https://tagassistant.google.com/#/?url=https%3A%2F%2Fguldastakafi.blogspot.com%2F سحری کا بیان حصہ دوم، کوئز نمبر گیارہ (۱۱)

سحری کا بیان حصہ دوم، کوئز نمبر گیارہ (۱۱)

سحری کا بیان حصہ دوم 

لغت میں سحری: 

لغت میں سحری اس کھانے کو کہتے ہیں، جو صبح صادق کے قریب کھایا جائے۔

(البحر الرائق، جلد نمبر: ۲، صفحہ نمبر: ۲۹۲)

سحری کھانے کا مستحب وقت: 

فقہا کرام نے سحری کے وقت کے بارے میں لکھا ہے کہ پوری رات کو چھ حصوں پر تقسیم کر کے آخری حصے میں سحری کھائی جائے، مثلاً غروب آفتاب سے صبح صادق تک بارہ گھنٹے ہیں، تو آخری کے دو گھنٹے سحری کھائیں(غروب آفتاب اور صبح صادق کے درمیانی چھ حصے بنا کر آخری چھٹے حصہ میں سحری کھائیں) اور ان میں بھی تاخیر بہتر ہے، تاکہ بدن میں چستی اور قوت قائم رہے؛ لیکن اتنی بھی تاخیر نہیں کہ صبح صادق کے طلوع ہونے کا وہم ہونے لگے یعنی ایسے وقت پر سحری ختم کر دیں کہ اس وقت یقین ہو کہ ابھی صبح صادق نہیں ہوئی ہے۔

(مستفاد: تحفہ رمضان ، ص:۴۹ ، روزے کے مسائل انسائیکلوپیڈیا ، ص: ۱۱۹)

رمضان کے علاوہ میں سحری کھانے کا حکم: 

سحری کھانے میں تاخیر کا حکم عام ہے، اس میں نفل اور فرض روزوں میں کوئی فرق نہیں ہے ۔

(کتاب النوازل، جلد نمبر: ۶، صفحہ نمبر: ۳۴۱)

سحری و افطاری کی اطلاع دینے کے لیے سائرن بجانا، مائیک سے اعلان کرنا:

سحری کا صحیح وقت بتانے کے لیے سائرن بجانا اور لاؤڈ اسپیکر سے اعلان کرنا قرآن و سنت سے ثابت نہیں، البتہ نکاح اور جنگ کے اعلان کے لیے دف بجانا حدیثوں سے ثابت ہے؛ لہذا اس پر قیاس کرتے ہوئے صحیح وقت کی اطلاع دینے کے لیے سائرن بجانا جائز ہے اور لاؤڈ اسپیکر سے اعلان کرنا بھی درست ہے، لیکن مسلسل اعلان کرنا یا وعظ اور نعت کا سلسلہ جاری رکھنا درست نہیں ہے، اس صورت میں ثواب کے بجائے الٹا گناہ ہوگا؛ کیوں کہ مسلسل اعلان کی صورت میں تہجد پڑھنا ، قرآن مجید کی تلاوت، درود شریف پڑھنا اور استغفار کرنا مشکل ہوجاتا ہے، اس لیے مسلسل نہ کرے، ضرورت کے مطابق وقفے وقفے سے کرے۔

یہی حکم نقارہ بجانے اور توپ وغیرہ کا گولہ چھوڑنے کا بھی ہے۔

( روزے کے مسائل کا انسائیکلوپیڈیا، ص: ۱۱۸، کتاب النوازل،ج: ۶، ص۳۴۳)

سحری کھائے بغیر روزہ رکھنا:

روزہ رکھنے کے لیے سحری کرنا سنت و مستحب ہے، فرض و واجب نہیں ہے؛ لہذا رات کو سحری کھانے کے لیے آنکھ نہیں کھلی یا آنکھ کھلی؛ لیکن کھانے کے لیے کچھ نہیں ملا، تو سحری کیے بغیر روزے کی نیت کرے ، روزہ درست ہو جائے گا، سحری چھوٹ جانے کی وجہ سے روزہ نہ رکھنا بہت بڑا گناہ ہے۔

(بہشتی زیور تیسرا حصہ ، صفحہ نمبر: ۱۴)

’’دائمی اوقات الصلاۃ‘‘ جنتری سے سحر و افطاری کرنا:

یہاں جو سوال و جواب کیا گیا ہے، وہ ادارہ اشاعت دینیات دہلی سے جو ’’دائمی اوقات الصلاۃ‘‘ شائع ہوتا ہے ، اس کے متعلق ہے؛ لیکن اس کا حکم ہر اس کیلنڈر ، جنتری اور دائمی اوقات الصلوۃ لیے ہوگا ، جو فن اصول و قواعد اور تجربات کی روشنی میں صحیح ثابت ہوا ہو، اس لیے جو شخص اس میں درج شدہ وقت کے مطابق سحر و افطار کرے گا ، اس کا روزہ فاسد نہ ہوگا، باقی احتیاط اسی میں ہے کہ جب مقامی جنتری کے مطابق وقت ہو جائے، تبھی روزہ افطار کیا جائے اور سحر میں جب اوقات الصلوۃ میں لکھے گیے وقت کے مطابق ختم سحر ہو، اس کے بعد ہی فجر کی اذان دی جائے، تاکہ کسی قسم کا شک و شبہ باقی نہ رہے۔

