تراویح کا بیان حصہ اول
روزے کےبعد رمضان المبارک کی دوسری اہم ترین عبادت تراویح ہے، جس کا رمضان المبارک میں عشا کی نماز کے بعد باجماعت پڑھنے پڑھانے کا اہتمام کیا جاتا ہے، جس کے اندر اللہ کے نیک بندے قرآن کریم از اول تا آخر پڑھتے اور سنتے ہیں، جو اپنی الگ شان اور پہچان رکھتی ہے، اس نماز کے ذریعہ رمضان المبارک میں مسجدوں کی رونق بڑھ جاتی ہے اور عبادات کے شوق میں غیر معمولی اضافہ بھی ہوجاتا ہے۔
احادیث مبارکہ میں نماز تراویح کے بڑے فضائل بیان کیے گیے ہیں، جیسا کہ ایک حدیث شریف میں مذکور ہے: ’’ مَنْ قَامَ رَمَضَانَ إِيمَانًا وَاحْتِسَابًا غُفِرَ لَهُ مَا تَقَدَّمَ مِنْ ذَنْبِهِ‘‘ جس نے رمضان المبارک میں ایمان کی حالت میں اجر و ثواب کی امید رکھتے ہوئے قیام کیا یعنی تراویح پڑھی اس کے پچھلے تمام گناہ معاف کردیے جاتے ہیں۔
(بخاری شریف، رقم الحدیث: ۲۰۰۹)
دوسری جگہ نبی پاک ﷺ کا ارشاد ہے: ’’ شَہرٌ کَتَبَ اللہُ عَلَیْکُمْ صِیَامَہٗ وَسَنَنْتُ لَکُمْ قِیَامَہٗ‘‘ اس مہینہ کے روزے اللہ تعالی نے تم فرض فرمائے ہیں اور میں نے اس کے قیام (تراویح) کو تمہارے لیے سنت قرار دیا ہے۔
(سنن ابن ماجہ، ص:۹۴، باب ما جا فی قیام شہر رمضان)
تراویح کی فضیلت و اہمیت کا اندازہ اس بات سے بھی لگایا جا سکتا ہے کہ اگر کسی شہر کے لوگ تراویح ترک کردیں، تو امام المسلمین اس شہر کے لوگوں سے جنگ کرے گا، فقہا نے یہ بھی لکھا ہے کہ تراویح کی سنت کا منکر بدعتی اور گمراہ ہے، ایسے شخص کی شہادت بھی معتبر نہیں ہے ۔
( رمضان کیسے گزاریں، ص:۸۳۔۸۴)
تراویح کا ثبوت:
صحیح احادیث شریفہ سے ثابت ہے کہ نبی کریم ﷺ نے رمضان المبارک میں تین دن مسجدِ نبوی میں باجماعت نماز پڑھائی؛ لیکن جب مجمع زیادہ بڑھنے لگا اور صحابۂ کرام ؓ کے غیر معمولی ذوق و شوق کو دیکھ کر آپ کو خطرہ ہوا کہ کہیں یہ نماز امت پر فرض نہ کردی جائے، تو آپﷺ نے یہ سلسلہ موقوف فرما دیا۔
(بخاری شریف، ج:۱، ص:۲۶۹)
مگر آپﷺ رمضان المبارک کی راتوں میں زیادہ سے زیادہ عبادات انجام دینے کی ترغیب دیتے رہے، جیسا کہ اسی صفحہ میں اوپر حدیث گزری ہے کہ آپﷺ نے ارشاد فرمایا: ’’ جس نے رمضان المبارک کی راتوں کوایمان کی حالت میں اجر و ثواب کی امید رکھتے ہوئےعبادت میں گزارے، اس کے پچھلے تمام گناہ معاف کردیے جائیں گے۔