https://tagassistant.google.com/#/?url=https%3A%2F%2Fguldastakafi.blogspot.com%2F روزہ کا بیان، کوئز نمبر تیرہ (۱۳)

روزہ کا بیان، کوئز نمبر تیرہ (۱۳)

روزہ کا بیان حصہ دوم 

روزہ کی ایک بڑی فضیلت یہ بھی ہے کہ یہ گناہوں کی بخشش کا ذریعہ ثابت ہے، جیسا کہ حضرت ابوہریرہ ؓ نبی کریم ﷺ کا ارشاد نقل فرماتے ہیں: ’’مَنْ صَامَ رَمَضَانَ إِيمَانًا وَاحْتِسَابًا غُفِرَ لَهُ مَا تَقَدَّمَ مِنْ ذَنْبِهِ‘‘ جس نے رمضان کے روزے ایمان کی حالت میں اجر و ثواب کی نیت سے رکھے، اس کے پچھلے تمام گناہ معاف کر دیے جاتے ہیں۔

(مسلم شریف، رقم الحدیث: ۷۶۰)

ایک روایت میں پچھلے گناہوں کے ساتھ ساتھ اگلے گناہوں کی مغفرت کا بھی ذکر ہے:’’مَنْ صَامَ رَمَضَانَ إِيمَانًا وَاحْتِسَابًا غُفِرَ لَهُ مَا تَقَدَّمَ مِنْ ذَنْبِهِ وَ مَا تَأخَّرَ‘‘جس نے رمضان کے روزے ایمان کی حالت میں اجر و ثواب کی نیت سے رکھے، اس کے اگلے پچھلے تمام گناہ معاف کر دیے جاتے ہیں۔

(السنن الکبری للنسائی، رقم الحدیث: ۳۴۰۵)

محدث کبیر علامہ ابن حجر عسقلانیؒ فرماتے ہیں: ’’ پچھلے گناہوں کی معافی تو واضح ہے۔ اگلے گناہوں کی معافی کا ایک مطلب تو یہ ہے کہ اگر گناہ ہو جائے، تو اللہ تعالی کی جانب سے معاف کر دیا جائے گا اور دوسرا مطلب یہ ہے کہ آئندہ اللہ تعالی کبیرہ گناہوں سے محفوظ رہنے کی توفیق عطا فرمائیں گے۔‘‘

(فتح الباری ، ج: ۴، ص: ۲۵۲)

یاد رہے کہ مذکورہ حدیث اور اس جیسی دیگر حدیثوں میں بخشش سے مراد یہ ہے کہ صغیرہ گناہ معاف ہو تے ہیں ، تاہم روزہ دار روزہ رکھنے کے ساتھ ساتھ کبیرہ گناہوں سے بھی توبہ کر لے، تو وہ بھی معاف ہو جائیں گے

روزے میں اللہ تبارک و تعالی نے انسانوں کے لیے بہت سے جسمانی فوائد بھی مضمر رکھے ہیں ، سال بھر کھاکھا کر جسم بہت سی بیماریوں کا شکار اور طرح طرح کی کثافتوں کی وجہ سے بوجھل ہو جاتا ہے۔

اللہ تبارک و تعالی کا بہت بہت احسان و کرم ہے کہ اس نے ہمیں ایک مہینہ مسلسل روزہ رکھنے کا حکم دیا، اس سے بہت سی بیماریوں کے پیدا ہونے میں رکاوٹ اور پہلے سے موجود کئی بیماریوں کا علاج ہے، جیسا کہ حدیث مذکورہ میں روزے کے جسمانی و طبی فوائد کا ذکر ہوا ہے: ’’لِکُلِّ شَئٍ زَکٰوةٌ وَ زَکٰوةُ الْجَسَدِ الصَّوْمُ‘‘ ہر چیز کی ز کوٰۃ ہوتی ہے اور جسم کی زکوٰۃ روزہ ہے۔

(سنن ابن ماجه ، کتاب الصيام باب في الصوم زكوٰة الجسد)

روزہ عزتِ نفس، پاکدامنی اور شہوت کو توڑنے کا بہتریں ذریعہ ہے ، جیسا کہ عبداللہ ابن مسعودؓ نبی اکرم ﷺ کا فرمانے نقل کرتے ہیں: ’’يَا مَعْشَرَ الشَّبَابِ، مَنِ اسْتَطَاعَ مِنْكُمُ الْبَاءَةَ فَلْيَتَزَوَّجْ، فَإِنَّهُ أَغَضُّ لِلْبَصَرِ، وَأَحْصَنُ لِلْفَرْجِ، وَمَنْ لَمْ يَسْتَطِعْ فَعَلَيْهِ بِالصَّوْمِ؛ فَإِنَّهُ لَهُ وِجَاءٌ ‘‘ نبی کریم ﷺ نے ہم سے فرمایا: نوجوانوں کی جماعت! تم میں جسے بھی نکاح کرنے کی طاقت ہو، اسے نکاح کر لینا چاہئے، کیونکہ یہ نظر کو نیچی رکھنے والا اور شرمگاہ کی حفاظت کرنے والاعمل ہے اور جو کوئی نکاح کرنے کی طاقت نہ رکھتا ہو، اسے چاہیے کہ روزہ رکھے، کیونکہ روزہ اس کی خواہشات نفسانی کو توڑ دے گا۔

