https://tagassistant.google.com/#/?url=https%3A%2F%2Fguldastakafi.blogspot.com%2F اعتکاف کا بیان، کوئز نمبر ستائیس (۲۷)

اعتکاف کا بیان، کوئز نمبر ستائیس (۲۷)

 


اعتکاف کا بیان

دنیوی کاروبار، معاشی الجھنوں اور ذاتی مصروفیات میں الجھ کر انسان اپنے مقصد تخلیق(وَمَا خَلَقْتُ الْجِنَّ وَالْإِنسَ إِلَّا لِيَعْبُدُونِ) سے غافل ہو جاتا ہے، شیطانی اثرات اس کے دل و دماغ پر اس طرح چھا جاتے ہیں کہ اسے کچھ اور سوچنے سمجھنے اور غور و فکر کرنے کی سدھ بدھ ہی نہیں رہتی اور دھیرے دھیرے یہ غفلت اس قدر بڑھ جاتی ہے کہ نماز، روزہ اور زکاۃ وغیرہ عبادتوں کی انجام دہی سے بھی وہ ختم نہیں ہوپاتی ہے؛ بلکہ نماز دنیوی خیالات میں گزرتی ہے اور روزہ لایعنی و فضول باتوں کی نذر ہو جاتا ہے، جس کی وجہ سے کماحقہ ان چیزوں سے فائدہ نہیں ہوتا۔

معصیت و برائی میں شب و روز گزارنے والےحقیقی چین و سکون کے متلاشی زندہ دل لوگوں کے لیے رمضان المبارک میں ایک اور اہم کام اور مخصوص عبادت ہے، جسے اعتکاف کہا جاتا ہے، جس میں اللہ کے نیک بندے اپنے گھر بار اور دنیوی الجھنوں سے منقطع ہوکر اللہ کے درپر آکر بیٹھ جاتے ہیں اور دن رات صرف اللہ ہی کی یاد میں ڈوبے رہتے ہیں۔

آیات و روایات میں اعتکاف کی بہت فضیلت آئی ہیں: ایک حدیث شریف میں حضرت عبداللہ بن عباسؓ نبی کریمﷺ کا ارشاد نقل کرتے ہیں:’أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ فِي الْمُعْتَكِفِ ہُوَ یَعْكِفُ الذُّنُوبَ، وَيَجْرِيْ لَهُ مِنَ الْحَسَنَاتِ کَعَامِلِ الْحَسَنَاتِ كُلِّهَا‘‘ کہ رسول اللہؓ نے ارشاد فرمایا:اعتکاف کرنے والاگناہوں سے بچا رہتا ہے اور اس کا نیکیوں کا حساب ساری نیکیاں کرنے والے بندے کی طرح جاری رہتا ہے۔

(ابن ماجہ، رقم الحدیث: ۱۷۴۷، المعجم الاوسط، ج:۷، ص: ۲۲۰)

اس حدیث میں اعتکاف کرنے والے کے لیے اتنی نیکیوں کی بشارت سنائی گئی ہے، جتنی کہ کرنے والے کے لیے ہے ، اس کامطلب یہ ہے کہ اعتکاف کرنے والا اعتکاف کی وجہ سے بعض نیک اعمال نہیں کرسکتا،مثلاً مریض کی عیادت ،جنازہ میں شرکت وغیرہ، ایسے اعمال کے بارے میں کہاگیاہے کہ اعتکاف کرنے والا اگرچہ عمل نہیں کرتا ؛مگر ا س کواتناہی ثواب دیاجاتاہے، جتناکہ کرنے والے کودیا جاتا ہے۔

 حضرت عبد اﷲ بن عباس رضی اللہ عنہ سے ہی ایک اور حدیث مروی ہے کہ حضورنبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا :’’مَنِ اعْتَکَفَ يَوْمًا ابْتغَاءَ وَجْهِ اﷲ جَعَلَ  اﷲُ بَيْنَهُ وَ بَيْنَ النَّارِ ثَلَاثَ خَنَادِقَ، کُلُّ خَنْدَقٍ أَبْعَدُ مِمَّا بَيْنَ الْخَافِقَيْنِ‘‘جو شخص اﷲ کی رضا کے لئے ایک دن کا اعتکاف کرتا ہے، اﷲ تبارک و تعالیٰ اس کے اور دوزخ کے درمیان ایسی تین خندقیں حائل فرماتے ہیں، جن کے درمیان آسمان و زمین (مشرق سے مغرب کے درمیان کی) مسافت سے بھی زیادہ فاصلہ ہوتا ہے۔

