آئے اور دوسروں کے لئے نمونہ و اسوہ بن کر ابھرے۔
گراں مایہ سرمایۂ حیات کی قدردانی
دنیا میں انسان کی سب سے گراں قدر سرمایہ اس کا قیمتی وقت ہوتا ہے، وقت کی اہمیت اس کی قدردانی اور اس کے صحیح استعمال سے انسان کی ترقیات کی منزلیں طے ہوتی ہیں۔ وقت انسان کو اپنے دور کا قلندر اور اپنے عہد کا سکندر بنایا ہے۔ فرصت کے اوقات کو کارآمد بنانے والے رجال کار کو دنیا کے ہر میدان میں سرخروئی واقبال مندی نصیب ہوتی ہے۔
حضرت مولانا محمد اسلام صاحب قاسمی نے اپنی حیات مستعار کے ایک ایک لمحے کو بڑے سلیقے اور احتیاط سے علمی و فکری کاموں میں کھپایا اور تدریس و تصنیف کی سنگلاخ وادی میں اپنی عمر عزیز کے گراں مایہ اثاثہ کو بے حد خوبی و خوش اسلوبی سے صرف کر کے اپنے پیچھے کئی ایک نادر اور معلومات افزا کتا ہیں چھوڑیں، جو نسل نو کی علمی بالیدگی اور فکر و نظر کی بلندی کے ایک عظیم سوغات ہیں۔ وقت کی پابندی اور ضیاع وقت سے تحفر نے انہیں اپنے احباب پر تفوق و برتری بخشا اور ان کو جاودانی و دوام عطا کیا۔
مثبت فکر سے متصف اور جذباتیت سے گریزاں
رب کائنات نے انسان کی فکر وسوچ کا سانچہ کچھ ایسا بنایا ہے کہ کبھی وہ پیش آمدہ واقعات و حوادث کے بارے میں مثبت سوچتا ہے اور کبھی وہی انسان اچھی اور خوشگوار چیزوں کے بارے میں منفی سوچ قائم کرتا ہے ۔ مثبت سوچ کے حاملین ہمیشہ زندہ دل خوش و خرم ، باغ و بہار اور نہال رہتے ہیں ۔ جذباتیت سے دوری اور اشتعال انگیزی سے نفوران کا شیوہ ہوتا ہے۔ وہ نا خوشگوار چیزوں میں خوشگوار چیزوں کے متلاشی ہوتے ہیں اور زندگی کے پر پیچ اور پر خار وادی میں بھی ہمہ وقت مگن رہتے ہیں اور اپنا سفر پوری تیز گامی سے جاری و ساری رکھتے ہیں۔
اس کے برعکس وہ حضرات جن کی سوچ میں کجی ہو اور منفی چیزوں سے متاثر ہوں، وہ ہمیشہ اعصابی تناؤ، ذہنی پراگندگی فکری الجھاؤ کے شکار رہتے ہیں، آسان مسئلے کو پیچید و اور مشکل بنانے کی سوچتے ہیں ، وہ خوش گوار زندگی کو بھی منفی سوچ کی گندگی سے مکدر کر دیتے ہیں، وہ اپنے لئے اور دوسروں کے لئے وبال جان ثابت ہوتے ہیں ۔
حضرت مولانا اسلام صاحب کو خدا تعالیٰ نے مثبت سوچ کی دولت فراواں سے مالا مال کیا تھا، وہ حالات کی خرابی اور زندگی کی ناہمواریوں اور تلخیوں کو اپنی کامیابی کا مقدمہ باور کرتے تھے، وہ حالات کو اپنے عزم و استقلال میں شان چڑھانے ، ہمت و حوصلہ کے بازو پر کو تیز کرنے کا ذریعہ سمجھتے تھے۔
تندی باد مخالف سےنہ گھبرا اے عقاب*یہ تو چلتی ہے تجھےاونچا اڑانے کے لئے
خیر مولانا کی کامیاب، خوشگوار اور خوشحال زندگی کا راز ان کا ایجابی سوچ سے انصاف اور جذباتیت و انفعالیت سے اجتناب میں پنہاں تھا۔ ایجابی فکر کے جو ہر نے انہیں ہر موڑ پر سرخرو اور ہرمشکل گھڑی میں مضبوط و مستحکم کر رکھا تھا۔
