https://tagassistant.google.com/#/?url=https%3A%2F%2Fguldastakafi.blogspot.com%2F رؤیت ہلال کے مسائل حصہ اول، کوئز نمر آٹھ (۸) کا مضمون

رؤیت ہلال کے مسائل حصہ اول، کوئز نمر آٹھ (۸) کا مضمون

 

رؤیت ہلال کے مسائل حصہ اول

ایک اہم اصول : 

چاند کے معاملہ میں جب اختلاف ہو جائے، تو اصول یہ ہے کہ حکم حاکم رافع اختلاف ہے (یعنی ملک کا با شرع مسلم بادشاہ یا امیر یا نائب امیر کا فیصلہ اس اختلاف کو دور کرنے کے لیے کافی ہے) چوں کہ ہندوستان میں حاکم شرعی نہیں ہے ، اس لیے چاند کے معاملہ میں مقامی و علاقائی رؤیت ہلال کمیٹیاں حاکم کا درجہ رکھتی ہیں؛ لہذا اگر یہ کمیٹیاں تحقیق و شرح صدر کے بعد چاند کے ہونے یا نہ ہونے کے بارے میں کوئی فیصلہ کریں، تو ان کی تعمیل ان کے حلقہ اثر میں ضروری ہوگی، ہر کس و ناکس کو یہ اختیار نہیں ہے کہ وہ اپنی بات دوسرے کو منوانے پر مجبور کرے۔

(ملخص جواب: کتاب النوازل، جلد: ۶، صفحہ: ۲۷۵)

ثبوت رؤیت کے لیے شرعی تصدیقات کی تفصیل:

اگر کسی جگہ رؤیت عامہ نہ ہو سکے، تو چاند کے ثبوت کے لیے شرعی تصدیق کے کے طور پر درج ذیل ذرائع میں سے کوئی ایک کے ذریعہ بھی متحقق ہو جائے، تو شرعاً چاند کا ثبوت مانا جائے گا:

(۱) شہادت علی الرؤیہ: جس کا مطلب یہ ہے کہ چاند دیکھنے والے دو عادل شخص خود قاضی یا ہلال کمیٹی کے سامنے چاند دیکھنے کی گواہی دیں۔

(۲) شہادت علی الشہادۃ الرؤیہ: یعنی چاند دیکھنے والے خود تو حاضر نہ ہوں، لیکن ان میں سے ہر ایک کی گواہی پر دو عادل شخص گواہی دیں، مثلا کہیں کہ ہمارے سامنے فلاں فلاں شخص نے چاند کی گواہی دی ہے۔

(۳) شہادت علی القضا: یعنی کسی جگہ قاضی یا کمیٹی شرعی ثبوت حاصل ہونے کی وجہ سے چاند کا فیصلہ کر دے، پھر اپنے فیصلہ کو دو گواہوں کے سامنے مہر بند کر کے دوسرے شہر کی کمیٹی یا قاضی کو بھیج دے۔

(۴) استفاضہ: یعنی کسی جگہ سے چاند کی خبر یا قاضی کے فیصلہ کے بعد اس کی خبر دوسرے شہر تک اس تواتر سے پہنچے کہ اس سے چاند کے ثبوت کا غلبۂ ظن ہو جائے۔

(کتاب النوازل، جلد: ۶، صفحہ : ۲۷۷)

مطلع صاف ہو، تو ہلال رمضان کا فیصلہ مندرجہ ذیل صورتوں میں کسی ایک پر ہوگا:

’’الف: اتنے مسلمان خوداپنی آنکھوں سے چاند دیکھنا بیان کریں کہ فیصلہ کرنے والوں (یعنی ہلال کمیٹی کے ارکان اور جہاں کمیٹی نہ ہو تو شہر کا مفتی یا قاضی فیصلہ کیا کرتا ہو، وہاں کے مفتی یا قاضی )کو چاند ہو جانے کا اطمینان ہو جائے۔

