تراویح میں ایک سلام سے تین رکعتوں کا حکم:
اگر تین رکعتیں پڑھیں مگر دوسری رکعت پر قعدہ کرلیا، تو دو صحیح ہوگئیں اور تیسری باطل ہوگئی، تیسری رکعت میں جو حصہ قرآن پڑھا ہے، اسے دہرائیں اور اگر ایک سلام سے تین رکعتیں پڑھیں اور دوسری رکعت پر قعدہ نہیں کیا، تو تینوں رکعتیں باطل ہوگئیں، ان میں پڑھا گیا قرآن دہرایا جائے گا۔
(تحفہ رمضان، ص: ۸۶)
تراویح میں ایک سلام سے چار رکعتیں پڑھنا:
اگر ایک سلام سے چار رکعتیں پڑھیں اور دوسری رکعت پر قعدہ کیا تو چاروں صحیح ہوگئیں اور اگر ایک سلام سے چار رکعتیں پڑھیں اور قعدہ اولی نہیں کیا، تو صرف اخیر کی دو رکعتیں معتبر ہوں گی اور پہلی دو رکعتیں باطل ہوجائیں گی؛ لہذا ان دونوں رکعتوں میں جو قرآن پڑھا ہے، اسے دہرایا جائے گا۔
(تحفہ رمضان، ص: ۸۶)
تراویح میں ہر چار رکعت پر کچھ دیر بیٹھنا:
تراویح کی بیس رکعات دس سلاموں سے بڑھی جائیں گی اور ان میں ہر ترویحہ (چار رکعت) اور وتر کے درمیان کچھ دیر توقف کرنا پسندیدہ ہے۔
(در مختار، ج: ۲، ص: ۴۳۳)
ترویحہ میں کیا پڑھیں:
ترویحہ کے لیے کوئی خاص عبادت متعین نہیں ہے؛ بلکہ اختیار ہے خواہ ذکر و اذکار کریں، تلاوت کریں یا تنہا تنہا نفل پڑھیں اور بعض فقہا سے تین مرتبہ یہ دعا پڑھنا بھی منقول ہے؛ لہذا جس کا جی چاہے، اسےبھی پڑھ سکتا ہے:’’سُبحَانَ ذِي المُلکِ وَ المَلَکُوتِ سُبحَانَ ذِي العِزَّةِ وَ العَظمَةِ وَ القَدرَةِ وَالکِبرِیَاءِ وَ الجَبَرُوتِ سُبحَانَ المَلکِ الحَيِّ الَّذِي لا یَنَامُ وَلايَمُوت .سُبُّوحٌ قُدُّوسٌ رَبُّنَاوَ رَبُّ المَلَائِکَةِ وَالرُّوح لَا اِلَہَ اِلَّااللّٰہُ نَستَغفِرُاللّٰہَ وَنَسألُکَ الجَنَّةَ وَنَعُوذُبِکَ مِنَ النَّارِ‘‘
(شامی، ج:۲، ص: ۴۳۳)
اگر کسی شخص کی تراویح کی بعض رکعات جماعت سے چھوٹ جائیں، تو کیا کرے:
اگر کسی شخص کی تراویح کی بعض رکعات جماعت سے چھوٹ جائیں، تو وہ ترویحہ کے وقفہ میں رکعات پوری کرلے اور پھر بھی رہ جائیں اور امام وتر پڑھانے کے لیے کھڑے ہو جائے، تو امام کے ساتھ اولاًوتر ادا کرے اور اس کے بعد اپنی چھوٹی رکعات پڑھے۔
(تحفہ رمضان، ص:۸۸)
جماعتِ عشاءکے تارکین تراویح باجماعت نہ پڑھیں:
جس مسجد میں عشاء کی نماز باجماعت نہ پڑھی گئی ہو، بلکہ سب نمازیوں نے تنہا تنہا نماز ادا کی ہو، تو اب اگر وہ باجماعت تراویح پڑھنا چاہیں، تو یہ ان کے لیے بہتر نہیں ہے
(تحفہ رمضان، ص:۸۸)
عشاء کی نماز تنہا پڑھنے والے شخص کی تراویح اور وتر کی جماعت میں شرکت:
جس شخص نے عشاء کی نماز جماعت سے نہ پڑھی ہو، وہ اپنی فرض نماز تنہا پڑھ کر تراویح اور وتر کی جماعت میں شریک ہوسکتا ہے، اس میں کوئی شرعی روکاوٹ نہیں ہے۔
(تحفہ رمضان، ص:۸۸)
رمضان میں وتر باجماعت افضل ہے:
رمضان المبارک میں تراویح کے ساتھ وتر کی نماز بھی باجماعت ادا کرنا افضل ہے۔
(درمختار، ج:۲، ص:۴۳۷)
تراویح کی قضا نہیں ہے:
اگر کسی شخص کی تراویح کی مکمل نماز کسی وجہ سے جھوٹ جائے اور اس کا وقت نکل جائے، تو اب اس کی قضا کا حکم نہیں ہے، اگر پڑھے گا، تو وہ محض نفل قرار پائے گی۔
(درمختار، ج:۲، ص:۴۳۱)
ایک جگہ مکمل تراویح پڑھ کر یا پڑاھا کردوسری جگہ شریک ہونا:
اگر کوئی شخص ایک جگہ تراویح پڑھ چکا ہویا پڑھا چکا ہو، پھر دوسری جگہ جاکر نفل کی نیت سے تراویح کی جماعت میں شامل ہو جائے، تو اس میں شرعاً حرج نہیں ہے۔
(تحفہ رمضان، ص:۸۹)
تراویح میں نابالغ کی امامت:
تراویح میں بھی نابالغ شخص کی امامت مفتی بہ قول کے مطابق جائز نہیں ہے۔
(تحفہ رمضان، ص:۸۹)
تراویح کی نماز کے لیے بھی باشرع حافظ ہونا ضروری ہے:
جس حافظ کی ڈاڑھی شریعت کے مطابق نہ ہو، کھلےطور پر نماز چھوڑتا ہو، باجماعت نماز کا اہتمام نہ کرتا ہو ایسے حافظ کے پیچھے نماز پڑھنا مکروہ تحریمی ہے، اس سے بہتر یہ ہے کہ الم ترکیف سے پڑھ لی جائے، ہاں اگراس شخص کے علاوہ کوئی دوسرا امام الم ترکیف سے بھی پڑھانے والانہ ہو، تب اس کے پیچھے نماز پڑھ لینی چاہیے؛ کیوں کہ ترکِ جماعت سے بہرحال جماعت افضل ہے۔
(فتاوی شامی،ج:۲، ص:۳۰۱)
ایسے حافظ کی امامت جس کا تلفظ صحیح نہ ہو:
ایسے حافظ کو امام بنانا درست نہیں ہے، جس کا تلفظ صحیح نہ ہو، وہ قرآن کریم غلط پڑھتا ہو یا اس قدر تیز پڑھتا ہو کہ یعلمون تعلمون کے سوا کچھ سمجھ میں نہ آتا ہو یا نماز کے ارکان اتنی جلدی ادا کرتا ہو کہ فرائض و واجبات بھی پورے نہ ہوتے ہوں، ایسے شخص کو بھی امام بنانا جائز نہیں، جس کو نماز کے ضروری مسائل بھی معلوم نہ ہوں، اسے یہ بھی پتہ نہ ہو کہ کن چیزوں سے نماز ٹوٹ جاتی ہے اور کن چیزوں سے سجدۂ سہو لازم آتا ہے۔
(احسن الفتاوی، ج:۳، ص:۳۰۲)
تراویح میں دیکھ کر قرآن کریم پڑھنا:
تراویح (یا کسی بھی نماز) میں قرآن کریم ہاتھ میں لے کر دیکھ کر پڑھنے سے نماز فاسد ہوجائے گی، اس لیے کہ یہ عمل کثیر ہے۔
(تحفہ رمضان، ص:۸۹)
سجدۂ تلاوت کے بعد دوبارہ سورۂ فاتحہ پڑھنا:
بعض مرتبہ تراویح کے دوران بے خیالی میں یہ صورت پیش آتی ہے کہ امام آیتِ سجدہ پڑھ کر جب سجدۂ تلاوت کر کے کھڑا ہوتا ہے، تو سورۂ فاتحہ پڑھ کر آگے قراءت شروع کرتا ہے، تو شرعاً اس سے نماز میں کوئی خرابی نہیں آتی۔
(تحفہ رمضان، ص: ۹۰)
آیتِ سجدہ تلاوت کے بعد امام کو مستقل طور پر سجدۂ تلاوت کرنا چاہیے:
اگر کوئی شخص امام ہواور آیت سجدہ کی تلاوت کرے، تو اسے مستقل سجدہ تلاوت کرنا چاہیے، نماز کے رکوع میں سجدے کی نیت کرکے سجدہ تلاوت نہیں ادا کرنا چاہیے ؛ کیوں کہ امام نے اگر رکوع میں سجدہ تلاوت کی نیت کی تو ہر مقتدی کا امام کے ساتھ رکوع ہی میں سجدہ تلاوت کی نیت کرنا ضروری ہوگا اور اگر کسی مقتدی نے امام کے ساتھ رکوع میں سجدہ تلاوت کی نیت نہیں کی، تو اس کا سجدہ تلاوت ادا نہیں ہوگا خواہ اس مقتدی کو امام کی نیت کا علم ہو یا نہ ہو اور امام کی نیت مقتدیوں کے حق میں کافی نہیں ہوگی خواہ نماز سری ہو یا جہری، ہمارے اکابر علمائے دیوبند کے نزدیک صحیح وراجح یہی ہے۔
(امداد الفتاوی ج:۱،ص: ۵۵۴،۵۵۵)
