مکروہاتِ روزہ
روزہ میں تھوک جمع کر کے نگلنا:
منہ میں تھوک جمع کرکے نگلنا روزہ کی حالت میں مکروہ ہے، اگرچہ اس سے روزہ نہیں ٹوٹتا ہے۔
(کتاب المسائل،ج: ۲، ص: ۱۷۳، تحفہ رمضان، ص: ۷۳)
بلاعذر کسی چیز کا چکھنایا چبانا:
بلا عذر کسی چیز کے چکھنے اور چبانے سے روزہ میں کراہت آجاتی ہے۔
(تحفہ رمضان ، ص: ۷۳، کتاب المسائل، ج: ۲، ص: ۱۷۳)
نوٹ: اس کی کراہت عدم عذر پر موقوف ہے، لہذا اگر کوئی عذر ہو مثلاً کسی عورت کا شوہر بدمزاج ہے اور کھانا خراب ہونے پر اس کے غصہ ہونے کا اندیشہ ہے، تو اسے کھانے کا نمک زبان پر رکھ کر چکھنےکی اجازت ہوگی اور ایسی صورت میں روزہ مکروہ نہ ہوگا، اسی طرح اگر چھوٹے بچہ کو روٹی چباکر کھلانے کی ضرورت ہواور روزہ دار عوت کے علاوہ وہاں کوئی اس ضرورت کو پورا کرنے والا نہ ہو، تو وہ اسے چبا کر دے سکتی ہے؛ لیکن خیال رہے، چکھنے یا چبانے میں کوئی حصہ حلق کے نیچے نہ اترے ورنہ روزہ جاتا رہے گا۔
(تحفہ رمضان، ص: ۷۴، کتاب المسائل، ص: ۲، ج: ۱۷۳)
ٹوتھ پیسٹ یا کوئی منجن استعمال کرنا:
روزہ کی حالت میں ٹوتھ پیسٹ استعمال کرنا کوئلہ یا کوئی منجن دانتوں میں ملنا یا عورت کا اس طرح ہونٹ پر سرخی لگانا کہ اس کے پیٹ میں چلے جانے کا اندیشہ ہو مکروہ ہے۔
(کتاب المسائل، ج:۲ ،ص: ۱۷۴)
بیوی سے دل لگی کرنا:
روزہ میں بیوی سے دل لگی کرنا بھی مکروہ ہے، جب کہ جماع یا انزال کا خوف ہو۔
(تحفہ رمضان، ص: ۷۴)
روزہ کی حالت میں قصداً تھکا دینے والے اعمال انجام دینا:
ہر ایسا کام جس سے اس قدر ضعف کا اندیشہ ہو کہ روزہ توڑنا پڑ جائے، مکروہ ہے۔
(کتاب المسائل، ج: ۲، ص: ۱۷۴)
روزہ کی حالت میں گناہ کے کام کرنا:
روزہ کی حالت میں ہر گناہ کا کام خواہ قولی ہو یا فعلی روزہ کو مکروہ بنا دیتا ہے۔
(تحفہ رمضان، ص:۷۴)
کلی کرنے اور ناک میں پانی چڑھانے میں مبالغہ کرنا:
ناک میں پانی چڑھانے اور کلی کرنے میں مبالغہ کرنے سے روزہ مکروہ ہوجاتا ہے۔
(کتاب المسائل، ج:۲، ص:۱۷۴)
عورت کا شوہر کی اجازت کے بغیر نفلی روزہ رکھنا:
بیوی کے لیے شوہر کی اجازت کے بغیر نفلی روزہ رکھنا مکروہ ہے، البتہ اگر شوہر بیمار ہے یا وہ بھی روزہ سے ہے یا حالتِ احرام میں ہے، تو مکروہ نہیں ہے۔
(کتاب المسائل، ج:۲، ص: ۱۷۵)
مشکوک وقت تک سحری کو مؤخر کرنا:
سحری میں تاخیر مستحب ہے، مگر اتنا تاخیر کرنا کہ وقت میں شک پیدا ہو جائے، مکروہ ہے۔
(تحفہ رمضان، ص:۷۵)
صومِ وصال رکھنا:
صومِ وصال یعنی مسلسل اس طرح روزے رکھنا کہ درمیان میں افطار بھی نہ کی جائے۔
انوار رمضان ،ص: ۲۲۴)
صومِ صمت:
صومِ صمت یعنی خاموش رہنے کا روزہ رکھنا، یہ بھی مکروہ ہے۔