‘‘ آپﷺ کی اس ترغیب کی وجہ سے حضرات صحابہ ؓ رمضان المبارک میں کثرتِ عبادت کا اہتمام کرتے تھے، جو لوگ قرآن مجید کے حافظ تھے، وہ خود نوافل میں قرآن پڑھتے اور جو حافظ نہ تھے وہ کسی حافظ کی اقتدامیں قرآن مجید سننے کی سعادت حاصل کرتے تھے، چناں ثعلبہ ابن ابی مالک القرظیؒ (جو مدینہ منورہ کے رہنے والے تابعی عالم ہیں) مرسلاً روایت کرتے ہیں کہ ایک مرتبہ رمضان المبارک کی رات میں پیغمبر علیہ الصلاۃ والسلام مسجد میں تشریف لائے، تو دیکھا کہ مسجد کے ایک گوشہ میں کچھ لوگ جماعت سے نماز پڑھ رہے ہیں۔
آپﷺ نے دریافت کیا کہ یہ لوگ کیا کر رہے ہیں، تو کسی نے جواب میں عرض کیا کہ اے اللہ کے رسولﷺ ! یہ وہ حضرات ہیں، جن کو قرآن مجید حفظ نہیں ہے، تو حضرت ابی بن کعبؓ نماز میں قرآن مجید پڑھ رہے ہیں اور یہ لوگ ان کی اقتدا میں نماز ادا کر رہے ہیں، یہ سن کر نبیٔ کریم ﷺ نے فرمایا کہ انہوں نے بہت اچھا کیا اور آپﷺ نے ان کے بارے میں کوئی ناگواری کی بات ارشاد نہیں فرمائی۔
(السنن الکبری للبیہقی، ج:۲، ص:۶۹۷، رقم الحدیث: ۴۳۸۶)
اس تفصیل سے اتنا یقیناً معلوم ہوگیا کہ دورِ نبوت میں رمضان المبارک کی وہ خصوصی نماز جسے بعد میں ’’تراویح‘‘ کا نام دیا گیا، کسی نہ کسی درجہ میں پڑھی جاتی رہی اور حضرات صحابہؓ اس نماز سے بخوبی واقف تھے اور تنہا تنہا اور کبھی جماعت سے اسے موقع بموقع پڑھا کرتے تھے۔
درورِ صدیقی اور دورِ فاروقی کے ابتدائی زمانہ میں لوگ اسی طرح مسجدوں میں چھوٹی چھوٹی جماعتیں بنا کر تراویح کی نماز پڑھتے تھے ، تا آں کہ حضرت عمر فاروقؓ نے یہ دیکھ کر مناسب سمجھا کہ تراویح کی باقاعدہ جماعت کردی جائے، کیوں کہ جس خطرہ کی وجہ آپﷺ نے تراویح کا سلسلہ موقوف فرمایا تھا، اب آپﷺ کی وفات کے بعد وہ خطرہ باقی نہیں رہاتھا، چناں چہ آپؓ نے صحابہ کرام کے سب سے بڑے قاری حضرت ابی بن کعبؓ کو تراویح کا امام مقرر فرمایا اور صحابہ کرامؓ حضرت ابی بن کعب کی اقتدا میں نماز تراویح پڑھنے لگے۔
(بخاری شریف، ج:۱، ص:۲۶۱)
لفظ تراویح کی تحقیق :
حافظ ابن حجر عسقلانیؒ فرماتے ہیں:’’والتراویح جمع ترویحۃ وھي المرۃ الواحدۃ من الراحۃ کتسلیمۃ من السلام‘‘ تراویح ’’ترویحہ‘‘ کی جمع ہے اور ترویحہ ایک دفعہ آرام کرنے کو کہتے ہیں، جیسے ’’تسلیمہ‘‘ ایک دفعہ سلام کرنے کو کہتے ہیں۔
(فتح الباری شرح صحیح البخاری، ج:۴، ص:۳۱۷)
اصطلاحی تعریف:
جیسا کہ معلوم ہوا کہ تراویح ’’ترویحہ‘‘ کی جمع ہے اور ’’ترویحہ‘‘ وہ نشست اور بیٹھک ہے، جس میں کچھ راحت لی جائے، چوں کہ تراویح کی چار رکعتوں پر سلام پھیرنے کے بعد کچھ دیر راحت لی جاتی ہے، اس لیے تراویح کی چار رکعت کو ایک ’’ ترویحہ‘‘ کہا جانے لگا اور چوں کہ پوری تراویح میں پانچ ترویحے ہیں، اس بنا پر پانچوں کا مجموعہ ’’تراویح ‘‘ کہلاتا ہے۔
علامہ حافظ ابن حجر عسقلانیؒ کی جو عبارت اوپر نقل کی گئی ہے، اسی کے آگے یہ عبارت نقل کی گئی ہے:’’ سمیت الصلاۃ في الجماعۃ في لیالي رمضان التراویح لأنھم أوّل مااجمعوا علیھا کانوا یستریحون بین کل تسلیمتین‘‘جو نماز رمضان کی راتوں میں باجماعت ادا کی جاتی ہے، اس کا نام ’’تراویح‘‘ رکھا گیا ہے، اس لیے کہ جب صحابہ کرام ؓ پہلی بار اس نماز پر مجتمع ہوئے، تو وہ ہر دوسلام (چار رکعتوں) کے بعد آرام کیا کرتے تھے۔
(فتح الباری شرح صحیح البخاری، ج:۴، ص:۳۱۷)
تراویح کی نماز سنت مؤکدہ ہے:
حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے قیام رمضان کو سنت قرار دیاہے، جیساکہ اس عنوان کے شروع میں حدیث گزری ہے ، آپ علیہ السلام کے بعد حضرات خلفا راشدین اور دیگر صحابہ کرامؓ نے بھی اس پر مواظبت فرمائی ہے ، اس لیے محققین نے اسے سنت موکدہ لکھا ہے، گو آپﷺ سے یہ ثابت ہے کہ تین شب کے بعد آپﷺ تراویح کے لیے تشریف نہیں لائے اور یہ فرمایا کہ مجھے اس کے تم پر فرض ہو جانے کا اندیشہ تھا، اس سے معلوم ہوا کہ اگر فرض کا اندیشہ نہ ہوتا، تو آپﷺ کا تشریف لانے کا ارادہ تھا اور پختہ ارادہ خود عمل کے قائم مقام ہوتا، پس جب آپ نے ارادہ فرمالیا، تو اس سے بھی تراویح کا موکدہ ہونا ثابت ہو جائے گا، جیساکہ فعل سے ثابت ہوتا ہے۔
تراویح سنت موکدہ ہے اس کی ایک دلیل حدیث شریف کا یہ ٹکڑا بھی ہے، جس کو حضرت عرباض بن ساریہ ؓ حضور ﷺ سے نقل کرتے ہیں:’’فَعَلَيْكُمْ بِسُنَّتِي، وَسُنَّةِ الْخُلَفَاءِ الرَّاشِدِينَ الْمَهْدِيِّينَ، عَضُّوا عَلَيْهَا بِالنَّوَاجِذِ‘‘ تم میری سنت کو اور ہدایت یافتہ خلفا راشدین ؓ کی سنت کو اپنے اوپر لازم پکڑ و اور اسے مضبوطی سے تھام لو ۔
(سنن ابی داؤد، ج:۲، ص:۲۹۰، باب فی لزوم السنہ)
اس حدیث مبارک میں جہاں آپﷺ نے اپنی سنت پر لفظ ’’علیکم‘‘ (تم پر لازم ہے) اور عضوا علیہا بالنواجذ (مضبوطی سے تھام لو)سے عمل کرنے کی تاکید فرمائی ہے، اسی طرح حضرات خلفا راشدین ؓ کی سنت پر بھی عمل کرنے کی تاکید فرمائی ہے، جو کہ تراویح کے سنت موکدہ ہونے کے لیے کافی ہے۔
