وہ چیزیں جن سے روزہ نہیں ٹوٹ جاتا ہے حصہ دوم
احتلام ہوجانا:
احتلام (سوتے میں غسل کی حاجت ہوجانا) بھی مفسد صوم نہیں ہے۔
(تحفہ رمضان، ص: ۶۳، از: مفتی سلمان صاحب منصورپوری مدٖظلہ العالی)
حالت جنابت میں صبح کرنا:
حالت جنابت میں سحری کھانے کے بعد صبح صادق کے بعد غسل کرنے سے روزہ میں فساد نہیں آتا۔
(کتاب المسائل، ج: ۲، ص: ۱۵۶)
اپنی بیوی سے دل لگی کرنا:
روزہ کی حالت میں اپنی بیوی سے دل لگی کرنا، ایسے شخص کے لیے جائز ہے، جسے انزال یا ہمبستری کا خطرہ نہ ہو۔
(تحفہ رمضان، ص: ۶۴، از: مفتی سلمان صاحب منصورپوری مدٖظلہ العالی)
تصور کی وجہ سے انزال ہوگیا:
اگر کوئی شخص نے روزہ کی حالت میں بیوی سے جماع کا تصور کیا اور اسی وجہ سے انزال ہوگیا، تو روزہ فاسد نہیں ہوا۔
(کتاب المسائل، ج: ۲، ص: ۱۶۱)
بدنظری کی وجہ سے انزال ہوگیا:
محض کسی عورت یا تصویر کو دیکھ کر اگر انزال ہو جائے، تو اس سے روزہ فاسد نہیں ہوتا۔
(کتاب المسائل، ج: ۲، ص: ۱۶۱)
مذی نکلنے سے روزہ نہیں ٹوٹتا:
روزہ کی حالت میں مذی نکلنے سے روزہ فاسد نہیں ہوتا۔
(تحفہ رمضان، ص: ۶۴، از: مفتی سلمان صاحب منصورپوری مدٖظلہ العالی)
روزہ کی حالت میں ناک سڑکنا:
ناک اتنی زور سے سڑک لیا کہ حلق میں چلی گئی، تو اس کی وجہ سے روزہ نہیں ٹوٹتا۔
(کتاب المسائل، ج: ۲، ص: ۱۵۷)
رال کا منہ میں کھینچ لینا:
اگر منہ سے رال نکلی؛ لیکن ابھی وہ منقطع ہوکر ٹپکنے نہ پائی تھی کہ اسے منہ کی طرف کھینچ کر نگل لیا، تو اس سے روزہ نہیں ٹوٹے گا۔
(کتاب المسائل، ج: ۲، ص: ۱۵۸)
دانت میں چنے کے بقدر غذا رہ جانا:
اگر کوئی غذا چنے کی مقدار سے کم دانت میں پھنسی رہ جائے پھر منہ سے نکالے بغیر اسے نگل گیا ، تو روزہ فاسد نہ ہوگا۔
(تحفہ رمضان، ص: ۶۴، از: مفتی سلمان صاحب منصورپوری مدٖظلہ العالی)
سر پر رومال بھگو کر رکھنا:
روزہ کی حالت میں رومال بھگو کر(گیلا کر کے) سر پر رکھنا بلا کراہت جائز ہے۔
(کتاب المسائل، ج: ۲، ص: ۱۵۸)
گرمی یا پیاس کی وجہ سے غسل کرنا:
گرمی یا پیاس کی وجہ سے غسل کرنا بلا کراہت درست ہے۔(اگرچہ پانی کی ٹھنڈک بدن کے اندر تک پہنچ رہی ہو)
(تحفہ رمضان، ص: ۶۴، از: مفتی سلمان صاحب منصورپوری مدٖظلہ العالی)
غسل کے دوران بلا ارادہ کان میں پانی کا چلا جانا:
اگر روزہ دار کے کان میں غسل کرتے ہوئے یا بارش میں بھیگتے ہوئے یا دریا میں نہاتے ہوئے بلا اختیار کان میں پانی چلا جائے، تواس سے بالاتفاق روزہ فاسد نہ ہوگا۔
