کیا بھینس کی قربانی درست ہے؟
سوال:
بعض لوگ کہتے ہیں بھینس کی قربانی درست نہیں ہے، کیا ان کی یہ بات درست ہے؟
اس موضوع پر بہت تفصیلی مکمل دلائل کے ساتھ جواب مطلوب ہے۔
بسم اللہ الرحمن الرحیم
الجواب بعون اللہ ۔حامدا ومصلیا امابعد
واضح رہے کہ قرآن وحدیث کی روشنی میں فقہائے کرام مفسرین حضرات کے نزدیک بھینس گائے کی نوع میں شامل ہے۔
قرآنِ مجید میں ہے تمہارےلیے حلال کیے گیے چرنے والے چوپائے سوائے ان کے جو تم پر آئندہ تلاوت کیے جائیں گے۔
ظاہر سی بات ہے کہ بھینس بھی چرنے والے جانوروں میں سے ہے، اس لیے بھینس کی قربانی درست ہے۔
اور لوگوں کا یہ کہنا کہ بھینس کی قربانی درست نہیں یہ بات واضح طور پر غلط ہے۔
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہےکہ آپ ﷺ نے فرمایا ہرکچلی(نوک دار دانت جو اگلے دانتوں کے متصل ہوتے ہیں )والے درندے کا کھانا حرام ہے،اور بھینس یقیناًشریعت کے اس اصول کےتحت نہیں آتی، اس لیے بھینس کی قربانی بھی درست ہے۔
فقہاء نے لکھا ہے کہ ۳/ اقسام کے جانور قربانی کے لیے قابلِ قبول ہے،
نمبر ایک:(۱)'غنم' اس میں اس کی انواع اور نرومادہ شامل ہے یعنی بھیڑ" بکری
نمبر دو: (۲)ابل سے مراد اونٹ نرومادہ ہے۔
نمبر تین: (۳)'بقر'اس میں اس کی انواع اورنر ومادہ شامل ہے یعنی گائے بھینس اس لیے ان تمام جانوروں کی قربانی درست ہے۔۔
چناں چہ فتاوٰی عالمگیری میں ہے کہ واضح ہوکہ جنس واجب میں یہ ہونا چاہیے کہ قربانی کا جانور اونٹ ،گائےاور غنم،تین اجناس سے ہو اور ہر جنس میں اسکی نوع نرومادہ اور خصی وفحل سب داخل ہیں کیوں کہ اسم جنس کا ان سب پر اطلاق کیا جاتا ہے۔
اور معز (بھیڑ)نوعِ غنم ہے اور جاموس (بھینس)نوعِ بقرہے ۔
قربانی کےجانوروں میں سے کوئی وحشی جانور جائز نہیں ہے ۔
امام ابن المنذرفرماتے ہیں کہ تمام مسلمانوں کا اس بات پر اجماع واتفاق ہےکہ بھینس کا حکم گائے والا حکم ہے۔
اور صاحب ہدایہ نے بھی جاموس کو بقر کے جنس میں سے مانا ہے۔
اس لیے گائے کی طرح بھینس کی قربانی بھی جائز ودرست ہے۔
واللہ اعلم بالصواب
والحجۃ علٰی ماقلنا
مافی القرآن الحکیم،احلت لکم بھیمۃ الانعام الا ما یُتلٰی علیکم (المائدہ آیت ۱/)
مافی الحدیث،کل ذی ناب من السباع فاکلہ حرام (صحیح مسلم کتاب الصید والذبائح وما یوکل من الحیوان ص ۱۷۴/)
مافی الھندیۃ ،(اما جنسہ)فھو ان یکون من الاجناس الثلاثۃ الغنم او الابل او البقرۃ ویدخل فی کل جنس نوعہ والذکر والانثی منہ والخصی والفحل لانطلاق اسم الجنس علی ذٰلک والمعز نوع من الغنم والجاموس نوع من البقر (الفتاوٰی الھندیہ ج۵/ ص۲۹۷)
بدائع الصنائع ج ۵/ ص ۴۹
وکذا فی الھدایۃ ویدخل فی البقر الجاموس لانہ من جنسہ (الھدایہ ج ۲/ ص ۴۴۷)
Tags
فقہی مسائل