(شعب الایمان، رقم الحدیث: ۳۶۷۹)

 حضرت علی (زین العابدین) بن حسین اپنے والد امام حسین رضی اللہ عنہ سے روایت کرتے ہیں کہ رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا :’’مَنِ اعْتَکَفَ عَشْرًا فِی رَمَضَانَ کَانَ کَحَجَّتَيْنِ وَ عُمْرَتَيْنِ‘‘ جس شخص نے رمضان المبارک میں دس دن کا اعتکاف کیا،تو اس کو دو حج اور دوعمروں کے برابر ثواب ملتا ہے۔

کتنے خوش نصیب ہیں، وہ لوگ جنہیں ہر سال اعتکاف کی توفیق نصیب ہوتی ہے اور ہر سال وہ اس عظیم سعادت کو حاصل کرنے کے لیے کوشاں ہوتے ہیں۔

(شعب الایمان، باب الاعتکاف،ج:۳،ص:۴۲۵، رقم الحدیث: ۳۹۶۶)

سب سے اہم بات کہ نبی پاک علیہ الصلوہ و السلام کا اس عمل پر مواظبت فرمانا ہی خوداس کی اہمیت وا فادیت کابین ثبوت ہے، ام المومنین حضرت عائشہ ؓ  فرماتی ہیں کہ’’أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ يَعْتَكِفُ الْعَشْرَ الْأَوَاخِرَ مِنْ رَمَضَانَ حَتّٰى تَوَفَّاهُ اللّهُ ثُمَّ اعْتَكَفَ أَزْوَاجُهُ مِنْ بَعْدِهِ‘‘ رمضان کے اخیر عشرہ میں اعتکاف فرما یا کرتے تھے اور آپ ؐ کے بعد امہات المؤمنین حضرات ازواج مطہرات بھی اس کا اہتمام فرما تی تھیں۔

(بخاری ج:۱، ص:۲۷۱، مسلم، ج:۱، ص:۳۷۱)

 اعتکاف عربی زبان کا لفظ ہے، جس کا لغوی معنی ’’خود کو روک لینا، بند کر لینا، کسی کی طرف اس قدر توجہ کرنا کہ چہرہ بھی اُس سے نہ ہٹے‘‘ وغیرہ کے ہیں۔

(ابن منظور، لسان العرب،ج: ۹، ص:۲۵۵)

اصطلاح شرع میں اس سے مراد ہے انسان کا علائقِ دنیا سے کٹ کر خاص مدت کے لئے عبادت کی نیت سے مسجد میں اس لئے ٹھہرنا ،تاکہ خلوت گزیں ہو کر الله کے ساتھ اپنے تعلقِ بندگی کی تجدید کر سکے۔

اعتکاف کے اقسام

(۱) واجب اعتکاف:

یہ نذر کا اعتکاف ہوتا ہے، یعنی جب واجب اعتکاف کی منت مانی جائے، تو اس کو واجب اعتکاف کہتے ہیں، جیسے کوئی شخص یوں کہے کہ اگر میرا فلاں کام ہوگیا، تو میں اتنے دن کا اعتکاف کروں گا، اس کے ساتھ روزہ رکھنا لازم ہوتا ہے۔

(۲) سنت(مسنون) اعتکاف: 

یہ رمضان المبارک کے اخیر عشرہ کا اعتکاف ہوتا ہے، یہ اعتکاف سنت مؤکدہ ہے، البتہ  حضرات فقہاء نے سنت موکدہ علی الکفایہ قرار دیا ہے، جس کا مطلب یہ ہے کہ ویسے تو ہر ایک کو چاہیے کہ وہ اس فضیلت اور ثواب کے کام کو سرانجام دے، تاہم اگر کسی مسجد میں ایک دو آدمی بھی اعتکاف کرلیں، تو اعتکاف کی سنت ادا ہو جائے گی اور یہ پوری بستی والوں کی طرف سے کافی ہوگا؛لیکن اگر کوئی بھی شخص اعتکاف کے لیے نہ بیٹھے، تو سب پر سنت چھوڑنے کا وبال ہوگا۔

