https://tagassistant.google.com/#/?url=https%3A%2F%2Fguldastakafi.blogspot.com%2F فدیہ، قضا اور کفارہ کا بیان، کوئز نمبر بائیس (۲۲)

فدیہ، قضا اور کفارہ کا بیان، کوئز نمبر بائیس (۲۲)

فدیہ، قضا اور  کفارہ کا بیان 

چھوٹے ہوئے روزں کی قضا:

صورت مسئولہ میں( کوئی شخص اپنی بیماری اور کمزوری کی وجہ رمضان کے روزے نہ رکھ سکے اور پانچ چھ سال کے بعد رمضان کے روزے رکھنے کے قابل ہوئے ، تو اب گزشتہ سالوں کے روزوں کی صرف قضا ضروری ہے یا قضا اور فدیہ دونوں ضروری ہیں؟) جب کہ رمضان کے روزہ رکھنے کی قدرت حاصل ہوگئی ہے، تو اب بہرحال روزوں کی قضا لازم ہے، فدیہ دینا کافی نہ ہوگا اور جب روزوں کی قضا رکھ لے، تو فدیہ دینے کی ضرورت نہیں ہے۔

(کتاب النوازل، ج: ۶، ص: ۳۹۰)

بالغ ہونے کے بعد روزں کی قضا:

صورت مسئولہ میں( بچپن میں مجھے والدین روزے رکھنے کی اجازت نہیں دیتے کہ تم پر روزہ ابھی فرض نہیں ہیں، میں یہ محسوس کر رہا ہوں کہ میں بالغ تھا)بالغ ہوتے ہی روزہ فرض ہوجاتا ہے، بریں بنا جتنے دن آپ نے بالغ ہونے کے بعد روزے نہیں رکھے ہیں، حساب لگا کر ان کی قضا آپ پر لازم ہے، جلد از جلد ان کو ادا کرلینا چاہیے۔

(کتاب النوازل، ج: ۶، ص: ۳۹۱)

بالغہ عورت کئی سال کے روزوں کی قضا کیسے کریں:

صورت مسئولہ میں (میرے بالغ ہونے کے بعد کئی سال کے روزے چھوٹے ہوئے ہیں، اب میں ان چھوٹے ہوئے روزوں کی قضا کرنا چاہتی ہوں، لیکن مسلسل روزے رکھنا مشکل ہے، ساٹھ روزے پورے ہونے سے پہلے ہی بیماری یا ماہواری ہوجاتی ہے)آپ اپنے قضا شدہ روزے وقفہ وقفہ سے یا ایک ساتھ جیسا موقع ہو رکھ سکتی ہیں اور جتنے روزے قضا ہوئے ہیں، بس اتنے ہی قضا کرنے ہوں گے، زیادہ کی قضا کا حکم نہیں ہے، بالفرض اگر تیس روزے چھوٹ گیے ہیں، تو بس تیس ہی روزے قضا رکھے جائیں گے اور ماہواری کے دنوں کے علاوہ میں آپ ان کی قضا رکھ سکتی ہیں۔

(کتاب النوازل، ج: ۶، ص: ۳۹۲)

اگر شوہر قضا روزے رکھنے سے راضی نہ ہو، تو کیا کریں:

صورت مسئولہ کے مطابق آپ لگاتار روزے نہ رکھیں؛ بلکہ جب موقع ملے، روزے رکھ کر قضا کی تعداد پوری کرلیں، امید ہے کہ اس طرح آپ روزے بھی رکھ لیں گی اور شوہر ناراض بھی نہ ہوں گے اور شوہر کی ناراضگی کے عذر سے روزے کے بجائے فدیہ دینے کی اجازت نہیں ہے۔

(کتاب النوازل، ج۶، ص: ۳۹۳۔۳۹۴)

رمضان کے قضا روزے فضیلت کے دنوں میں رکھنا:

چودہ شعبان وغیرہ کو رمضان کے مجبوری میں چھوٹے ہوئے روزے رکھنا درست ہے، اس سے فرض ادا ہوجائے گا اور بعض علما کی رائے ہے کہ اگر اس روزے کے ساتھ اس دن کی فضیلت کے حصول کی نیت کر لی، تو امید ہے کہ وہ فضیلت بھی حاصل ہو جائے گی۔

(کتاب النوازل، ج۶، ص: ۳۹۴)

