https://tagassistant.google.com/#/?url=https%3A%2F%2Fguldastakafi.blogspot.com%2F وہ چیزیں جن سے روزہ ٹوٹ جاتا ہے اور صرف قضا لازم ہے، کوئز نمبر انیس (۱۹)

وہ چیزیں جن سے روزہ ٹوٹ جاتا ہے اور صرف قضا لازم ہے، کوئز نمبر انیس (۱۹)

 

وہ چیزیں جن سے روزہ ٹوٹ جاتا ہےاور صرف قضا لازم ہے حصہ دوم 

بھول کر کھانے کے بعد پھرسے جان بوجھ کر کھالینا:

بھول کر کچھ کھا پی لیا، پھر یہ سمجھا کہ روزہ ٹوٹ گیا اور پھر جان بوجھ کر کچھ کھا پی لیا ،تو روزہ ٹوٹ گیا۔

(احکام رمضان و اعتکاف مع مختصر فضائل و مسائل، ص: ۵۶)

مشتبہ وقت کی وجہ سے سحری یا افطاری کرلینا:

کوئی شخص یہ سمجھا کہ ابھی صبح صادق نہیں ہوئی ہے، لہذا وہ سحری کھا لیا، پھر معلوم ہوا کہ صبح صادق کے بعد کھایا پیا تھا، یعنی صبح صادق ہوچکی تھی ، اسی طرح ابر یا غبار کی وجہ سے یہ سمجھا کہ آفتاب غروب ہو چکا ہے، روزہ افطار کرلیا، پھر بعد میں معلوم ہوا کہ ابھی وقت باقی تھا ، تو روزہ ٹوٹ جائے گا۔

(احکام رمضان و اعتکاف مع مختصر فضائل و مسائل، ص: ۵۶)

رمضان کے علاوہ دنوں میں روزہ کا توڑ دینا: 

رمضان کے علاوہ اور دنوں میں کوئی روزہ جان بوجھ کر توڑ دیا، تو قضا لازم ہوگی ۔

(احکام رمضان و اعتکاف مع مختصر فضائل و مسائل ، ص: ۵۶)

بوس و کنار کی وجہ سے انزال ہو جانا:

اگر بیوی سے بوس و کنار کی وجہ سے انزال ہوگیا، تو روزہ ٹوٹ جائے گا اور قضا لازم ہوگی، کفارہ نہیں۔

(تحفہ رمضان ، ص: ۷۰، از: مفتی سلمان صاحب منصورپوری مدظلہ العالی)

روزہ کی حالت میں مشت زنی:

اگر روزے کے دوران مشت زنی سے انزال ہوگیا، تو روزہ فاسد ہوگیا، بعد میں قضا لازم ہے، مگر کفارہ لازم نہیں ہے۔ (اور مشت زنی بہر حال گناہ ہے۔)

(کتاب المسائل، ج: ۲، ص: ۱۶۵)

احتلام کے بعد روزہ ٹوٹنے کے گمان سے افطار کرلینا:

احتلام سے روزہ نہیں ٹوٹتا ہے؛ لیکن اگر کسی نے غلطی سے یہ سمجھ کر کہ احتلام کی وجہ سے روزہ جاتا رہا، افطار کرلیا، تو کفارہ نہیں صرف قضا لازم ہے۔

کتاب المسائل، ج: ۲، ص: ۱۶۶)

سخت بیماری (انتہائی مجبوری)کے وقت روزہ افطار کرلینا: 

سخت بیماری کی وجہ سے اگر روزہ افطارکرلے، تو اس کو صرف قضا کرنی پڑے گی کفارہ نہیں۔

(کتاب المسائل، ج:۲، ص:۱۶۶)

قصداً روزہ توڑ دیا پھر بیمار ہوگیا: 

اگر کسی نے قصداً روزہ توڑ دیا، پھر بیمار ہوگیا یا عورت کو حیض آگیا، تو قضا لازم ہوگی، کفارہ ساقط ہوجائے گا

(تحفہ رمضان ، ص: ۷۰، از: مفتی سلمان صاحب منصورپوری مدظلہ العالی)

مسافر کاروزہ توڑ دینا: 

اگر کسی شخص نے روزہ کی حالت میں سفر شروع کیا، تو اسے بلا عذر روزہ نہیں توڑنا چاہیے، لیکن اگر روزہ توڑ دیا، تو صرف قضا لازم ہوگی، کفارہ لازم نہ ہوگا۔

کتاب المسائل، ج: ۲، ص: ۱۶۷)

روزہ میں عورت کے ساتھ زبردستی جماع :

رمضان کے روزہ میں اگر عورت کے ساتھ مرد زبردستی مجامعت کرے، تو عورت پر صرف قضا ہے۔

(کتاب المسائل، ج:۲، ص: ۱۶۷)

روزہ میں ’’انیما‘‘ لینا:

پیٹ کی صفائی کے لیے پیچھے کے راستہ سے جو دوا چڑھائی جاتی ہے (جس کو انیما کہا جاتا ہے ) اس سے روزہ ٹوٹ جاتا ہے۔

(تحفہ رمضان ، ص: ۷۱، از: مفتی سلمان صاحب منصورپوری مدظلہ العالی)

بواسیر کے اندر مسّوں پر دوا لگانا:

بواسیر کے اندر مسوں پر مرہم یا دوا لگا نے سے روزہ ٹوٹ جائے گا، مگر جو مسے باہر رہتے ہیں، ان پر دوا لگانے سے روزہ نہیں ٹوٹے گا۔

  (کتاب المسائل، ج: ۲، ص: ۶۷)

مرد کی پیشاب کی نالی میں میں دوا ٹپکانا: 

مرد کی پیشاب کی نالی میں اگر کوئی دوا ڈالی جائے اور وہ مثانہ تک پہنچ جائے، تو روزہ ٹوٹ جائے گا اور اگر مثانہ تک نہ پہنچے تو روزہ نہیں ٹوٹے گا۔

(کتاب المسائل، ج۲، ص: ۱۶۷)

عورت کی شرمگاہ میں دوا رکھنا: 

اگر کسی عورت کی شرمگاہ میں کوئی دوا ڈالی جائے، تو فوراً اس کا روزہ ٹوٹ جائے گا۔

(تحفہ رمضان ، ص: ۷۱، از: مفتی سلمان صاحب منصورپوری مدظلہ العالی)

ڈاکٹرنی کا عورت کی شرم گاہ میں ہاتھ ڈالنا:

اگر کسی مرض کی تشخیص یا مدتِ وضع حمل کا انداز لگانے کے لیے لیڈی ڈاکٹر کسی عورت کی شرم گاہ میں ہاتھ ڈالے، تو اس کی دو صورتیں ہیں: (۱) اگر وہ خشک ہاتھ ڈالے جس پر پانی یا دوا کا کچھ اثر نہ ہو، تو روزہ نہیں ٹوٹے گا۔ (۲) اگر تر ہاتھ ڈالایا دوا وغیرہ لگا کر ہاتھ ڈالاتو روزہ ٹوٹ جائے گا۔

(کتاب المسائل، ج: ۲، ص: ۱۶۸)

Post a Comment

Previous Post Next Post