سحری کا بیان
سحری کھانا ایک سنت عمل ہے، جس میں اللہ تبارک وتعالی کی جانب سے برکتیں، رحمتیں اور عنایتیں رکھی گئیں ہیں، یہی وجہ ہے آپ ﷺ خود بھی سحری کھانے کو پسند فرماتے تھے اور امت کو بھی اس کی بڑی تاکید فرمائی ہے، جس کا ذکر احادیث مبارکہ میں بکثرت ملتا ہے۔
سب سے بڑی بات یہ ہے کہ اللہ رب العزت نے صریح آیت کے ذریعہ اس کے احکام کو بیان فرمایا ہے : ’’ وَکُلُوْا وَاشْرَبُوْا حَتّٰی یَتَبَیَّنَ لَکُمُ الْخَیْطُ الْاَبْیَضُ مِنَ الْخَیْطِ الْاَسْوَدِ مِنَ الْفَجْرِ ثُمَّ اَتِمُّوا الصِّیَامَ اِلَی الَّیْلِ‘‘ اور کھاتے پیتے رہا کرو، یہاں تک کہ تم پر صبح کا سفید ڈورا (رات کے) سیاہ ڈورے سے (الگ ہو کر) نمایاں ہو جائے، پھر روزہ رات (کی آمد) تک پورا کرو۔
(سورہ بقرہ، آیت نمبر: ۱۸۷)
مذکورہ بالاآیت میں جن چیزوں کا ذکر کیا گیا ہے، وہ اسلام سے پہلے اور ابتدائے اسلام میں حرام تھی ، جیساکہ کتبِ احادیث اور تفاسیر کی کتابوںمیں مذکور ہ ہیں کہ جب رمضان کے روزے فرض کیے گیے، تو افطاری کے بعد کھانے، پینے اور بیویوں کے ساتھ اختلاط کی صرف اس وقت تک اجازت تھی، جب تک سو نہ جائے، سو جانے کے بعد یہ سب چیزیں حرام ہو جاتی تھیں، بعض صحابہ کرامؓ کو اس میں مشکلات پیش آئیں، جیسا کہ قیس بن صرمہ انصاریؓ کا واقعہ ہے، اسی طرح بعض صحابہ کرامؓ سونے کے بعد اپنی بیویوں کے ساتھ اختلاط میں مبتلا ہوکر پریشان ہوئے، ان واقعات کے بعد یہ آیت نازل ہوئی، جس میں پہلا حکم منسوخ کرکے غروب آفتاب کے بعد سے طلوع صبح صادق تک پوری رات میں کھانے، پینے اور مباشرت کی اجازت دے دی گئی، اگرچہ سوکر اٹھنے کے بعد ہو ؛ بلکہ سوکر اٹھنے کے بعد آخری شب میں سحری کھانا، پیناسنت و مستحب قرار دیا گیا، جس کا ذکر روایات میں واضح ہے۔
(ملخص: معارف القرآن، ج: ۱، ص:۴۵۳، از مفتی شفیع عثمانی صاحبؒ)
نبی پاک ﷺ کا فرمان ہے کہ اہل کتاب اور مسلمانوں کے درمیان سحری کھانے کا ہی فرق ہے : ’’فَصْلُ مَا بَيْنَ صِيَامِنَا وَصِيَامِ أَهْلِ الْکِتَابِ، أَکْلَةُ السَّحَرِ‘‘ ہمارے اور اہل کتاب کے روزوں میں سحری کھانے کا فرق ہے۔
(مسلم شریف، کتاب الصيام، رقم الحدیث: ۲۵۲۰)
کافروں کا تصور یہ ہے کہ روزہ خود کو تکلیف دینے کے لیے ہے جبکہ مسلمانوں کا تصور یہ ہے کہ روزہ حکم بجا لانے کی عادت ڈالنے کے لیے ہے ، ہم فرمانبرداری کے ذریعے اللہ کا تقرب چاہتے ہیں اور وہ خدا کا قرب حاصل کرنے کے لیے ایسی ایسی تکلیفیں اٹھاتے ہیں ،جن کے اٹھانے کا اللہ نے حکم نہیں دیا ہے ۔
دوسری جگہ ارشاد ہے کہ سحری ایک بابرکت کھانا ہے: ’’تَسَحَّرُوْا فَإِنَّ فِی السَّحُوْرِ بَرَکَةً‘‘ سحری کھایا کرو، کیونکہ سحری میں برکت ہے۔
(بخاری شریف ، کتاب الصوم، رقم الحدیث:۱۹۲۳ )
ایک اور جگہ نبی پاک ﷺ کا ارشاد ہے: ’’اَلسُّحُوْرُ أَکْلُهُ بَرَکَةٌ فَلَا تَدْعُوْهُ ، وَ لَوْ اَنْ یَجْرَعَ اَحَدُکُمْ جُرْعَۃً مِنْ مَّائٍ‘‘ سحری کھانا سراپا برکت ہے ؛ لہذا اسے ترک نہ کیا کرو، اگرچہ پانی کا ایک گھونٹ ہی پی لو۔( لیکن ضرور پیو)
(مسند احمد بن حنبل ؒ، رقم الحدیث: ۱۱۱۰۲)
سحری کھانے کا یہ حکم استحباب کے درجہ میں ہے ، اس لیے سحری کھانا مستحب ہے اور برکت سے مراد حدیث میں یہ ہے کہ سحری کھانے میں سنت پر عمل کرنے کے سبب اجر عظیم ملتا ہے۔
ایک مقام پر حضرت عرباض بن ساریہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: ’’دَعَانِي رَسُوْلُ ﷲِ صلی الله علیه وآله وسلم إِلَی السَّحُوْرِ فِي رَمَضَانَ، فَقَالَ: هَلُمَّ إِلَی الْغَدَائِ الْمُبَارَکِ‘‘ رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے مجھے رمضان میں سحری کھانے کے لئے بلایا، تو فرمایا: صبح کے مبارک کھانے کی طرف آؤ۔
( أبو داودشریف ، کتاب الصوم ، رقم الحدیث: ۲۳۴۴)
روحانی فیوض و برکات اور دینی فوائد کے ساتھ ساتھ دنیوی فوائد بھی بے شمار ہیں:
علامہ ابن حجر عسقلانی ؒ نے سحری کی کئی برکات ذکر کی ہیں:
(۱) اتباع سنت کا اجر و ثواب ملتا ہے؛ کیوں کہ نبی کریم ﷺ نے اپنے قول و عمل سے اس کی تعلیم و ترغیب دی ہے۔
(۲) سحری کھانے سے روزہ رکھنے پر طاقت و قوت اور نشاط حاصل ہوتا ہے۔
(۳) شب بیداری کی نعمت حاصل ہوتی ہے، جس سے رات کے آخری پہر ذکر اور دعا و غیرہ کی دولت نصیب ہوتی ہے۔
(۴) حدیث کے مطابق سحری کھا کر یہود و نصاریٰ کی مخالفت کا حکم دیا گیا ہے ، سحری کھانے سے اس حکم پر عمل پیرا ہوتا ہے ۔
(۵) روزے کی حالت میں عبادت پر طاقت و قوت حاصل ہوتی ہے۔
(۶) روزے کی حالت میں بھوک پیاس کی شدت کی وجہ سے جو بداخلاقی پیدا ہوتی ہے، اس کا ازالہ ہوجاتا ہے
(۷)اس قیمتی وقت میں کوئی مستحق مل جائے، تو اسے سحری کھلاکر صدقہ کا عظیم ثواب حاصل ہوتا ہے۔
(فتح الباری : ۴؍ ۱۴۰)
