https://tagassistant.google.com/#/?url=https%3A%2F%2Fguldastakafi.blogspot.com%2F روزۃ کا بیان، کوئز نمبر بارہ (۱۲)

روزۃ کا بیان، کوئز نمبر بارہ (۱۲)

روزہ کا بیان حصہ اول

رمضان المبارک کے تمام اعمال اور کاموں میں سب سے اہم کام روزے کا رکھنا ہے، یہی وجہ ہے کہ قرآن و احادیث میں اس کی فرضیت و اہمیت اور ضرورت کو بہت واضح اور صریح انداز میں بیان کیا ہے: ’’ یَا اَیُّھَا الذِیْنَ آمَنُوا کُتِبَ عَلَیْکُمُ الصِّیَامُ کَمَا کُتِبَ عَلَی الَّذِیْنَ مِنْ قَبْلِکُمْ لَعَلَّکُمْ تَتَّقُوْنَ‘‘ اے ایمان والو فرض کیاگیا تم پر روزہ ،جیسے فرض کیاگیا تھا ان لوگوں پر جو تم سے پہلے تھے؛ تاکہ تم پرہیزگار ہوجاؤ۔

(سورہ بقرہ آیت نمبر:۱۸۳)

ایک حدیث شریف میں ہے کہ ’’ من افطر يوما من رمضان من غير رخصة لم يجزه صيام الدهر‘‘ جو شخص رمضان کا ایک روزہ بغیر کسی رخصت کے چھوڑ دے، تو اسے پورے سال کے روزے (بھی) کافی نہیں ہوں گے۔

(سنن الترمذی، کتاب الصوم ، رقم الحدیث:۳۲۳ )

روزہ اللہ رب العزت کا وہ بابرکت فریضہ ہے، جس کا بدلہ اللہ تعالی خود عطا فرمائیں گے: ’’اَلصَّوْمُ لِیْ وَاَنَا اَجْزِیْ بِہٖ‘‘ روزہ خاص میرے لیے ہے اور میں خود ہی اس کی جزا دوں گا۔ 

(بخاری شریف، رقم الحدیث: ۱۹۴۶)

 بعض لوگوں نے مذکورہ بالاروایت کو اعراب کے ذرا سے فرق کے ساتھ یوں بھی پڑھا ہے: ’’اَلصَّوْمُ لِیْ وَاَنَا اُجْزٰی بِہٖ‘‘ روزہ خاص میرے لیے ہے اور میں خود ہی اس کی جزاہوں۔

(من لا یحضره الفقیه، ج ۲، ص ۷۵)

نماز، روزہ ،حج، زکوۃ اور بھی دیگر عبادتیں اللہ ہی کی ہیں اور اسی کو راضی و خوش کرنے کے لیے سب عبادتیں کی جاتی ہیں، مگر روزہ ایک عجیب خصوصیت اپنے اندر رکھتا ہے، وہ ریا اور دکھلاوے سے بالکل دور ، دوسروں کی نظر سے بالکل پوشیدہ، سراپا اخلاص و للہیت کے ساتھ بندہ اور معبود کے درمیان ایک راز رہے، جو روزہ دار اور جن کے لیے روزہ رکھا جا رہا ہے (اللہ تعالی)، ان کے علاوہ کسی دوسرے کو اس کا علم اور ادراک نہیں ہوتا؛ کیوں کہ روزہ کی کوئی ظاہری صورت و ہیئت نہیں ہوتی۔

ایک حدیث شریف میں ہے کہ روزہ داروں کی دعا قبول ہوتی ہے : ’’اَلصَّائِمُ لَاتُرَدُّ دَعْوَتُہ‘‘ روزے دار کی دعا کو رد نہیں کیا جاتا ۔

(مسند احمد ، رقم الحدیث: ۱۰۱۸۳)

دوسری روایت میں اسی بات کو اس طرح سے نقل کیا گیا ہے:’’ تین دعائیں (اللہ کے حضور بہت زیادہ) قبول ہوتی ہیں: روزہ دار کی دعا، مسافر کی دعااور مظلوم کی بد دعا۔

(شعب الایمان، رقم الحدیث: ۳۳۲۳)

نبی پاک ﷺ کا ارشاد ہے کہ روزہ داروں کے لیے ایک دروازہ مخصوص کیا گیا ہے:’’إِنَّ فِي الْجَنَّةِ بَابًا يُقَالُ لَهُ الرَّيَانُ، يَدْخُلُ مِنْهُ الصَّائِمُوْنَ يَوْمَ الْقِيَامَةِ، لَا يَدْخُلُ مِنْهُ أَحَدٌ غَيْرُهُمْ الخ‘‘ جنت میں ایک دروازہ ہے جسے ریان کہا جاتا ہے۔ روزِ قیامت اس میں روزہ دار داخل ہوں گے، ان کے سوا اس دروازے سے کوئی اور داخل نہیں ہو گا۔ 

