https://tagassistant.google.com/#/?url=https%3A%2F%2Fguldastakafi.blogspot.com%2F افطاری کا بیان، رمضان اور قرآن، کوئز نمبر تئیس (۲۳)

افطاری کا بیان، رمضان اور قرآن، کوئز نمبر تئیس (۲۳)

افطاری کا بیان

سحری کی طرح افطاری بھی ایک سنت اور عبادت کا عمل ہے، جس میں رحمتیں برکتیں اور فضیلتیں رکھی گئی ہیں، باری عز اسمہ اس وقت میں بندوں کی مغفرت فرماتے ہیں، دعائیں قبول ہوتی ہیں اور جہنم سے لوگوں کی آزادی ہوتی ہیں، اس لیے قرآن و احادیث میں اس اہم وقت کی قدر کرنے کی ترغیب و ترہیب دی گئی ہیں۔

افطاری کا وقت:
اللہ رب العزت کا پاک ارشاد ہے: ’’ثُمَّ أَتِمُّوا الصِّيَامَ إِلَى اللَّيْلِ‘‘ پھر (صبح صادق سے) رات (آنے)تک روزہ پورا کرلیا کرو۔
(سورہ بقرہ، آیت نمبر: ۱۸۷)
آیت مذکورہ میں روزہ کے آخری وقت کا بیان ہے اور یہی روزۂ افطار کا وقت ہے، چناں چہ حدیث شریف میں ہے: ’’إِذَا أقْبَلَ اللَّيْلُ مِن هَا هُنَا، وأَدْبَرَ النَّهَارُ مِن هَا هُنَا، وغَرَبَتِ الشَّمْسُ فقَدْ أفْطَرَ الصَّائِمُ‘‘رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: جب رات اس طرف (مشرق) سے آئے اور دن ادھر سے (مغرب میں) چلا جائے اور سورج ڈوب جائے، تو روزہ دار صاحبِ افطار ہوگیا۔
(متفق علیہ )
”سورج ڈوبتے ہی روزہ دار صاحبِ افطار ہوگیا “ کا ایک مطلب تو یہ ہے کہ تمہارے روزہ کھولنے کا وقت ہو گیا، اس لیے روزہ افطار کرلینا چاہیے اور کھانے پینے میں مزید دیر نہ لگانا چاہیے۔
اور دوسرا مطلب یہ ہے کہ تم شرعاً روزہ کھولنے والے ہو گئے خواہ تم نے کچھ کھایا پیا نہ ہو؛ کیونکہ سورج ڈوبتے ہی روزہ اپنے اختتام کو پہنچ گیا ؛اس میں روزہ کے وقت کا تعین کر دیا گیا ہے کہ وہ صبح صاد ق سے سورج ڈوبنے تک ہے۔
تعجیل افطار:
جیسا کہ مستحباتِ روزہ کے تحت گزر چکا ہے کہ وقت ہوتے ہی افطاری میں جلدی کرنی چاہیے، نبی کریم ﷺ کا پاک ارشاد بھی ہے کہ ’’اَحَبُّ عِبَادِیْ اِلَیَّ اَعْجَلُہُمْ فِطْراً‘‘ اللہ تعالی کا ارشاد ہے کہ اپنے بندوں میں مجھے وہ بندہ زیادہ محبوب ہے، جو روزہ افطار کرنے میں جلدی کرے۔( یعنی غروبِ آفتاب کے بعد بالکل دیر نہ کرے)
(رواہ الترمذی:الترغیب ص:۹۴)
افطار کرنے کی شروعات:
حدیث شریف میں ہے:’’إِذَا أَفْطَرَ أَحَدُكُمْ، فَلْيُفْطِرْ عَلى تَمْرٍ، فَإِنْ لَمْ يَجدْ، فَلْيُفْطِرْ عَلَى مَاءٍ فَإِنَّه طَهُورٌ‘‘جب تم میں سے کسی کا روزہ ہو، تو وہ کھجور سے روزہ افطار کرے ، اگر کھجور نہ پائے، تو پھر پانی ہی سے افطار کرے، اس لیے کہ پانی نہایت پاکیزہ چیز ہے۔