رجائیت پسندی کے خوگر اور ناامیدی سے نفور
حضرت مولانا رجائیت پسند اور امید وسیم کے عاشق انسان تھے، ان کے دل میں ہمیشہ امید و آس کی قندیلیں فروزاں رہتی تھیں، وہ زندگی میں کبھی نا امیدی اور مایوسی کو قریب پھٹکنے نہیں دیتے تھے، وہ حالات کی تاریکی اور مشکلات کی شب دیجور میں امید و بیم کی شمع جلا کر چمن حیات کو یاس و قنوط کی پر چھائیوں سے پاک صاف کرتے تھے، وہ کبھی بھی نا امیدی اور مایوسی کے منحوس بادل کو اپنے سر پر منڈلانے کا موقع نہیں دیا کرتے تھے، بل کے امید و نیم کی شمع فروزاں سے اپنے دل کی دنیا میں ہمیشہ اجالا قائم رکھا گویا کہ انہوں نے علامہ اقبال کے اس شعر کو اپنی زندگی کا اصول بنارکھا تھا:
نہیں ہےنا امیداقبال اپنی کشت ویراں سے*ذرا نم ہو تو یہ مٹی بڑی زرخیز ہے ساقی
یہی وجہ ہے کہ عمر کے آخری پڑاؤ میں جب اس مرد قلندر پر فالج اور دورہ قلب کے پیہم حملے تابڑ توڑ ہوئے اور وہ بھی عین اس وقت جب سردی شباب پر تھی جس میں بڑے بڑے جوان سال ، متحرک و فعال نو جوانوں کو سردی کی لہر سے ٹکرانا تو دور، گھر سے باہر نکلنا مشکل ہو رہا تھا، اس مرد میدان تسلیم و رضا سے تقدیر الہی کی ہر آنے والی مصیبت کا خندہ پیشانی اور صبر وشکر کے ساتھ استقبال کیا اور ان دونوں مہلک و جان لیوا بیماریوں کو مسکراتے ہوئے برداشت کیا۔ پوست استخواں سے بنا جسم نحیف و نازک ان جان کا ہیوں کی تاب کیا لاتا، صحت روز بروز بگڑتی گئی، قوی مضمحل ہوتے گئے ،تاب و تواں جواب دے چلی، چلنے پھرنے سے معذور ہو گئے ، ایسے وقت میں بھی ملنے جلنے والوں سے خندہ پیشانی سے ملتے، ان کے احوال معلوم کرتے اور دوبارہ درس حدیث جاری کرنے کی خواہش کا اظہار بھی کرتے ، وہ خود مریض تھے، نحیف تھے اور بے بس تھے لیکن ملنے والے اساتذہ و زائرین سے اس قدر بے تکلفی سے بات کرتے کہ سب کا غم غلط ہو جاتا اور سب خوش و خرم واپس آتے ۔ یہ در حقیقت رجائیت کا وہ جوہر سیماب تھا جو انہیں بولنے، احوال معلوم کرنے اور زندگی سے لطف اٹھانے میں ان کے حوصلے کو مہمیز لگا تا۔
استقامت و استقلال کا کوہ ہمالیہ
مرحوم کی حسین زندگی کو حسن و جمال ، رنگ و آہنگ اور آب و تاب بخشنے میں سب سے نمایاں کردار و شب و روز کے معمولات پر ان کی استقامت اور راہ علم و عمل سے درپیش رکاوٹوں کے سامنے ان کی اولوالعزمی اور ثابت قدمی تھی۔ مستقل مزاجی خود اعتمادی و خدا اعتمادی، ہمت و حوصلہ، صبر و ثبات ، بیدار مغزی کی فروانی معرکۂ حیات میں ان کے لئے قندیل راہ تھی۔