(مستفاد: کتاب النوازل، جلد نمبر:۶ ، صفحہ نمبر: ۳۴۴)

کیلنڈر کے مطابق ختم سحرو صبحِ صادق کے درمیان وقفہ میں کھانا پینا: 

یہاں بھی اپنے دائمی کیلنڈر کے مطابق جواب دیا گیا ہے: ’’مدرسہ شاہی مرادآباد کے دائمی کیلنڈر میں ختم سحرکے متعلق جو ۵۔۶؍ منٹ کے احتیاط کی بات مذکور ہے، وہ اصل وقت ختم ہونے سے پہلے کی ہے، لہذا اس میں احتیاطاً ۵۔۶؍ منٹ کے درمیان کھانے پینے سے روزہ فاسد نہیں ہوگا ‘‘ اسی طرز پر اگر دیگر کیلنڈر ہے ، تو اس کا بھی حکم یہی ہوگا، ورنہ روزہ فاسد ہو جائے گا۔

(مستفاد: کتاب النوازل، جلدنمبر: ۶، صفحہ نمبر: ۳۴۵)

سحری کھا کر سو گیا پھر احتلام ہوگیا:

صورت مسئولہ میں (سحری کھاکر لیٹ گیا، اذان میں دیر تھی، آنکھ لگ گئی، اس کو احتلام ہوگیا، تو روزہ ہوا یا نہیں؟) روزہ صحیح ہوگیا، مگر نماز قضا کرنے کی کوتاہی پر پکڑ ہوگی، آئندہ احتیاط رکھیں۔

(کتاب النوازل، جلد نمبر: ۶، صفحہ نمبر: ۳۷۱)

حالتِ جنابت میں سحری کھانا:

صورت مسئولہ میں (کوئی شخص عشا کی نماز پڑھ کر سوگیا، اتفاق سے سحری کا وقت ختم ہونے میں صرف ۵ یا ۱۰؍ منٹ باقی ہے اور اس شخص کو غسل کی ضرورت ہے ۔)وہ شخص پہلے سحری کھائے، اس کے بعد غسل کر کے نماز فجر پڑھے، حالتِ جنابت میں سحری کھانے اور روزہ کا وقت شروع ہونے سے روزہ میں فساد نہیں آتا

(مستفاد: کتاب النوازل، جلدنمبر: ۶، صفحہ نمبر: ۳۷۲)

سحری کے بعد بیوی سے ہمبستری کرنا: 

سحری کھانے کے بعد اگر صبح صادق ہونے میں دیر ہے، تو بیوی سے ہمبستری کرنا درست ہے، البتہ صبح صادق سے پہلے پہلے ہمبستری سے فارغ ہونا ضروری ہے، ورنہ صبح صادق کے بعد ہمبستری میں مشغول ہونے کی صورت میں قضا اور کفارہ دونوں لازم ہوں گے۔

(روزے کے مسائل کا انسائیکلوپیڈیا، صفحہ نمبر :۱۱۹)

سحری میں حد سے زیادہ تاخیر کرنا اس گمان سے کہ ابھی وقت باقی ہے:

سحری میں اس گمان سے تاخیر کی کہ ابھی رات باقی ہے؛ لیکن بعد میں معلوم ہوا کہ صبح صادق ہونے کے بعد سحری کی ہے، تو روزہ نہیں ہوگا، قضا ضروری ہے، کفارہ نہیں اور اس دن غروب آفتاب تک کھانے پینے کی بھی اجازت نہیں ہوگی۔

(روزے کے مسائل کا انسائیکلوپیڈیا، صفحہ نمبر: ۱۱۷)

اذان تک سحری کھانے والے کا حکم:

یاد رہے کہ صبح صادق ہونے کے بعد اذان دی جاتی ہے، اس لیے اذان تک سحری کرنے والے لوگوں کا روزہ نہیں ہوگا، البتہ نقشہ دیکھ کر سحری کے وقت کے اندر اندر کھانا، پینا بند کردینا ضروری ہے، ورنہ سحری کا وقت ختم ہونے کے بعد صبح صادق کے بعد کھانے پینے سے روزہ نہیں ہوگا، قضا لازم ہوگی اور کفارہ نہیں، پھر بھی غروب آفتاب تک روزہ داروں کے مانند رہنا ضروری ہوگا، کھانے پینے کی اجازت نہیں ہوگی۔

بعینہ یہی حکم ہے سحری کا وقت ختم ہونے کے بعد سحری کھانے والوں کا۔

(روزے کے مسائل انسائیکلوپیڈیا، صفحہ نمبر: ۱۱۷۔۱۱۸)


Post a Comment

Previous Post Next Post