https://tagassistant.google.com/#/?url=https%3A%2F%2Fguldastakafi.blogspot.com%2F کوئز نمبر سات (۷) کا مضمون: رویت ہلال کا بیان

کوئز نمبر سات (۷) کا مضمون: رویت ہلال کا بیان

رویت ہلال کا بیان 

جیسا کہ معلوم ہو چکا ہے کہ اسلامی تقویم کی بنیاد چاند کی گردش پر ہے،اس لیے چاند کی حالت کو معلوم کرنا یا معلوم کرنے کی کوشش کرنا نہایت ضروری ہے، اس سلسلے میں انسان یا تو بذات خود دیکھے گا یا کہیں سے خبر موصول ہوگی، دونوں کا اعتبار دیکھنے پر ہی موقوف ہے۔

اسی عمل کو مروجہ طریقے میں ’’ رویت ہلال‘‘سے تعبیر کیا جاتا ہے۔ ’’رویت‘‘ کے لغوی معنی دیکھنا، نظارہ کرنا، دیدار کرنا، جاننا اور علم میں آنا کے ہیں۔

 ’’ہلال‘‘پہلی رات کے چاند کو کہتے ہیں، ’’بدر‘‘ چودہویں رات کے چاند کو کہتے ہیں، جبکہ ’’قمر ‘‘ پورے مہینے کے چاند کو کہا جاتا ہے، اس اعتبار سے پہلی رات کے چاند کو دیکھنے کا جو عمل ہے ،اسی کو ’’ رویت ہلال‘‘ کہا جاتا ہے اور یہ اس لیے ہے کہ اسلامی تاریخ کا اعلان اسی کے مطابق کیا جاسکے۔

’’رویت ہلال‘‘ کے مسئلہ کو سمجھنے کے لیے "مطلع‘‘ سے واقفیت بھی اہم ہے، "مطلع" سورج یا چاند کے نکلنے کی جگہ کو کہتے ہیں، چوں کہ چاند یا سورج آسمان میں ہی نکلتے ہیں، اس وجہ آسمان کو بھی ’’مطلع‘‘ کہہ دیا جاتا ہے یا یوں سمجھیے کہ آسمان میں بادل ہے یا نہیں ہے اس کیفیت کو بھی مطلع کہتے ہیں اور اس کی جمع ’’ مطالع‘‘ آتی ہے ۔

چاند کے اوپر حکم لگانے میں ’’مطلع‘‘ کا اہم کردار ہے ، چوں کہ چاند ہر دن الگ الگ مدار(جگہ) میں رہتا ہے یعنی آج ایک مدار میں ہے ، تو کل دوسرے مدار میں رہےگا، پرسو کسی اور مدار میں رہے گا ، اس لیے ہر دن کے رویت کو الگ الگ شمار کیا جاتا ہے اور کبھی کبھی جو اختلاف ہوجاتا ہے، وہ اسی کی وجہ سے ہوتا ہے یعنی اختلاف مطالع اور عدم مطالع کے اعتبار سے مسئلہ مختلف ہو جاتا ہے۔

’’اس سلسلہ میں حنفیہ کے نزدیک راجح اور صحیح قول یہی ہے کہ قریبی ملکوں اور شہروں میں جو ایک دوسرے سے ملے ہوئے ہوں ، اختلاف مطالع کا اعتبار نہیں ہے؛ بلکہ ایک مقام پر نظر آنے والاچاند دوسرے قریبی شہروں اور پڑوسی ملک کے لیے بھی حجت ہے ، البتہ اگر ایک ملک دوسرے ملک سے کافی فاصلے پر واقع ہے، تو اس صورت میں اختلاف مطالع کا اعتبار ہوگا ، یعنی اس ملک کے لیے الگ رویت ہوگی اور دوسرے ملک کے لیے الگ رویت ہوگی ، جس دن جس ملک میں چاند نظر آئے ، وہاں کے باشندے کو چاہیے کہ اپنے ملک کے چاند کا اعتبار کرکے روزہ اور عیدین کریں۔‘‘

(ملخص: فتوی جامعہ بنوری ٹاؤن ، فتوی نمبر: ۱۴۴۰۱۲۲۰۰۴۵۶)

اللہ تبارک وتعالی کا ارشاد ہے کہ ’’ فَمَنۡ شَهِدَ مِنۡكُمُ الشَّهۡرَ فَلۡيَـصُمۡهُ‘‘ سو تم میں سے جو شخص اس مہینہ(رمضان المبار) میں موجود ہو، وہ ضروربالضرور اس ماہ کے روزے رکھے۔

(سورہ بقرہ آیت نمبر: ۱۸۵)

ایک حدیث شریف ہے:’’عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، ‏‏‏‏‏‏أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ الشَّهْرُ تِسْعٌ وَعِشْرُونَ لَيْلَةً، ‏‏‏‏‏‏فَلَا تَصُومُوا حَتَّى تَرَوْهُ، ‏‏‏‏‏‏فَإِنْ غُمَّ عَلَيْكُمْ فَأَكْمِلُوا الْعِدَّةَ ثَلَاثِينَ‘‘ حضرت عبداللہ بن عمر (رض) نے بیان کیا کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا: مہینہ کبھی انتیس راتوں کا بھی ہوتا ہے اس لیے (انتیس پورے ہوجانے پر) جب تک چاند نہ دیکھ لو، روزہ نہ شروع کرو اور اگر بادل ہوجائے تو تیس دن کا شمار پورا کرلو۔

(صحیح بخاری،حدیث نمبر ۱۹۰۷)

چاند کی تلاش : 

ماہ شعبان کی ۲۹ ؍ تاریخ کو غروب شمس کے وقت رمضان کا چاند تلاش کرنا ضروری ہے، اگر نظر آجائے ،تو فبہا، ورنہ ۳۰؍ کا عدد پورا کر کے روزہ رکھا جائے گا۔

(تحفۂ رمضان : صحفہ نمبر ۳۸)

Post a Comment

Previous Post Next Post