(انوار رمضان، ص: ۲۲۴)
مسافر کا روزہ رکھنا مشقت کے باوجود:
مسافر کے لیے روزہ رکھنا جبکہ اس کو بہت زیادہ مشقت کا سامنا ہو۔
(انوار رمضان، ص: ۲۲۴)
صرف عاشورا کے دن کا روزہ رکھنا:
محرم کی دسویں تاریخ کو روزہ رکھنا مستحب ہے، البتہ اس کے ساتھ نویں یا گیارہویں تاریخ کا روزہ رکھنا بھی مستحب ہے، اس لیے قصداًصرف دسویں محرم کا روزہ رکھنا مکروہ ہے۔
(تلخیص: فتاوی جامعہ بنوری ٹاون، فتوی نمبر: ۱۴۴۰۰۱۲۰۰۰۵۴)
مستحباتِ روزہ
(۱) سورج ڈوبتے ہی نماز سے پہلے روزہ کھولنے میں جلدی کرنا۔
(۲) کجھور یا چھوہارے سے افطار کرنا اس کے بعد پانی کا درجہ ہے۔
(۳) جس چیز سے روزہ افطار کیا جائے، وہ طاق عدد میں ہو۔
(۴) افطار کے بعد دعا ماثورہ کا پڑھنا مثلاً ’’اللہم لک صمت و بک امنت وعلیک تو کلت و علی رزقک افطرت‘‘
(۵) کچھ نہ کچھ سحری کے وقت کھایا جائے خواہ تھوڑا سا ہی ہو یا ایک گھونٹ پانی ہو۔
(۶)اتنی تاخیر نہ ہو کہ صبح ہونے کا اندیشہ ہونے لگے۔
(۷) زبان کو بیہودہ گوئی سے باز رکھا جائے، ہر طرح کے حرام افعال مثلاً غبیت اور چغل کرنے سے بہرحال بچائے۔
(۸) رشتہ داروں، محتاجوں اور مسکینوں کو صدقات و خیرات سے نوازنا، حصولِ علم میں مشغول رہنا، تلاوت کرنا، درود شریف پڑھنا، ذکر الہی میں رات دن لگے رہنا اور اعتکاف کرنا۔
(کتاب المسائل ،ج: ۲، ص: ۱۷۲،تحفہ رمضان، ص: ۷۵۔۷۶)
(۹) صبح صادق سے پہلے پہلے روزہ کی نیت کرلینا۔
(۱۰) مسواک کرنا۔
(انوار رمضان، ص: ۲۲۶)
وہ چیزیں جن کی وجہ سے روزہ توڑنا جائز ہے
جان کا خطرہ یا بیماری بہت بڑھ جانے کا اندیشہ ہو:
اچانک ایسا بیمار پڑجائے کہ اگر روزہ نہ توڑے گا، تو جان خطرہ میں ہو جائے گی یا بیماری بڑھ جائے، تو روزہ توڑ دینا بہتر ہے۔
(تحفہ رمضان، ص: ۷۶)
حاملہ عورت اپنی جان یا بچہ کی جان کا اندیشہ کرے:
حاملہ عورت کو کوئی ایسی بات پیش آگئی کہ جس سے اپنی جان کا یا بچہ کی جان کا خطرہ ہے، تو روزہ توڑ دینا بہتر ہے۔
(کتاب المسائل؛ ج: ۲، ص: ۱۷۵)
دودھ پلانے والی عورت کے لیے سہولت:
اگر دودھ پلانے والی عورت کو اندیشہ ہو کہ روزہ رکھنے کی وجہ سے شیرخوار بچہ ہلاک ہوجائے گا یا عورت بوجہ ضعف کے ہلاک ہوجائے گی، تو اس صورت میں رمضان میں روزہ افطار کرے اور بعد میں قضا کرلے۔
(کتاب المسائل، ج:۲، ص:۱۷۶)
پیاس سے بیتاب ہوجانا:
کسی عمل کی وجہ سے بےحد پیاس لگ گئی اور اتنا بیتاب ہوگیا کہ اب جان کا خوف ہے، تو روزہ توڑ دینا
درست ہے؛ لیکن اگر خود قصداً اس نے اتنا کام کیا، جس کی وجہ سے ایسی حالت ہوگئی، تو گنہگار ہوگا۔
تحفہ رمضان، ص: ۷۶)