وہ اپنی استقامت کے بل بوتے اور ربانی توفیق کی عظیم سوغات کی بدولت اپنی زندگی کی الٹ پھیر، مصائب کے پیہم حملوں کے باوجود کام میں مگن ومست رہتے ، ان کا دل و دماغ ، قلب و استقلال کی دولت بیش بہا کی بخششوں سے شب و روز حو صلہ پاتے رہے ۔ ان کی زبان نکتہ سنجیوں میں مصروف اور ان کا دور رس ذہن علمی جواہر پاروں سے نسل نو کو بہرہ ورکرنے میں منہمک ۔ انہوں نے دنیوی حالات کو کبھی دائمی نہ بنے دیا، وہ زندگی کے بارے میں یہ یقین رکھتے تھے کہ اس کے نشیب وفراز ، اس کے اتار چڑھاؤ، اس کے شیریں و تلخ روش میں ہی ایک انسان کی شخصیت کے نکھرنے ، سنور نے اور چمکنے کا موقع ودیعت کیا گیا ہے۔
مختلف فنون پر قدرت و کمال اور اس کا صحیح استعمال
مولانا محترم کو خدا تعالیٰ نے گونا گوں خوبیوں کے ساتھ نوع بہ نوع کی ہنر مندیوں اور صلاحیتوں سے نوازا تھا، انھوں نے خدا کی عطا کردہ ہر صلاحیت کی قدردانی کی اس میں رنگ بھرنے کے لئے اپنی صلاحیت کو اس میدان میں لگایا جہاں اس کی بروقت ضرورت تھی ، اور اس حاصل شدہ فن کو زنگ نہیں لگنے دیا؛ بلکہ اگر اس فن میں کمزوری یا کوئی کمی محسوس ہوئی یا اس میں کسی طرح کی وقت کا احساس ہوا تو فوری طور پر اس کو تقویت واستحکام بخشنے کے بہانے ڈھونڈ لاتے ، مثلاً تدریس ان کا اپنا محبوب مشغلہ اور ان کی دلچسپی کا سامان تھا، تدریس اور ان کی زندگی میں دھوپ چھاؤں اور چولی دامن کا رشتہ تھا تدریس کے بغیر وہ ماہی بے آب نظر آتے تھے جیسا کہ عمر کے اخیر ایام میں دیکھنے کو ملا، لیکن تدریس کی صبر آزما اور وقت طلب مصروفیت نے انہیں علمی کاوشوں اور تحقیقی مضامین کی تحریر وتر تیب سے بھی نہیں روگا ؛ بلکہ ان کا اشہب قلم تحریری جولان گاہ میں ہمیشہ تیز گام اور سرگرم عمل رہا، جس کے نتیجے میں کئی ایک قیمتی و معلومات افزاء اور وقیع کتابیں مختلف موضوعات پر لکھ کر داد تحسین وصول کرنے میں کامیاب ہوئے۔
خطاطی کے فن میں مہارت تامہ رکھتے تھے، خفی و جلی عناوین و سرخیوں کی دل آویز ، دیدہ زیب اور دلکش کتابت میں طاق تھے، ان کی تحریر میں بلا کی کشش ، جاذبیت ، خوش نمائی و برنائی تھی ، جو قاری کی نگاہ کو مسرور اور خوش کرتی تھی ، اسی لئے باذوق اہل مطابع کو کتابوں کے سرورق پر کچھ لکھانے کے لئے کئی کئی ہفتہ انتظار کرنے پڑتے تھے۔
اسی طرح مولانا میدان خطابت کے شہسوار بھی تھے اور یہ جو ہر میں نے طلبہ کے پروگراموں کے ساتھ ساتھ جامعہ کے افتتاحی و اختتامی اجلاس میں خوب دیکھا ہے۔ ان کی خطابت، چیخ و پکار تصنع و تکلف ، آمد کے عیب سے پاک تھی، ان کی گفتگو میں زور بیان ، الفاظ کی فراوانی ، جملوں کی چستی و پھرتی ، افکار کی رنگارنگی ، کلام میں رابط و انضباط، موضوع پر ارتکاز ، نفسیات کی رعایت اور اشارات کا اہتمام شامل تھا، چنانچہ اپنی ہنر مندیوں اور کمالات سے بھر پور استفادہ کیا اور انہیں کام میں لانے سے قطعا گریز نہیں کیا ، ورنہ اس جہان رنگ و بو میں کتنے ایسے باکمال اور ہرفن مولا حضرات کو دیکھا گیا ہے کہ وہ اپنی ایک ہی صلاحیت پر ترکیز کرنے میں اور بقیہ صلاحیتوں کو بالائے طاق رکھ دیتے ہیں۔