(بخاری شریف، کتاب الصوم ، باب الریان للصائمین ، رقم الحدیث: ۱۷۹۷)

اسی تعلق سے دوسری روایت ہے:’’ للجنة ثمانیة أبواب منہا باب یسمی باب الریّان لا یدخلہ إلا الصائمون‘‘ جنت میں آٹھ دروازے ہیں، جس میں سے ایک دوازہ ’’ریان‘‘ ہے، اس میں سے صرف روزہ دار داخل ہوں گے۔

 (بیہقي، رقم الحدیث: ۸۷۷۵، باب فضل شہر رمضان)

 بعض علماء نے احادیث کو سامنے رکھ کر آٹھ دروازوں کے یہ نام ذکر کیے ہیں: ۱- باب الصلاہ، ۲- باب الجہاد، ۳- باب الریان ،۴- باب الصدقہ ،۵- باب الحج ،۶- باب الکاظمین والعافین عن الناس ،۷- باب المتوکلین ،۸- باب الذکر یا باب العلم۔ 

(مستفاد: فتوی دارالعلوم دیوبند، فتوی نمبر: ۵۸۰۲۸) 

ایک روایت میں نبی پاک ﷺ کا ارشاد ہے کہ روزہ دار کے لیے دو خوشیاں ہیں:’’للصَّائمِ فرحتانِ : فرحةٌ حينَ يفطرُ ، وفرحةٌ حينَ يَلقى ربَّهُ‘‘روزہ دار کے لئے دو خوشیاں ہیں ایک خوشی افطار کے وقت اور ایک خوشی دیدار کے وقت۔

(بخاری شریف، کتاب الصوم، رقم الحدیث: ۷۴۹۲)

ملا علی قاری رحمۃ اللہ علیہ’’ مشکوۃ ‘‘کی شرح ’’مرقاۃ ‘‘میں فرماتے ہیں:

’’روزہ دار کو دومرتبہ بڑی خوشیاں نصیب ہوتی ہیں: ایک دنیا میں اور دوسری خوشی آخرت میں۔

دنیا میں افطار کے وقت خوشی ہوتی ہے؛ کیوں کہ اس نے حکم خداوندی کو مکمل کیا ہوتا ہے ، اللہ تعالی کی جانب سے روزےکو مکمل کرنے کی توفیق ملنے پر خوشی ہوتی ہے، دن بھر کی بھوک اور پیاس کے بعد کھانے، پینے پر راحت و سکون ملتا ہے ، اللہ تعالی کی جانب سے اجر و ثواب کے حاصل ہونے پر سرور ہوتا ہے، نیز افطار کے وقت دعا کے مقبول ہونے پر مومن کو خوشی ہوتی ہے اور روزہ دار کو آخرت میں خوشی اس وقت حاصل ہوگی، جب کہ اللہ تعالی کی جانب سے ملاقات کا شرف حاصل ہوگا، اس  وقت اس کو روزے کا بے پناہ اجر و ثواب حاصل ہوگا ۔‘‘

(مرقاۃ المفاتیح ،ج: ۴، ص: ۱۳۶۳)

ایک اور حدیث میں نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا: ’’ اَلصَّوْمُ جُنَّۃٌ‘‘ روزہ ڈھال ہے۔

(بخاری شریف، رقم الحدیث: ۷۴۹۲)

دوسری روایت میں یوں نقل کیا گیا ہے:’’ اَلصِّیَامُ جُنَّۃٌ کَجُنَّۃِ اَحَدِکُمْ مِنَ الْقِتَالِ‘‘ روزہ ایک ڈھال ہے ، جیسے قتال کرتے ہوئے (دفاع کی غرض سے) تم میں سے کسی کے پاس ڈھال ہوتی ہے۔

(نسائی شریف، رقم الحدیث: ۲۲۳۰)

بہت سی حدیثوں میں روزہ کو ڈھال کہا گیا ہے : اس کے ڈھال ہونے کا مطلب یہ ہے کہ اس کے ذریعہ شیطان سے حفاظت ہوتی ہے، جیسے ڈھال کے ذریعہ دشمن کے وار سے بچا جاتا ہے، روزہ اللہ تعالی کے عذاب سے انسان کو محفوظ رکھتا ہے، روزہ جہنم کی آگ سے انسان کی حفاظت کاذریعہ بن جاتا ہے۔

(مرقاۃ المفاتیح، ج: ۴، ص: ۱۳۶۳)


Post a Comment

Previous Post Next Post