https://tagassistant.google.com/#/?url=https%3A%2F%2Fguldastakafi.blogspot.com%2F کوئز نمبر چھ (۶) کا مضمون: چاند کا بیان

کوئز نمبر چھ (۶) کا مضمون: چاند کا بیان

چاند کا بیان 

  تاریخ محفوظ رکھنے، واقعات کو مرتب کرنے، بہت سارے شرعی مسائل کےاحکام معلوم کرنے کے لیے،زندگی سے جڑی دیگر ضروریات کو دوام بخشنے کے لیےاور شب و روز کے معمولات کو صحیح اور مناسب انداز میںتقسیم کرنے کے لیے بزبان عربی: تقویم ، اردو: نظام الاوقات، ہندی: جنتری اور انگریزی: کیلنڈر کا ہونا نہایت ضروری اور ناگیزیر ہے۔

اسلامی تقویم (اسلامی کیلنڈر) جسے ہجری تقویم، قمری تقویم بھی کہا جاتا ہے، اسلامی سال کے مہینوں کی ابتدا اور انتہا چوں کہ چاند پر موقوف ہے اور عربی میںچاند کو’’ قمر ‘‘کہا جاتا ہے، اس لحاظ اسے قمری تقویم (قمری کیلنڈر ) نام سے یاد کیا جاتا ہے اور عہد فاروقی میں اس کو باضابطہ منظم شکل میں ڈھال کر اس کی ابتدا کی بنیاد یعنی نقطۂ آغاز آپﷺ اور آپ کے اصحاب ؓ کی ہجرت پر رکھی گئی ، اسی اعتبار سے یہ ہجری تقویم سے بھی موسوم ہوتا ہے۔

قمری مہینوں کی ترتیب اور ان کے اسما، جو اسلام میں معروف و مشہور ہیں، یہ انسانوں کی بنائی ہوئی اصطلاح نہیںہے؛ بلکہ یہ قرآنی نام اور ترتیب ہے، جیساکہ باری تعالی کا ارشاد ہے: ’’إِنَّ عِدَّةَ ٱلشُّهُورِ عِندَ ٱللَّهِ ٱثْنَا عَشَرَ شَهْرًا فِى كِتَٰبِ ٱللَّهِ يَوْمَ خَلَقَ ٱلسَّمَٰوَٰتِ وَٱلْأَرْضَ مِنْهَآ أَرْبَعَةٌ حُرُمٌ ۚ ذَٰلِكَ ٱلدِّينُ ٱلْقَيِّمُ‘‘ بیشک اللہ کے نزدیک مہینوں کی تعداد، اللہ کی کتاب میں بارہ مہینہ ہے،(اور یہ اسی دن سے ہے) جس دن سے اللہ تعالی نے آسمانوں اور زمینوں کو پیدا کیا۔ ان میں سے چار مہینے حرمت والے ہیں یہی دین مستقیم ہے۔

(سورہ توبہ آیت نمبر: ۳۶)

مذکورہ بالاآیت مبارکہ سے تو یہ پتہ چلتا ہے کہ مہینوں کی تعداد بارہ ؛ لیکن یہ متعین نہیں ہوتا کہ اس کا شماراور مہینوں کی ابتدا چاند سے ہی ہوگی، اس لیے کہ سال کے مہینوں کی تعداد تو شمسی کیلنڈر، نجومی کیلنڈر کے یہاں بھی بارہ ہی ہے ، اس لیے مذکورہ بالاآیت میں یہ سال بھی تو مراد ہو سکتا ہے۔

دوسری آیت ملاحظہ فرمائیں: ’’هُوَ الَّذِیْ جَعَلَ الشَّمْسَ ضِیَآءً وَّ الْقَمَرَ نُوْرًا وَّ قَدَّرَهٗ مَنَازِلَ لِتَعْلَمُوْا عَدَدَ السِّنِیْنَ وَ الْحِسَابَ‘‘ وہی ہے جس نے سورج کو روشنی اور چاند کونور بنایا اور چاندکے لیے منزلیں مقرر کردیں تاکہ تم سالوں کی گنتی اور حساب جان لو۔

(سورہ یونس آیت نمبر :۵)