(کتاب المسائل، ج: ۲، ص: ۱۶۰)
روزہ میں نیم کی تر مسواک کا حکم:
روزہ میں نیم وغیرہ کی تر مسواک کرنے میں شرعاً کوئی حرج نہیں ہے۔(چاہے سوکھی مسواک ہو یا تازی اسی وقت کی توڑی ہوئی، اگر نیم کی مسواک ہے اور اس کا کڑوا پن منہ میں معلوم ہوتا ہے، تب بھی مکروہ نہیں ہے)
(کتاب المسائل، ج: ۲، ص:۱۵۹ ، رمضان المبارک فضائل و مسائل، ص: ۴۵)
روزہ میں بدن پر وِکْسْ لگانا:
نزلہ وغیرہ کے وقت جو ’’وکس‘‘ مرہم لگایا جاتا ہے، جس کی تیز خوشبو دماغ تک پہنچتی ہے، اس کے استعمال سے روزہ نہیں ٹوٹتا ہے۔
(کتاب المسائل، ج:۲، ص:۱۵۹)
روزہ میں سر یا بدن میں تیل لگانا:
روزہ کے دوران سر یا بدن پر تیل لگانا مباح ہے، اس سے روزہ میں کوئی خرابی نہیں آتی ۔
(کتاب المسائل، ج: ۲، ص: ۱۶۰)
روزہ کی حالت میں آنکھ میں دوا ڈالنا:
روزہ کی حالت میں ضرورت کے وقت آنکھ میں دوا ڈالنا جائز ہے، اس سے روزہ نہیں ٹوٹتا، اگرچہ دوا کا ذائقہ حلق میں محسوس ہو۔
(کتاب المسائل، ج: ۲، ص: ۱۵۹)
پان کی سرخی منہ میں رہ جانا:
اگر پان کھاکر خوب کلی غرغرہ کرکے منہ صاف کرلیا، لیکن تھوک کی سرخی نہیں گئی، تو اس میں کچھ حرج نہیں، اگر اس سرخی کے اثرات تھوک کے ساتھ پیٹ میں چلے جائیں، تب بھی روزہ نہیں ٹوٹے گا۔
(کتاب المسائل، ج: ۲، ص: ۱۵۷)
ڈکار کے بعد منہ میں پانی آجانا:
جس شخص نے سحری میں اس قدر کھایا ہو کہ طلوع آفتاب کے بعد ڈکاریں آتی ہیں اور ان کے ساتھ پانی بھی آتا ہے، تو اس سے روزہ میں کچھ حرج نہیں پڑتا۔
(تحفہ رمضان، ص: ۶۶، از: مفتی سلمان صاحب منصورپوری مدٖظلہ العالی)
خون روکنے کے لیے منجن استعمال کرنا:
دانتوں سے خون روکنے کے لیے منجن استعمال کرنا جائز ہے، مگر مکروہ تنزیہی ہے۔
(تحفہ رمضان، ص: ۶۶، از: مفتی سلمان صاحب منصورپوری مدٖظلہ العالی)
کوئی چیز چکھ کر تھوک دینا:
اگر زبان سے کوئی چیز چکھ کر تھوک دی تو روزہ نہیں ٹوٹا؛ لیکن خواہ مخواہ ایسا کرنا مکروہ ہے، ہاں! اگر کسی کا شوہر بڑا بد مزاج ہو اور یہ ڈر ہو کہ اگر سالن میں نمک وغیرہ درست نہ ہوا ، تو غصہ ہوگا، اس کو نمک چکھ لینا درست ہے اور وہ مکروہ نہیں ہے
(رمضان المبارک فضائل و مسائل، ص: ۴۵)
کسی چیز کو اپنے منہ سے چبا کر کھلانا:
کسی چیز کو اپنے منہ سے چبا کر چھوٹے بچے کو کھلانا مکروہ ہے، البتہ اگر اس کی ضرورت پڑے اور مجبوری و ناچاری ہو جائے، تو مکروہ نہیں ہے۔
(رمضان المبارک فضائل و مسائل، ص: ۴۵)
