https://tagassistant.google.com/#/?url=https%3A%2F%2Fguldastakafi.blogspot.com%2F کوئز نمبر پانچ (۵) مضمون: استقبال رمضان المبارک

کوئز نمبر پانچ (۵) مضمون: استقبال رمضان المبارک


 

استقبال رمضان المبارک

اللہ تعالی کے فضل و عنایات اور رحم و کرم کا موسم بہار شروع ہو چکا ہے، رمضان المبارک کا بابرکت اور پر متبرک مہینہ سایہ فگن ہے۔

آپﷺ باضابطہ اس ماہ مبارک کے استقبال کی تیاریاں کرتے تھے، آپﷺ شعبان کے تقریباً پورے روزے رکھتے تھے، تاکہ رمضان کے روزوں کا لطف زیادہ سے زیادہ حاصل ہو، آپﷺ صحابہ کرام ؓ کو خوشخبری سناتے کہ ایک مبارک مہینہ آنے والا ہے، جس میں روزے کو اللہ تبارک و تعالی نے فرض قرار دیا ہےاور اس کی راتوں میں کھڑے ہونے کو ثواب کی چیز قرار دیا، پھر اس مہینہ کے فضائل و مناقب بیان فرماتے، اس کے فوائد و منافع سے لوگوں کو باخبر کرتے، اس میں غفلت و سستی نہ برتنے کی وصیت فرماتےاور جو لوگ اس سے محروم رہتے تھے، اس پر حسرت و افسوس کا اظہار فرماتے تھے۔

آپ ﷺ اس کے استقبال کا اس درجہ اہتمام فرماتے کہ آپ حضرت جبرئیل امین کےساتھ قرآن مجید کا دور کرتے تھے، آپ کی نمازوں کی کیفیت بدل جاتی ، آپ سخاوت و ہمدردی میں اضافہ ہو جاتا ، پورے مہینے کے لیے مسجد میں معتکف ہو جاتے، کبھی بیس دن لیے اور آخیر عشرہ کا اعتکاف تو، آپ نے پوری زندگی بڑے اہتمام سے کیا۔

نبی کریمﷺ دو مہینہ پہلے سے ہی اس مبارک مہمان (رمضان) کا استقبال کرتے تھے:”اَللّٰهُمَّ بَارِكْ لَنَا فِيْ رَجَبَ وَشَعْبَانَ وَبَلِّغْنَا رَمَضَانَ“ اے اللہ رجب اور شعبان کے مہینے میں ہمیں برکت عطا فرما اور ہمیں (بخیر و عافیت ) رمضان المبارک تک پہنچا دیجئے۔

(شعب الایمان : ۳۵۳۴)

بلکہ جب شعبان کا مہینہ آتا لسان نبوت سے یوں موتی بکھرتے:’’ اللھم ھذا شعبان و بلغنا رمضان ‘‘اے اللہ! جیسے آپ نے ہم پر فضل و احسان کیا کہ ہمیں شعبان عطا فرمایا، اے اللہ! ہمیں رمضان کی مبارک ساعتیں بھی نصیب فرما۔

شعبان المعظم کی آخری رات کاوہ خطبہ جو آپﷺ نے اپنے جاں نثاروں کے درمیان دیا تھا، جس کو نقل کرنے والے حضرت سلمان فارسیؓ ہیں ، اس ماہ مبارک کو سمجھنے ، اس کے استقبال میں لگنے اور اس میں ہمہ تن دوش ہونے کے لیے کافی و شافی ہے ، چوں کہ اس روایت کے حوالےسے بات وقتاً فوقتاً آتی رہے ،اس لیے یہاں پوری روایت تفصیل کے ساتھ بیان کیا جا رہا ہے:

’’ أَيُّهَا النَّاسُ قَدْ أَظَلَّكُمْ شَهْرٌ عَظِيمٌ شَهْرٌ مُبَارَكٌ شَهْرٌ فِيهِ لَيْلَةٌ خَيْرٌ مِنْ أَلْفِ شَهْرٍ جَعَلَ اللّهُ صِيَامَهُ فَرِیْضَۃً وَ قِيَامَ لَيْلِهِ تَطَوُّعًا مَنْ تَقَرَّبَ فِيهِ بِخَصْلَةٍ مِنَ الْخَيْرِ كَانَ كَمَنْ أَدَّىٰ فَرِيضَةً فِیْمَا سِوَاهُ وَمَنْ أَدَّىٰ فِيهِ فَرِيضَةً كَانَ كَمَنْ أَدَّىٰ سَبْعِينَ فَرِيضَةً فِیْمَا سِوَاهُ وَهُوَ شَهْرُ الصَّبْرِ وَالصَّبْرُ ثَوَابُهُ الْجَنَّةُ وَ شَهْرُ الْمُوَاسَاةِ وَ شَهْرٌ يُزْدَادُ رِزْقُ الْمُؤْمِنِ مَنْ فَطَّرَ صَائِمًا كَانَ مَغْفِرَةً لِذُنُوبِهِ وَ عِتْقَ رَقَبَتِہٖ مِنَ النَّارِ وَ كَانَ لَهٗ مِثْلُ أَجْرِهٖ مِنْ غَيْرِ أَنْ يُّنْتَقَصَ مِنْ أَجْرِهٖ شَيْءٌ قَالُوْا: لَيْسَ كُلُّنَا يَجِدُ مَا يُفَطِّرُ الصَّائِمَ فَقَالَ: يُعْطِي اللّهُ هَذَا الثَّوَابَ مَنْ فَطَّرَ صَائِمًا عَلٰى تَمْرَةٍ أَوْ شَرْبَةِ مَاءٍ أَوْ مَذْقَةِ لَبَنٍ وَهُوَ شَهْرٌ أَوَّلُهُ رَحْمَةٌ وَأَوْسَطُهُ مَغْفِرَةٌ وَآخِرُهُ عِتْقٌ مِنَ النَّارِ مَنْ خَفَّفَ عَنْ مَمْلُوكِهِ غَفَرَ اللّهُ لَہُ وَ أَعْتَقَهُ مِنَ النَّارِ وَ اسْتَكْثِرُوْا فِيْهِ مِنْ أَرْبَعِ خِصَالٍ : خَصْلَتَيْنِ تُرْضُوْنَ بِهِمَا رَبَّكُمْ وَ خَصْلَتَيْنِ لَا غِنىٰ بِكُمْ عَنْهُمَا فَأَمَّا الْخَصْلَتَانِ اللَّتَانِ تُرْضُوْنَ بِهِمَا رَبَّكُمْ فَشَهَادَةُ أَنْ لَّا إِلٰهَ إِلَّا اللّهُ وَ تَسْتَغْفِرُوْنَهٗ وَ أَمَّا اللَّتَانِ لَا غِنىٰ بِكُمْ عَنْهُمَا فَتَسْأَلُوْنَ اللهَ الْجَنَّةَ، وَتَعُوذُوْنَ بِهِ مِنَ النَّارِ وَمَنْ أَشْبَعَ فِیْہِ صَائِمًا سَقَاهُ اللّهُ مِنْ حَوْضِيْ شَرْبَةً لَا يَظْمَأُ حَتّٰى يَدْخُلَ الْجَنَّةَ•‘‘

(صحیح ابن خزیمۃ:ج2 ص911 باب فضائل شہر رمضان رقم الحدیث1887)