سفر میں قضا روزہ کی نیت سے روزہ رکھنا:

صورتِ مسئولہ میں (کسی شخص سے رمضان کا روزہ قضا ہوگیا، ابھی ادا نہ کر سکا تھا کہ دوسرا رمضان آگیا،  وہ آدمی سفر کیا(رمضان میں)اب وہ قضا کی نیت کرتا ہے، تو اب یہ روزہ قضا ادا ہوگا یا ادا ؟) اگر وہ شخص موجودہ  رمضان کے سفر میں گزشتہ رمضان کے قضا روزے کی نیت کرتا ہے، تو یہ گزشتہ رمضان کا قضا روزہ شمار ہوگا؛ لیکن ایسا کرنا بہتر نہیں ہے، وقتیہ فرض روزے کی اہمیت زیادہ ہے۔

(کتاب النوازل، ج۶، ص:۳۹۵)

شوال کے چھ روزں میں قضا کی نیت :

جس شخص کے ذمہ فرض روزے قضا ہوں اس کے لیے بہتر یہی ہے کہ وہ نفل روزہ رکھنے کے بجائے اولاً فرض کی قضا کرے؛ لہذا جو شخص شوال کے جو چھ روزے قضا کی نیت سے رکھے ، ان کی قضا کی ادائیگی دورست ہوجائے گی۔

(کتاب النوازل، ج:۶، ص: ۳۹۵۔۳۹۶)

قضا روزہ کے رہتے ہوئے نفل روزہ رکھنا:

مذکورہ بالاجواب کا جز ہے: یہ بات مطلقاً صحیح نہیں ہے کہ جس پر قضا روزے ہوں، وہ نفل روزے رکھ ہی نہیں سکتا ، صحیح مسئلہ یہ ہے کہ وہ نفل روزے بھی رکھ سکتا ہے؛ لیکن بہتر یہ ہے کہ نفل کے بجائے فرض کی قضا کرے، تاکہ اس کے ذمہ سے فریضہ ساقط ہو جائے۔

(کتاب النوازل، ج:۶، ص: ۳۹۵۔۳۹۶)

دوسرے کی طرف سے روزہ رکھنا:

کوئی شخص دوسرے کے قضا روزے اپنی طرف سے نہیں رکھ سکتا؛ بلکہ جس پر روزہ فرض ہے، اسی پر ادائیگی لازم ہے، البتہ اگر وہ کسی مرض یا پڑھاپے کی وجہ سے روزہ رکھنے سے ایسا معذورہوجائے کہ اب مرتے دم تک روزہ رکھنے کی استطاعت کی امید نہ ہو، تو ایسا شخص روزہ کے بدلہ میں فدیہ دے سکتا ہے، جس کی مقدار ایک صدقہ فطر کے بقدر ہے؛ لیکن اس کی جگہ پر دوسرے شخص کے روزے رکھنے سے اس کا فرض روزہ ادا نہ ہوگا ۔

(کتاب المسائل، ج:۶، ص: ۳۹۸)

بیماری کے ایام میں فوت شدہ روزوں کا فوراً فدیہ دے یا بعد میں قضا کرے:

سخت مرض میں مبتلا یا کسی اور عذر شرعی میں مبتلا شخص کے لیے اس وقت روزہ نہ رکھنے کی اجازت ہے، لیکن جب صحت یاب ہو جائے، تو ان ایام کی قضا لازم ہوگی، فدیہ دینے کا فی الفور حکم نہیں ہے۔

(استفادہ: کتاب النوازل، ج:۶، ص: ۴۰۰)

روزوں کا فدیہ کب معتبر ہے:

جس شخص پر روزے کی قضا ہیں، ان کو رکھنا ضروری ہے، جب تک بھی انسان کو روزہ رکھنے کی طاقت رہے، تو روزہ کے بدلہ میں فدیہ دینا معتبر نہیں ہے، روزہ کا فدیہ اسی وقت معتبر ہوتا ہے، جب کہ انسان بیمار یا ضعف کے اس مرحلہ پر پہنچ جائے کہ زندگی بھر روزہ رکھنے کی سکت نہ رہے، اس لیے انسان کو چاہیے کہ رفتہ رفتہ قضا شدہ روزہ رکھتے رہا کرے۔

(کتاب النوازل، ج:۶، ص:۴۰۷۔۴۰۸)

روزوں کا فدیہ کیا ہے:

چھوٹے ہوئے ہر روزے کے بدلےصدقۂ فطر کی مقدار (پونے دو کلوگندم) یا وہ چیزیں، جن کا صدقۂ فطر میں ادا کرنا جائز ہے، فقرا و مساکین پر صدقہ کرنا واجب ہے۔

(مستفاد فتوی: جامعہ علامہ بنوری ٹاون، فتوی نمبر: ۱۴۳۱۰۱۲۰۰۱۳۸)

فدیہ دینے کے بعد اگر روزے رکھنے پر قادر ہوجائے:

اگر کوئی مریض فدیہ دینے کے بعد روزے رکھنے پر قادر ہو جائے، تو اس کے ذمے ان روزوں کی قضا لازم ہوگی اور فدیے میں دی گئی رقم صدقہ بن جائےگی۔

(مستفاد فتوی : جامعہ علامہ بنوی ٹاون، فتوی نمبر: ۱۴۴۳۰۹۱۰۰۵۶۰)

کفارہ کیا ہے؟

رمضان کا روزہ توڑنے کا کفارہ یہ ہے کہ غلام یا باندی آزاد کرے، اگر یہ ممکن نہ ہو جیسا کہ آج کل کا دور ہے، تو لگاتار دومہینہ کے روزے رکھے درمیان میں ایک بھی روزہ ناغہ نہ ہو، ورنہ پھر سے ازسرِ نو رکھنے پڑیں گے اور اگر اس کی بھی طاقت نہ ہو، تو ساٹھ مسکینوں کو دونوں وقت پیٹ بھر کر کھانا کھلائے۔

(کتاب النوازل، ج:۶، ص: ۴۰۲)

کفارہ کا کھانا غریب طلبہ کو کھلانا:

مستحق زکوٰۃ طلبہ کو کھانا کھلانا دینے سے روزہ کا کفارہ یقیناً ادا ہو جائے گا اور بعض فقہی جزئیات سے مال دار طالب علم دین پر زکوۃ خرچ کرنے کی اگرچہ اجازت معلوم ہوتی ہے؛ لیکن علامہ شامیؒ نے دلیل کے اعتبار سے اسی بات کو راجح قرار دیا ہے کہ طالب علم اگر فقیر ہو، جبھی اس پر زکوٰۃ خرچ کرنا درست ہوگا اور جو فقیر نہ ہو، تو وہ زکوٰۃ کا مصرف نہیں ہے۔

(کتاب النوازل، ج: ۶، ص:۴۰۴)

کھانا کھلانے میں تسلسل ضروری نہیں :

اگر کوئی شخص ۶۰؍ مسکینوں کو کھانا کھلانے کے ذریعہ کفارہ ادا کر رہا ہے، تو اس کے لیے تسلسل ضروری نہیں ہے؛ بلکہ وہ متفرق اوقات میں بھی مسکینوں کو کھانا کھلا سکتا ہے۔

(کتاب النوازل، ج: ۶، ص: ۴۰۳)

بہت چھوٹے بچوں کو کھلانے سے کفارہ ادا نہ ہوگا:

چھوٹے بچوں (جو قریب البلوغ نہ ہو) کو کھلا نے سے کفارہ ادا نہ ہوگا۔

کتاب المسائل، ج:۲، ص: ۱۷۰)

ایک فقیر کو ۶۰؍ دن کھانا کھلانا:

اگر ایک ہی مسکین کو ۶۰؍ دن تک صبح و شام کھانا کھلایا، تو بھی کفارہ ادا ہو جائے گا؛ بلکہ یہ کفارہ کی ادائیگی کی سب سے آسان صورت ہے۔

(کتاب النوازل، ج:۶، ص:۴۰۳)

عورت کے لیے ایام حیض تسلسل میں مانع نہیں:

عورت پر اگر کفارہ لازم ہو جائے، تو اس کے ماہواری ناپاکی کے ایام عذر سمجھے جائیں گے اور ان دونوں میں روزہ نہ رکھنے سے اس کے تسلسل پر کوئی فرق نہ پڑے گا، مگر پاکی کے بعد فوراً روزے مسلسل رکھنے ہوں گے ، اگر تاخیر کردی تو ازسرِنو پورے روزے رکھنے پڑیں گے۔

(تحفہ رمضان، ص:۷۲، کتاب المسائل، ج:۲، ص: ۱۷۰)

Post a Comment

Previous Post Next Post