 نفل (مستحب)اعتکاف:

اللہ پاک کا قرب اور ثواب حاصل کرنے کے لیے اعتکاف کی نیت سے(خواہ کچھ دیر ہی کیوں نہ ہو) مسجد میں ٹھہرنے کو نفلی اعتکاف کہتے ہیں، نفلی اعتکاف ایک مستقل عبادت ہے، اس لیے ہر مسلمان کو چاہیے کہ جب بھی مسجد جانا ہو، تو نفلی اعتکاف کی نیت کرلیا کرے، جتنی دیر مسجد میں ٹھہرا رہیں گے، اعتکاف کا ثواب ملتا رہے گا۔

واجب اور مسنون اعتکاف کے صحیح ہونے کی شرائط:

واجب اور مسنون اعتکاف اسی وقت صحیح اور معتبر ہوگا، جب اس میں درج ذیل شرائط پا جائیں:

(۱) مسلمان ہونا۔ (لہذا کا اعتکاف معتبر نہیں)

(۲)عاقل و بالغ ہونا۔(لہذا پاگل اور بچہ کا اعتکاف معتبر نہیں)

(۳)نیت ہونا۔ (لہذا بلا نیت مسجد میں ٹھہرنا اعتکاف نہیں کہلائے گا)

(۴) مرد کا ایسی مسجد میں اعتکاف کرنا، جس میں پنج وقتہ نماز باجماعت کے لیے امام و مؤذن باقاعدہ موجود ہوں ۔(لہذا ویران مسجد میں تنہاء اعتکاف معتبر نہ ہوگا)

(۵) معتکف کا روزہ دار ہونا۔(لہذا بغیر روزہ کے واجب اور مسنون اعتکاف معتبر نہ سمجھا جائےگا)

(۶) معتکف کا جنابت اور حیض و نفاس سے پاک ہونا۔ (لہذا حدثِ اکبر کے ساتھ مسجد میں اعتکاف کرنا ہرگز درست نہ ہوگا)

(کتاب المسائل،ج:۲، ص:۱۸۲۔۱۸۳)

اعتکاف کے مستحب اعمال:

اعتکاف کے دوران نوافل کی کثرت ہونی چاہیے، قرآن کریم کی تلاوت کا معمول رکھا جائے اور تسبیحات وغیرہ پڑھی جائیں، درود شریف بھی بہ کثرت پڑھنا چاہیے، سب سے بہتر درود وہ ہے، جونماز میں تشہد کے بعد پڑھا جاتا ہے، صلوۃ التسبیح کا اہتمام کریں، ہو سکے تو روز پڑھیں، اس سے بہت سے گناہ معاف ہوتے ہیں، اعتکاف کے دوران اشراق، چاشت، اوابین اور تشہد وغیرہ نمازیں آسانی کے ساتھ ادا کی جاسکتی ہیں، ان کا اہتمام کیا جائے، تحیۃ الوضو بھی پڑھنی چاہیے، فجر کی نماز کے بعد اشراق کے وقت اور شام کو عصر کی نماز سے فارغ ہوکر مغرب تک ذکر و تلاوت میں مشغول رہیں، شب قدر کی راتوں میں جاگ کر عبادت بھی کی جائے، ہو سکے تو مستند دینی کتابوں کا مطالعہ بھی رکھیں، دعاؤں میں الحزب الاعظم اور مناجات مقبول پیش نظر رہیں؛ بلکہ ان دونوں کتابوں کی ایک ایک منزل روزانہ پڑھ لیں، اعتکاف کے دوران اپنے کسی قول یا فعل سے کسی دوسرے معتکف کو یا دوسرے نمازیوں کو تکلیف نہ پہنچانی چاہیے۔

(رمضان کیسے گزاریں، ص:۹۷)

Post a Comment

Previous Post Next Post