(ابو داود، ص: ۱۷۵)
اسی طرح حدیث شریف میں روزہ افطار کرانے ، اس وقت میں دعاؤں کا اہتمام کرنے اور ذکر و اذکار میں مشغول رہنے کی بھی ترغیب آئی ہیں۔
رمضان اور قرآن
رمضان المبارک میں مہتمم بالشان کاموں میں سے قرآن عظیم الشان کا بھی نزول ہے، جو خدا تعالی کی طرف سے آخری صحیفہ نبی آخر الزماں ﷺ پر نازل ہوا، جس کے بعد نہ کوئی صحیفہ آئے گا اور نہ کوئی رسول ۔
غور فرمائیے کہ اول تو یہی بات کافی و شافی ہے اس کی عظمت و مرتبت کو سمجھنے کے لیے کہ وہ کلام الہی ہے، مگر کلام الہی ہونے کا وہ درجہ اور رتبہ حاصل ہوا ہے کہ اس کے بعد کسی صحیفہ اور کلام کی گنجائش و ضرورت ہی نہیں رہی، اس کے بعد آخری نبی محمد عربیﷺ پر اس کا نزول اور پھر رمضان المبارک کا بابرکت مہینہ، جس میں قرآن اتارا گیا اور لانے والا بھی سید الملائکہ، تو کیوں نہ اس کی عظمت و شوکت کو چار چاند لگے۔
رمضان المبارک کے ساتھ قرآن مقدس کا ایک عظیم رشتہ ہے، جس کو قرآن نے خود بیان کیا ہے: ’’شَهۡرُ رَمَضَانَ الَّذِىۡٓ اُنۡزِلَ فِيۡهِ الۡقُرۡاٰنُ هُدًى لِّلنَّاسِ وَ بَيِّنٰتٍ مِّنَ الۡهُدٰى وَالۡفُرۡقَانِۚ‘ ‘ ماہرمضان وہ ہے جس میں قرآن اتارا گیا، جو لوگوں کو ہدایت کرنے والاہے اور جس میں ہدایت کی حق و باطل کی تمیز کی نشانیاں ہیں۔
رمضان المبارک کے ساتھ جس طرح روزہ اور قرآن کریم دونوں کو خصوصی تعلق ہے، اسی طرح آپس میں بھی ان دونوں عبادتوں کو ایک دوسرے کے ساتھ بہت گہرا رشتہ ہے اور مناسبت ہے، جیسا کہ روزہ اور قرآن دونوں قیامت کے دن شفاعت کریں گے،  جس طرح روزہ کے ذریعہ قرب خداوندی حاصل ہوتا ہے ، اسی طرح تلاوت قرآن کے ذریعہ بھی قرب خداوندی حاصل ہوتا ہے وغیرہ وغیرہ۔
قرآن کریم کی تلاوت میں ہر حرف کے بدلے دس نیکی:
حضرت عبداللہ بن مسعود ؓ نے حضور ﷺ کا یہ ارشاد نقل کیا ہے: ’’مَنْ قَرَأ حَرْفاً مِنْ كِتاب الله فَلَهُ حَسَنَة، والحَسَنَة بِعَشْرِ أمْثَالِها، لا أقول: ألم حَرفٌ، ولكِنْ: ألِفٌ حَرْفٌ، ولاَمٌ حَرْفٌ، ومِيمٌ حَرْفٌ‘‘جس نے کتاب اللہ کا ایک حرف پڑھا اسے اس کے بدلے ایک نیکی ملے گی، اور ایک نیکی دس گنا بڑھا دی جائے گی، میں نہیں کہتا’’ الم ‘‘ایک حرف ہے، بلکہ’’ الف‘‘ ایک حرف ہے، ’’لام‘‘  ایک حرف ہے اور’’ میم‘‘ ایک حرف ہے۔
(ترمذی: رقم الحدیث: ۲۹۱۰)
قرآن کریم کی تلاوت دلوں کی صفائی کا بہتریں ذریعہ ہے:
حضرت عبداللہ بن عمرؓ نبی کریم ﷺ کا ارشاد نقل فرماتے ہیں:’’إِنَّ هَذِهِ الْقُلُوبَ تَصْدَأُ كَمَا يَصْدَأُ الْحَدِيدُ إِذَا أَصَابَهُ الْمَاءُ قِيلَ يَا رَسُولَ اللَّهِ وَمَا جِلَاؤُهَا؟ قَالَ:كَثْرَةُ ذِكْرِ الْمَوْتِ وَتِلَاوَةِ الْقُرْآنِ‘‘ کہ رسول اللہ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا:یہ دل زنگ آلودہو جاتے ہیں، جس طرح لوہا پانی لگنے سے زنگ آلود ہو جاتا ہے۔عرض کیا گیا: اللہ کے رسول! ان کی چمک کس طرح آتی ہے؟ آپ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: ”موت کو کثرت سے یاد کرنا اور قرآن کی تلاوت کرنا۔
(شعب الایمان: رقم الحدیث: ۱۸۵۹)
تلاوت کا طریقہ:
تلاوت کا طریقہ بھی اہل طریق نے اس طرح تجویز کیا ہے، جو آپ ﷺ اور صحابۂ کرام سے ثابت ہے، جسے ہمیں اور آپ سیکھنے کی ضرورت ہے، تاکہ اسی طریق سے ہم اور تلاوت کرکے بھر پور فائدہ اٹھا سکیں۔
قرآن شریف سننے کے فضائل:
قرآن شریف پڑھنے کے فضائل تو ہیں ہی بے حد، اس کے سننے کے فضائل بھی متعدد روایات میں آئے ہیں، اس سے بڑھ کر اور کیا فضیلت ہوگی کہ سید المرسلینﷺ کو بھی ایسی مجلس میں شرکت کا حکم ہوا ہے، اس لیے اگر ہم خود پڑھ نہیں سکتے ہو یا پڑھ بھی سکتے ہوں پھر بھی قرآن سننے کی عادت بنانی چاہیے، تاکہ نبی کریم ﷺ کی اس عادت شریفہ پر عمل کرنے والے بن جائیں۔
بغیر سمجھے قرآن پڑھنا بھی ثواب کا کام ہے:
یقیناً قرآن کریم کو سمجھ کر پڑھنا بہت بڑی بات ہے اور مقصود و مطلوب یہی ہے؛ لیکن اگر کوئی شخص بغیر سمجھے قرآن مقدس کی تلاوت کرتا ہے، تو یہ بھی ثواب کا کام ہے، ایک حساب سے یہ شخص اللہ کی محبت میں زیادہ صادق و پکا ہے، اس لیے ممکن ہے کہ سجھ کر پڑھنے والا مضامین سے لذت حاصل کرتا ہو، اس وجہ سے وہ کلام اللہ کی تلاوت کرتا ہو اور مصنف کی محبت تلاوت کا باعث نہ ہو، بخلاف اس شخص کے جو بغیر سمجھے ہوئے تلاوت کرتا ہے، وہ مصنف کی محبت کے سوا کچھ نہیں چاہتا۔
دوسری بات یہ اصل دولت قرب خداوندی ہے اور وہ کلام اللہ کے سمجھنے پر موقوف نہیں، گو سب کے لیے اس کی اجازت نہیں کہ سب کے سب بغیر سمجھے ہوئے پڑھیں، بلکہ تھوڑے لوگ ایسے بھی ضرورہونے چاہئیں کہ خود بھی کلام اللہ کو سمجھتے ہوں اور دوسروں کو بھی سمجھا سکیں اور کمال اس کو سمجھ کر پڑھنے ہی میں ہے، تاہم ایک حیثیت سے اس شخص پر بھی اللہ کی زیادہ عنایت ہوگی، جو بغیر سمجھے ہوئے کلام اللہ کی تلاوت کرتا ہو؛ کیوں صرف حق تعالی کی محبت اس کا باعث ہوسکتی ہے، جو کلام اللہ کا اصل نفع کے سمجھنے پر موقوف نہیں ہے۔

Post a Comment

Previous Post Next Post