شریعت اسلام نے انسانی فطرت کا پاسو لحاظ کرتے ہوئے سال میں دو دن خوشی و شادمی اور مسرت کے لئے مقرر کیے ہیں، جن کو تہوار کہا جاتا ہے۔ یہ عام لوگوں اور غیروں کی طرح نہیں ہیں، جن میں لہو و لعب اور فضولیات ہو، یعنی رسمی تہواریں نہیں ہیں، بلکہ انعام خداوندی اور حصول رضا و رغبت کے ایام ہوتے ہیں۔
اللہ تعالی کا کتنا بڑا احسان و کرم ہے کہ ہمارے لئے خوشی کے دنوں کو بھی ثواب اور عبادت بنا دیا کہ انسان اپنی فطرت کے مطابق خوشی منائیں اور آخرت سے غافل نہ ہو، تو نیکی اور اجر بھی کمائے۔
بہر کیف اللہ نے ہمیں عید جیسی نعمت سے سرفراز فرمایا ہے، تو اس کی بندگی اور حکم کو بجا لاتے ہوئے خوشی کا اظہار و اقرار کریں اور اللہ تعالی سے قوی امید ہے کہ رب العالمین مختصر عبادت اور نیک کاموں شرف قبولیت سے ہمکنار فرما کر ذخیرۂ آخرت بنائیں گے۔
اس خوشی کے موقع پر بندۂ ناچیز بھی اپنی لڑکھراتے قلم سے کچھ اشعاربنام عید الاضحی کا پیغام لکھنے کی کوشش کی ہے، جو آپ قارئین و ناظرین کی خدمت میں ٖپیش کرنا چاہتا ہوں، امید ہے کہ آپ سے پسند فرما کر دعاؤں سے سرفراز
فرمائیں گے۔
خوشی عید کی آؤ مل کر منائیں
غریبوں، یتیموں کو بھی ہم بلائیں
جو نعمت عطا کی ہے ہم کو خدا نے
اسے مستحق پر خوشی سے لٹائیں
تجاوز نہیں سنتِ مصطفیٰ سے
سکھی یا دکھی ہو یا آئیں بَلَائیں
نہ کر اکتفا جانور کر کے قرباں
حسد، بغض، نفرت سبھی کچھ ہٹائیں
یہی درس پنہاں ہمارے لئے ہے
کہ تعمیلِ رب میں سدا سر جھکائیں
خدا شاد رکھے، عطا ہو نوازش
اے کافیٓ یہی ہے ہماری دعائیں
ابن یوسف کافیؔ قاسمی مدھوبنی بہار

