https://tagassistant.google.com/#/?url=https%3A%2F%2Fguldastakafi.blogspot.com%2F رؤیت ہلال کے مسائل حصہ دوم: کوئز نمبر نو (۹) کا مضمون

رؤیت ہلال کے مسائل حصہ دوم: کوئز نمبر نو (۹) کا مضمون

  


رؤیت ہلال کے مسائل حصہ دوم

چاند کی گواہی دیگر مہینوں میں مطلع صاف ہونے کی صورت میں:

اگر مطلع صاف ہو، تو اس وقت چاند کا ثبوت نہ ہوگا، جب تک کہ ایک بڑی معتدبہ جماعت چاند نہ دیکھ لے، ایسی صورت میں اگر دو ایک آدمی گواہی دیں، تو ان کی گواہی معتبر نہ ہوگی۔

(تحفہ رمضان، صحفہ نمبر: ۴۱)

رمضان یا دیگر مہینوں میں چاند کی گواہی جب مطلع صاف نہ ہو: 

اگر مطلع ابر آلود یا غبار آمیز ہو، تو رمضان کے چاند کے لیے ایک عادل شخص اور دیگر مہینوں کےچاند کے لیے دو عادل شخص کی گواہی معتبر ہوگی۔

(تحفہ رمضان، صحفہ نمبر: ۴۱)

اختلاف مطالع کہاں معتبر ہے اور کہاں معتبر نہیں ہے:

مفتی بہ قول کے مطابق چاند کے مطالع کا اختلاف وہاں معتبر نہیں ہے، جہاں چاند نہ دیکھا گیا ہو اور اس کی (چاند دیکھنے کی) خبرکو مان لینے سے مہینہ ۲۸؍ دن کا لازم نہ آتا ہو، تو اس خبر کا شرعاً اعتبار کیا جائے گا ، مثلاً اگر کسی جگہ چاند دیکھا جائے اور اس کی اطلاع شرعی ثبوت کے ساتھ کسی ایسی جگہ پہنچے، جہاں چاند نہ دیکھا گیا ہو اور وہاں اس خبر کو مان لینے سے مہینہ ۲۸؍ دن کا لازم نہ آتا ہو، تو اس خبر کا شرعاً اعتبار کیا جائے گا اور یہ کہہ کر خبر رد نہیں کی جائے گی کہ دوسرے شہر کا مطلع اس شہر سے جدا گانہ (الگ) ہے۔

البتہ اتنی دور سے چاند کی خبر آئے کہ وہاں کی رؤیت تسلیم کرنے سے اپنے یہاں مہینہ ۲۸؍ دن کا رہ جاتا ہے،تو ایسی خبر کو تسلیم نہیں کی جائے گی، مثلاً سعودی عرب میں چاند کے ثبوت کا فیصلہ ہو جائے اور ابھی بر صغیر (ہند و پاک )میں مہینہ کے دن ۲۸؍ دن ہی ہوتے ہوں، تو سعودی عرب کی خبر یہاں تسلیم نہیں کی جائے گی، اگرچہ کتنے ہی باوثوق ذرائع سے خبر آئی ہو۔

(ملخص: تحفہ رمضان، صفحہ نمبر: ۴۰)

ہندوستان کے مختلف صوبوں میں اختلاف مطالع معتبر ہے یا نہیں:

ہندوستان کے کسی بھی صوبہ میں اگر معتبر طریقہ سے چاند کا ثبوت ہو جائے، تو اگرچہ اپنے یہاں چاند نہ دیکھا گیا ہو، پھر بھی اس معتبر خبر پر قاضی یا ہلال کمیٹی چاند کا فیصلہ کر سکتی ہے، ہندوستان کے سبھی صوبوں کا مطلع ایک ہی ہے، مطلع کی تبدیلی کا حکم اس وقت لگتا ہے ، جب کہ وہاں کی رویت مان لینے سے اپنے یہاں ۲۸ یا ۳۱ ؍دن کا مہینہ لازم آجاتا ہو، اگر یہ بات لازم نہ آتی ہو، تو حکماً مطلع ایک ہی سمجھا جائے گا،اس کو حضرات فقہاء نے بلادِ قریبہ اور بلادِ بعیدہ سے تعبیر فرمایا ہے، یعنی بلادِ قریبہ میں اختلاف مطالع معتبر نہیں ہے اور بلادِ بعیدہ میں معتبر ہے۔

(کتاب النوازل، جلد نمبر: ۶، صفحہ نمبر: ۲۹۲)

رؤیت ہلال میں ریڈیو، ٹیلی ویژن، فون، فیکس وغیرہ کی خبر کا حکم:

جب کسی جگہ رؤیت عام یا معتبر شہادتوں سے حاکم شرعی یا معتبر مفتی یا ہلال کمیٹی چاند کا فیصلہ کردے اور فیصلہ کی خبر ٹیلی ویژن ، موبائل و فون، فیکس یا ریڈیو وغیرہ کے ذریعہ دوسری جگہ اس طرح پہنچے کہ اس کی صحت پر کامل یقین ہو جائے، تو اس طرح کی ناقابل تردید خبروں کا شرعاً اعتبار کیا جائے گا اور ان پر عمل کرنا لازم ہوگا ، آج کل مواصلاتی ذرائع عام ہونے کی بنا پر خبرِ مستفیض (جو ناقابل تردید ہو) کا حصول آسان ہے، ہر جگہ کے علماء و مفتیان کو نفسانیت سے اوپر اٹھ کر استفاضہ کا اعتبار کر کے چاند کے فیصلے کرنے چاہیے۔

(کتاب النوازَ، جلد نمبر: ۶، صفحہ نمبر: ۲۸۴)

چاند کے ثبوت کے لیےماہرین فلکیات کا قول معتبر نہیں ہے:

چاند کے ثبوت کے لیےماہرین فلکیات کا قول اور فلکیاتی حساب کو شرعاً معیار نہیں بنایا جاسکتا ؛ بلکہ چاند کے ثبوت کا مدار رؤیت ہلال (آنکھوں سے دیکھنے) پر ہے، اگر مطلع ابر آلود ہو، تو چند افراد کی شہادت معتبر مانی جاتی ہے، لیکن اگر مطلع صاف ہو، تو جم غفیر کا دیکھنا شرط ہے، فلکیاتی حساب سے یقینی علم حاصل نہیں ہوتا ، بلکہ وہ محض تخمینی چیز ہے؛ لہذا جس دن حساب کی رو سے چاند ہونے کا امکان نہ ہو اور اس دن چاند کی گواہی قاضی( یا اس کے قائم مقام) کے سامنے پیش کی جائے، تو قاضی پر لازم ہے کہ وہ اس گواہی پر مضبوط انداز میں جرح کرے، تاکہ گواہی کے خلاف واقعہ ہونے کا امکان نہ رہے، اس کے بعد ہی چاند کے بارے میں فیصلہ کا اعلان کیا جائے ۔

(کتاب النوازل، جلد نمبر: ۶، صفحہ نمبر: ۳۰۳، تحفہ رمضان صحفہ نمبر: ۳۸)

دوربین سے چاند دیکھنے کا حکم:

دور بین اور خورد بین سے بھی چاند دیکھنا شرعاً معتبر ہے۔ 

(تحفہ رمضان، صفحہ نمبر: ۳۹)

چاند دیکھنے والے کی گواہی رد ہوجائے، تو وہ کیا کرے؟

جس شخص نے رمضان کا چاند دیکھا، لیکن کسی وجہ سے اس گواہی رد کردی گئی اور عام لوگوں نے روزہ رکھنا شروع نہیں کیا، تو چاند دیکھنے والے پر روزہ رکھنا ضروری ہے، لیکن اگر یہی صورت عید کے چاند میں وپیش آئے، تو وہ روزہ نہیں چھوڑے گا، خواہ اس کے روزے اکتیس دن ہو جائے۔

(تحفہ رمضان، صفحہ نمبر: ۴۲)

رمضان میں سعودیہ سے ہندوستان آنے والاشخص روزہ کب تک رکھے؟

کوئی شخص رمضان میں سعودی عرب سے یا اس کے مماثل دوسرے ملک سے مثلاً ہندوستان آئے اور یہاں اس شخص (آنے والا) کے تیس ۳۰؍ روزے پورے ہو جائیں، تو وہ اس وقت تک روزہ رکھنا نہیں چھوڑے گا، جب تک کہ ہندوستان میں عید کا چاند نظر نہ آ جائے، چاہے اس ۳۱ یا ۳۲؍ روزے رکھنے پڑیں۔

(تحفہ رمضان، صفحہ نمبر: ۴۵)

رمضان میں ہندوستان سے سعودیہ جانے والے کے روزوں کا حکم: 

اگر کوئی شخص رمضان شروع ہونے کے بعد مثلاً ہندوستان یا اس کے مماثل ملکوں سے سعودی عرب چلا جائے اور وہاں اس کے ۲۸؍ روزے ہونے کے بعد ہی عید کا چاند نظر آ جائے، تو وہ عید میں شریک ہوگا اور عید کے بعد ایک روزہ قضا کرے گا، کیوں کہ کسی بھی صورت میں شرعاً مہینہ ۲۹؍ دن سے کم کا نہیں ہونا چاہیے ، احتیاط کا تقاضا یہی ہے۔


Post a Comment

Previous Post Next Post