 جواب دیا جائے گا کہ یہ بالکل بھی نہیں ہو سکتا ، اس لیےمندرجہ آیت میں آگے بیان کیا ہے: ’’ مِنْهَآ أَرْبَعَةٌ حُرُمٌ ۚ ‘‘جو اسلامی مہینوں کی خصوصیت ہے ،اس لیے اس کی کوئی گنجائش ہی نہیں ہے۔ دوسری بات یہ کہ چاند اپنا دورہ ہر مہینہ میں پورا کر لیتا ہے ، اس اعتبار سے چاند کے حالات ہر روز مختلف ہوتے ہیں، آخر ماہ میں بالکل نظر نہیں آتا ، چودہویں کی رات کو پورا پورا نظر آتا ہے اور پہلی رات کو ہلکا ہلکا ، اس تغیرات کے مشاہدہ سے بے علم لوگ بھی تاریخوں کا پتہ چلا سکتے ہیں، جبکہ سورج کا دورہ سال میں ایک مرتبہ پورا ہوتا ، اس لیے سال کے پورے مہینے ایک طرز پر رہتے ہیں، اس وجہ سے شمسی تاریخ کی پہچان بغیر آلات و اسباب کے ممکن نہیں ہے ۔

تیسری بات یہ مذکورہ بالاآیت ’’ قدرہ منازل‘‘ میں’’ہ‘‘ ضمیر واحد کا لایا ہے ، جو راجع ہے ’’قمر ‘‘ کی طرف اور یہ مندرجہ بالابیان کردہ تخصیص کی وجہ سے ہے ۔

(معارف القرآن ، جلد چہارم، صفحہ ۵۰۶ از: مفتی شفیع عثمانی علیہ الرحمہ)

بہر کیف ہجری کیلنڈر کا اسلام اور مسلمانوں سے بڑا گہرا تعلق ہے اور اسلام کا بہت سارا نظام اسی پر موقوف ہے ، جیسا کہ روزہ، حج، زکوۃ اور عیدین وغیرہ 

بیان القرآن میں حکیم الامت حضرت مولانا اشرف علی تھانوی صاحب رحمۃ اللہ رقم طراز ہیں: ’’ البتہ چوں کہ احکام شرعیہ کا مدار حساب قمری پر ہے، اس لیے اس کی حفاظت ’’ فرض علی الکفایہ‘‘ ہے، پس اگر ساری امت دوسری اصطلاح کو اپنا معقول بنالے، جس سے حساب قمری ضائع ہو جائے، تو سب گہنگار ہوں گے اور اگر وہ محفوظ رہے ، تو دوسرے حساب کا استعمال بھی مباح ہے؛ لیکن خلافِ سنتِ سلف ضرور ہے اور حسابِ قمری کا برتنا بوجہ اس کے فرض کفایہ ہونے کے لابد افضل و احسن ہے۔‘‘

(بیان القرآن )

حضرت مفتی شفیع عثمانی رحمۃ اللہ علیہ ’’ اِنَّمَا النَّسِیْٓءُ زِیَادَةٌ فِی الْكُفْرِ‘‘ کے ذیل میں رقم طراز ہیں: ’’قمری مہینوں کی جو ترتیب اسلام میں معروف ہے، وہ رب العالمین کے ترتیب کردہ ہیں، جس میں خاص مہینوں کے مخصوص احکام نازل فرمائے ہیں، اس سے یہ بات معلوم ہوتی ہے کہ اللہ کے یہاں احکامِ شرعیہ میں قمری سن معتبر ہے اور یہ اللہ کو پسند ہیں، اسی لیے قمری حساب کا محفوظ رکھنا ’’فرضِ کفایہ‘‘ ہے، اگر ساری امت قمری حساب کو ترک کردے، تو گہنگار ہوگی۔ قمری حساب محفوظ رہے، تو شمسی تواریخ کا استعمال بھی جائز ہے۔‘‘

(معارف القرآن، جلد :۴، صفحہ: ۳۷۳)

حق تعالی ہمیں اپنے دینی تشخص و ورثے کی حفاظت کا اہتمام کرنے اور اس کی جانب خصوصی توجہ دینے کی توفیق عطا فرمائے۔


Post a Comment

Previous Post Next Post