مرحوم کی مقبولیت و محبوبیت کا راز
یہ ایک حقیقت ہے کہ اس جہاں رنگ و بو میں نہ جانے کتنے قابل اور باکمال لوگ پیدا ہوئے جنہیں خدا تعالی نے کمالات و قابلیتوں کا حظ وافر عطا کیا تھا؛ لیکن عملی زندگی میں قابلیت وصلاحیت کے بقدر انہیں مقبولیت و محبوبیت نصیب نہ ہو سکی، مختلف علوم و فنون میں کامل دسترس رکھنے والے کتنے نابغہ روزگار ایسے ہیں جن سے دنیائے انسانیت کسب فیض تو کیا کرتی ان کے نام و کام سے آشنا نہ ہوسکی۔
در حقیقت محبوبیت و مقبولیت کے لئے جہاں توفیق ربانی و تقدیر الہی کا عمل دخل ہے، وہیں بندہ کے عمل ، طرز حیات اور تعامل کا بھی بڑا رول رہا ہے۔ ایک شخص علم و حکمت کا ٹھاٹھے مارتا ہوا سمندر ہو اور گنجینۂ دانش و معرفت ہو ، لیکن معاشرتی زندگی سے نابلد ہو تو وہ تمام تر کمالات و ہنر مندیوں کے باوجود علمی و عملی میدان میں ناکام و نامراد نظر آتا ہے۔
اس کے برعکس ایک آدمی کسی فن پر عبور بھی رکھتا ہو، اس کی ترسیل و ترویج کے ہنر سے بھی آشنا ہو تو اس کے لئے سماج میں اپنا نام پیدا کرنا اور قابل دید کارناموں کو انجام دینا آسان ہوتا ہے اور سماج میں محبوبیت و مقبولیت حاصل کرنا اسے بہ آسانی میسر آتا ہے۔
حضرت مولانا اسلام صاحب قاسمی کو خدا تعالیٰ نے مختلف فنون میں کمال و درک بھی عطا فر مایا تھا اور سماجی زندگی جینے کا صحیح سلیقہ بھی؛ اس لئے وہ دار العلوم وقف دیوبند کے مشائخ کے نور نظر ر ہے، اساتذہ کا اعتماد حاصل کیا، اپنے احباب میں مقبول رہے، انتظامیہ کا دل جیتا، طلبہ کے مابین محبوب و مقبول اور ہر دل عزیز رہے، ان کی مقبولیت کا راز ذیل کے نقاط میں یوں بیان کیا جاسکتا ہے:
(1) علم میں گہرائی و گیرائی ، اضافہ علم میں سدا کوشاں، حکمت و معرفت سے خانہ دماغ کو معمور رکھنا فکری و عقلی بالیدگی کے لئے مطالعہ کو ہمیشہ تازہ رکھنا۔
(۲) احساس ذمہ داری اور اس کی ادائیگی کی فکر اور یہ وجہ احسن انجام دہی کے بعد انبساط نہ کہ انقباض : اپنے فرض منصبی کو نبھانے کے تئیں چاق و چوبند اور اپنی ممکنہ صلاحیتوں کو اس کی تحسین میں کھپانے کے لئے بے تاب ۔
(۳) انسان فی العمل : مولانا رحمتہ اللہ علیہ کے نزدیک کسی مفوضہ کام کی انجام دہی کا یہ مطلب ہر گز نہیں تھا کہ بس کام کو سر سے اتار دیا جائے اور جیسے تیسے لیپا پوتی کر کے اپنی جان چھڑالی جائے؛ بلکہ ان کے ہر کام میں خوبی ، سلیقہ مندی، اہتمام والتزام، عمدگی و بہترائی کی ہر ممکن کوشش ہوتی تھی ، وہ کسی کام کو محض اپنی ذمہ داری نہیں سمجھتے تھے ؛ بلکہ اسے ایک محبوب مشغلہ اور مسرت انگیز عمل سمجھ کر انجام دیتے تھے ؛ اس لئے کسی چیز کی تکمیل اور کسی امر کی انجام دہی سے ان کے ذہن ودماغ جسم و جان پر کبیدگی کے اثرات مرتب نہیں ہوتے تھے۔