(بخاری شریف، کتاب النکاح، رقم الحدیث: ۱۹۰۴)

روزہ دار کے منہ کی بُو(مہک) مشک سے بھی زیادہ پسندیدہ ہے، جیسا کہ حضرت ابوہریرہؓ کی روایت کا ایک ٹکڑا ہے، جس میں اللہ کے نبی ﷺ نے ارشاد فرمایا: ’’ لَخُلُوفُ فَمِ الصَّائِمِ أَطْيَبُ عِنْدَ اللَّهِ تَعَالَى مِنْ رِيحِ الْمِسْكِ‘‘ روزہ دار کے منہ کی بو اللہ کے نزدیک مشک کی خوشبو سے بھی زیادہ پسندیدہ اور پاکیزہ ہے۔

(بخاری شریف، رقم الحدیث: ۷۴۹۲)

ان کے علاوہ روزہ کے اور بھی بہت سے فضائل و برکات ہیں، جیسے کہ روزہ ریاکاری سے پاک و صاف عبادت ہے، روزہ ایک ایسا سفارشی ہے، جس کی شفاعت قبول کی جائے گی، روزہ دار کا سونا اور خاموش رہنا بھی عبادت ہے ، روزہ داروں کے لیے فرشتے رحمت کی دعا کرتے ہیں، افطاری کے وقت مچھلیاں ان کے لیے مغفرت کی دعا کرتی ہیں، روزہ دار کو بغیر حساب کے اجرو ثواب دیا جائے گا، روزہ دار کے لیے روز محشر دستر خوان لگائے جائیں گے، روزہ دار کو جہنم سے دور رکھا جائے گا اور روزہ کی برکت اور ماہ رمضان کی عبادت کا اثر سال بھر رہتا ہے۔

روزہ کی حکمتیں و مصلحتیں : 

ہم یہ بات اچھی طرح جانتے ہیں کہ روزہ کی فرضیت میں بہت سی حکمتیں و مصلحتیں پوشیدہ ہیں،اگر چہ ہمارا یہ ناقص اور نا رسا ذہن و دماغ ان تمام اسرار و حکم اور مصالح تک نہیں پہنچ سکتا ، تاہم بعض حکمتیں جو سمجھ میں آ رہی ہیں، انہیں ذکر کیا جارہا ہے:

(۱) روزہ میں خواہشِ بطن و فرج کی ریخت و شکست ہوتی ہے، اس لیے لازمی طور پر روحانیت کو قوت و طاقت ملتی ہے، اسی جوہرِ روحانی سے آدمی انسان کہلاتا ہے، تو گویا روزہ کے ذریعہ انسانیت کی تشکیل و تکمیل ہوتی ہے 

(۲) روزہ سے بدن کی بھی اصلاح ہوتی ہے، اس لیے کہ اکثر امراض معدہ کی خرابی کی بنا پر پیدا ہوتے ہیں، جیسا کہ اوپر نبی کریمﷺ کا قول نقل کیا گیا ہے’’لِکُلِّ شَئٍ زَکٰوةٌ وَ زَکٰوةُ الْجَسَدِ الصَّوْمُ‘‘ اس کے علاوہ سائنسی اعتبار سے بھی ثابت ہو چکا ہے کہ ایک مہینہ لگاتار بھوکا، پیاسا رہنے سے بہت سے مہلک امراض سے محفوظ ہو جاتا ہے۔

(۳) روزہ کا ایک اہم فائدہ یہ بھی ہے کہ انسان کے اندر صبر و تحمل اور استقامت کی صفت پیدا ہوتی، روزہ دار کے سامنے عمدہ، مرغوب غذائیں، ٹھنڈا اور شیریں پانی رکھا رہتا ہے، مگر غضب الہی کا مستحق بننے کے خوف سے ان کی طرف توجہ تک نہیں کرتا؛ حالاں کہ بظاہر اس کو ان چیزوں کے استعمال کرنے سے کوئی چیز مانع نہیں ہوتی ہے، چناں چہ اس ایک مہینہ کی مشق و تمرین سے لامحالہ انسان کے اندر استقلال و استقامت کی صفت پیدا ہوگی۔

ماہرین نفسیات نے اپنے علم و تجربہ کی بنیاد پر یہ بات کہی ہےکہ روزہ سے زیادہ ارادوں میں پختگی اور عزائم میں پائیداری پیدا کرنے والی کوئی دوسری چیز نہیں ہے،۔


Post a Comment

Previous Post Next Post