ب: ایک قابل اعتماد بالغ مسلمان (مرد یا عورت) شہر کے باہر یا کسی بلند مقام سے آکر شہادت دے ، جس پر طلوع ہلال کااطمینان ہو جائے۔

ج: کسی دوسری جگہ پر چاند ہونے کی اطلاع وہاں سے اتنے مسلمان آکر دیں کہ استفاضہ کی صورت پیدا ہو جائے اور یہ اطمینان ہو جائے کہ خبر صحیح ہے۔‘‘

( تحفہ رمضان صفحہ: ۴۸)

مطلع اگر صاف نہ ہو، تو ذیل کی صورتوں میں سے کسی ایک پر رمضان کے چاند کا فیصلہ کردیا جائے گا:

’’الف: ایک بالغ قابلِ اعتماد مسلمان (مرد یا عورت) کا بیان کہ میں نے چاند دیکھا ہے ۔

ب: یا کم از کم دو قابل اعتماد مسلمان مرد یا ایک مرد اور دو دین دار عورتیں جو کسی دوسرے مقام سے آئے ہوں، شہادت دیں کہ وہاں کی ہلال کمیٹی یا مفتی شہر یا قاضی (جو وہاں رؤیت ہلال کا فیصلہ کیا کرتا ہے) باضابطہ شہادت لے کر رؤیت ہلال کا فیصلہ کیا ہے۔

ج: ایک قابل اعتماد مسلمان شہادت دے کہ فلاں شخص نے جو قابل اعتماد ہے، چاند دیکھا ہے، وہ خود آنے سے معذور ہے، اس نے میرے سامنے شہادت دی ہے کہ میں نے چاند دیکھا ہے اور مجھے گواہ بنا کر بھیجا ہے کہ میں اس کی شہادت کی گواہی دوں۔

د: کل ہند رؤیت ہلال کمیٹی کا ریڈیو پر اعلان کرنا کہ رؤیت عام یا باقاعدہ شہادت کی بنا پر چاند ہونے کا فیصلہ کر دیا گیا ہے۔

س: خاص ٹیلی فون یا سیل فون (موبائل) یا لائنڈنگ کال کے ذریعہ کوئی معتبر مسلمان کمیٹی کے فیصلہ کی اطلاع دے ، جب کہ اس کی آواز پہچان لی جائےاور کم از کم ایک ٹیلی فون پر کسی معتبر مسلمان سے اس کی تصدیق بھی کر لی جائے یا دیگر قرائن سے اس کے صحیح ہونے پر اطمینان ہوجائے۔

ص: ریڈیو کے ذریعہ کسی مقام پر چاند ہونے کی اطلاع بشرطیکہ ٹیلی فون کے ذریعہ کمیٹی کے صدر یا اس مقام کے کسی معتبر شخص سے اس کی تصدیق کر لی جائے۔

ط: متعدد ریڈیو اسٹیشن متعدد مقامات پر چاند ہونے کی اطلاع نشر کریں اور ہلال کمیٹی ان پر مطمئن ہوجائے 

ع: کسی ایک مقام یا متعدد مقامات سے اتنے خطوط یا ٹیلی فون آجائیں کہ استفاضہ کی صورت پیدا ہو جائے، جس سے چاند دیکھنے کا ظن غالب حاصل ہو جائے۔

ف: وہ معتمد مسلمان جس کو کسی جگہ کے فیصلہ کی تحقیق کے لیے بھیجا تھا، وہ واپس آکر چاند ہونے کے فیصلہ کی خبر دے۔

ق: کسی مقام کی ہلال کمیٹی کے صدر یا مفتی یا قاضی شہر (جس نے فیصلہ کیا ہے) کا مکتوب جو مقامی کمیٹی کے صدر (یا فیصلہ کرنے والے مفتی یا قاضی شہر )کے نام ہو اور اس کو یقین ہو جائے ۔

(تحفہ رمضان صفحہ نمبر: ۴۸۔۵۰)


Post a Comment

Previous Post Next Post