(۴) اکابر کا احترام ، احباب کا اکرام اور چھوٹوں پر شفقت جیسے اچھے اوصاف نے انہیں سب کی نظر میں یکساں محبوب و پیارا، ہر دل عزیز بنارکھا تھا ، اکا بر کا ذکر احترام سے لینے کو اپنے لئے باعث اعزاز سمجھتے اور ان کے تذکرے کو اپنے لئے گراں مایہ سرمایہ سمجھتے تھے، اپنے معاصرین کی خوبیوں کا اعتراف ان کی کاوشوں پر ان کی حوصلہ افزائی اور مبارک باد دینے کو اپنا فرض سمجھتے تھے اور ان کے کاموں کی جم کر پذیرائی کرتے۔ اپنے کسی ہم عصر پر بے جا تبصرہ، نامناسب جملہ چست کر دینے سے گریزاں تھے۔ خردوں کے ساتھ عجیب و غریب اپنائیت اور الفت جتاتے، خواہ وہ آپکا شاگرد ہو یانہ ہو۔ اگر ایک مرتبہ رابطہ ہو گیا اور پھر ملاقات ہوئی تو اس کے احوال و کوائف اور جملہ سرگرمیوں کے بارے میں استفسار کرتے اور مفید مشوروں سے نوازتے ، وہ حوصلہ شکنی کرنا جانتے ہی نہ تھے ، ان کا دل کدورت وکینہ سے یکسر پاک صاف تھا اور ان کے قلب میں ہر ایک کے لئے یکساں احترام و تو قیر کے لئے جگہ تھی ۔ وہ تعلی ، تکبر اور زعم پندار کے جراثیم سے منزہ تھے ، وہ سادہ، بے تکلف اور سماجی زندگی گزارنے میں اپنی عافیت سمجھتے تھے۔
(۵) خلق عظیم کی عملی تفسیر تھے، وہ فطرتا نیک دل، پاک طینت، سراپا شرافت و انسانیت ، سراپاخلق و مروت، سراپا مہر محبت اور سراپا فضل و کمال تھے، دل آزاری و دل شکنی ، ایذا رسانی اور فتنہ پروری سے بیزار، بلکہ اس کے سایہ سے دور رہنے والے تھے۔
بہر صورت مرحوم مجموعہ خوبی تھے اور اوصاف و کمالات کے مخزن؛ جدت و قدامت سنگم، دین و مذہب کا علمبردار علم وفن کا شیدائی، تصنیف و تالیف کا رسیا تعلیم و تدریس کا بے تاج بادشاہ، تحریر وانشاء کا شہسوار ، خطابت و وعظ کا بے مثال بادشاہ اور ہر مجلس کا صدر نشین طویل علالت کے بعد اس دنیائے فانی کو خیر آباد کہتے ہوئے ہزاروں معتقدین ومتعلقین کو سوگوار کر کے یوں رخصت ہو گیا کہ آج صرف اس کے جانے کا ماتم نہیں ہے بل کہ فضل و کمال کا ماتم ہے علم وفن کا ماتم ہے، خلق و شرافت کا ماتم ہے؛ بلکہ آدمیت و مروت کا ماتم ہے اور پورا حلقہ علم و ادب سوگوار ہے کہ روایات قاسمی کا پاسبان اور اسلامی اقدار کا نقیب و تر جمان علمی حلقہ کو نمناک کر کے چل دیا، اللہ تعالی مرحوم کی مغفرت فرمائے اور ان کی خدمات کو بے حد قبول فرمائے۔
آتی ہی رہے گی ہر دم تیرے انفاس کی خوشبو* گلشن تیری یادوںکا مہکتا ہی رہے گا










السلام علیکم ورحمہ اللہ
ReplyDelete