https://tagassistant.google.com/#/?url=https%3A%2F%2Fguldastakafi.blogspot.com%2F روزہ کا بیان حصہ سوم، کوئز نمبر چودہ (۱۴) کا مضمون

روزہ کا بیان حصہ سوم، کوئز نمبر چودہ (۱۴) کا مضمون

 

روزہ کا بیان حصہ سوم

(۴) روزہ کے ذریعہ اللہ تعالی کی عطا کردہ نعمتوں کی قدر و منزلت کا عرفان پیدا ہوتا ہے؛ کیوں کہ  ”تُعْرَفُ الاشیاءُ بِاَضْدَادِھَا“جب تک آدمی کو بھوک وپیاس کی شدت کا احساس نہ ہو ، اسے کھانے پینے کی سچی قدر کیا ہوگی اور جب ان نعمتوں کی قدرو منزلت کی معرفت حاصل ہوگی، تو اس کا زیادہ سے زیادہ حق ادا کرنے کی کوشش کرے گا، تو اس طرح روزہ اللہ تعالی کے شکر اور اس کی عبادت پر آمادگی کا ایک اہم قوی ذریعہ ہے۔

(۵) روزہ کی وجہ سے جب آدمی بھوک و پیاس کی شدت کو محسوس کرتا ہے، تو اس کے اندر غرباء و مساکین کی تکلیف کا احساس بیدار ہو تا ہے ؛ کیوں کہ ناز و نعمت میں پلا ہوا شخص ، جس نے بھوک و پیاس کی تکلیف کبھی برداشت نہ کی ہو ، اسے بھوکوں، پیاسوں کی حالت زار اور اذیت کا کیا علم ہوگا ؛ لیکن روزہ کی وجہ سے جب اُسے بھوک کی اذیت کا ذاتی تجربہ ہوگا، تو پھر اس کے اندر یہ جذبہ پیدا ہوگا کہ غریبوں اور ناداروں کی امداد و اعانت کرکے انھیں اس تکلیف و اذیت سے بچایا جائے۔

(۶) اور ان سب مصالح کے علاوہ سب سے اہم بات جو روزہ سے حاصل ہوتی ہیں، وہ اپنے آپ کو اللہ تعالیٰ کے حوالہ کردینا ہے اور یہ تسلیم اور خودسپردگی ہر عبادت کا حاصل اور خلاصہ ہے ،جیسا کہ ارشاد خداوندی ہے :’’ سَمِعْنَا وَاَطَعْنَا غُفْرَانَکَ رَبَّنَا وَاِلَیْکَ الْمَصِیْر‘‘ ہم نے سنا اور قبول کیا تیری بخشش چاہتے ہیں، اے ہمارے رب اور تیری طرف لوٹ کر جانا ہے۔

(سورہ بقرہ، آیت نمبر : ۲۸۵)

’’اِنَّ صَلاَتِيْ وَنُسُکِيْ وَمَحْیَايَ وَمَمَاتِيْ لِلہِ رَبّ العٰالمین‘‘یقینا میری نماز اور میری دیگر عبادتیں اور میری حیات اور موت سب اللہ ہی کے لیے ہیں۔        

(سورہ انعام، آیت نمبر: ۱۶۲) 

روزہ کی مشروعیت سے مقصود انسان کو تنگی اور دشواری میں مبتلا کرنا نہیں ہے، جیسا کہ خود اللہ تعالیٰ روزہ کی فرضیت کے بعد اس حکمت کو بیان کرتے ہیں:’’یُرِیْدُ اللہُ بِکُمُ الْیُسْرَ وَلاَ یُرِیدُ بِکُمُ العُسْرَ‘‘ اللہ چاہتا ہے تم پر آسانی اور نہیں چاہتا ہے تم پر دشواری۔                   (سورہ بقرہ آیت : ۱۸۵)

خلاصۂ کلام یہ ہے کہ روزہ سے مقصود روحانیت کو قوی کرنا، ارادہ میں استحکام پیدا کرنا اور صبر و رضا کا خوگر بنانا، جسم کوامراض سے بچانا اور اللہ تعالیٰ کی نعمتوں کی انسان کے دل میں قدر ومنزلت پیدا کرنا ہے۔

(مستفاد: ماہنامہ دارالعلوم، شمارہ ۸۔۹،جلد: ۹۵، رمضان، شوال، ۱۴۳۲؁)

روزہ کی لغوی و اصطلاحی تعریف، روزہ کا شرعی حکم، روزہ کے اقسام اور ان کی شرائط’’ مختصر عقائد و مسائل روزہ کے متعلق‘‘ اس عنوان کے تحت گزر چکا ہے۔

وہ لوگ جن پر روزہ رکھنا لازم نہیں :

(۱) مسافر       (۲) مریض      (۳) کافر       (۴) نابالغ        (۵) مجنوں 

(۶) دائمی عاجز   (۷) حائضہ      (۸) زچہ       (۹) حاملہ         (۱۰) مرضعہ 

مذکورہ بالادس افراد ہیں، جن پر روزہ رکھنا لازم و ضروری نہیں ہے، مگر ان دس افراد کے روزہ نہ رکھنے کی قدرے تفصیل ہے: ان میں سے کچھ وہ افراد ہیں، جن پر فی الحال روزہ رکھنا ضروری تو نہیں؛ لیکن بعد میں قضا کرنا لازم ہے ، جیسے مسافر، مریض، حاملہ، مرضعہ، حائضہ اور زچہ۔

دوسرے کچھ وہ لوگ، جن پر بعد میں بھی قضا کرنا لازم نہیں ہے، مگر فدیہ دینا ضروری ہے، جیسے شیخ فانی یعنی بڑھاپے یا دیگر شرعی عذر کی وجہ سے روزہ رکھنے سے دائمی طور پر عاجز ہوگئے ہوں۔

تیسرےکچھ وہ افراد ہیں، جن پر بعد میں قضا بھی لازم نہیں ہے اور نہ فدیہ دینا ضروری ہے، جیسے نابالغ ، کافر اور مجنون۔

مزید تشفی و جانکاری کے لیے اس فن سے متعلق دیگر کتابوں کی طرف التفات کریں۔


Post a Comment

Previous Post Next Post