ترجمہ: ” تم پر ایک مہینہ آ رہا ہے ، جو بہت بڑا اوربہت مبارک مہینہ ہے۔ اس میں ایک رات ایسی ہے جو ہزار مہینوں سے بڑھ کر ہے۔ اﷲ تعالیٰ نے اس کے روزہ کو فرض فرمایا اور اس کی رات کے قیام کو ثواب کی چیز بنایا ہے۔ جو شخص اس مہینہ میں کوئی نیکی کر کے اﷲ کا قرب حاصل کرے گا ایسا ہے جیسا کہ غیر رمضان میں فرض کو ادا کیا اور جو شخص اس مہینہ میں کسی فرض کو ادا کرے گا وہ ایسا ہے جیسے غیر رمضان میں ستر فرائض ادا کرے۔ یہ مہینہ صبر کا ہے اور صبر کا بدلہ جنت ہے، یہ مہینہ لوگوں کے ساتھ غم خواری کرنے کا ہے۔ اس مہینہ میں مومن کارزق بڑھا دیا جاتا ہے۔ جو شخص کسی روزہ دار کا روزہ افطار کرائے، اس کے لئے گناہوں کے معاف ہو نے اور آگ سے خلاصی کا سبب ہو گا اور اسے روزہ دار کے ثواب کے برابر ثواب ہو گا، مگر ا س روزہ دار کے ثواب سے کچھ کم نہیں کیا جائےگا۔ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم نے عرض کیا: یا رسول اﷲ! ہم میں سے ہر شخص تو اتنی طاقت نہیں رکھتا کہ روزہ دار کو افطار کرائے۔ تو آپ صلی اللہ علیہ و سلم نے ارشاد فرمایا کہ ( یہ ثواب پیٹ بھر کے کھلانے پر موقوف نہیں) بلکہ اگر کوئی بندہ ایک کھجور سے روزہ افطار کرا دے یا ایک گھونٹ پانی یا ایک گھونٹ لسّی کاپلادے ،تو اللہ تعالیٰ اس پربھی یہ ثواب مرحمت فرما دیتے ہیں۔ یہ ایسا مہینہ ہے کہ اس کا اول حصہ اﷲ کی رحمت ہے، درمیانی حصہ مغفرت ہے اور آخری حصہ جہنم کی آگ سے آزادی کاہے۔ جو شخص اس مہینہ میں اپنے غلام اور نوکر کے بوجھ کو ہلکا کر دے، تواللہ تعالیٰ اس کی مغفرت فرمادیتے ہیں اور آگ سے آزادی عطا فرماتے ہیں۔ اس مہینہ میں چار چیزوں کی کثرت کیا کرو، جن میں سے دو چیزیں اﷲ کی رضا کے لیے ہیں اور دوچیزیں ایسی ہیں جن سے تمہیں چارہ کار نہیں۔ پہلی دو چیزیں جن سے تم اپنے رب کو راضی کرو: وہ کلمہ طیبہ اور استغفار کی کثرت ہے اور دوسری دو چیزیں یہ ہیں: جنت کی طلب کرو اور جہنم کی آگ سے پناہ مانگو۔جو شخص کسی روزہ دار کو پانی پلائے رب تعالیٰ شانہ ( روزِ قیامت) میرے حوض سے اس کوایسا پانی پلائیں گے، جس کے بعد جنت میں داخل ہو نے تک اسے پیاس نہیں لگے گی۔“

اس مبارک مہینہ کی آمد سے قبل دنیا ہی میں نہیں ؛بلکہ آسمانوں پر بھی اس کی تیاریاں کی جاتی ہیں، آپ ﷺ کا فرمان ہے: 

’’ اِنَّ الْجَنَّةَ تُزَخْرَفُ لِرَمَضَانَ مِنْ رَاْسِ الْحَوْلِ اِلَى الحَوْلِ القَابِلِ، قَالَ: فَاِذَا كَانَ اَوَّلُ يَوْمٍ مِنْ رَمَضَانَ هَبَّتْ رِيحٌ تَحْتَ الْعَرْشِِ نَشَرَتْ مِنْ وَرَقِ الْجَنَّةِ عَلَى الْحُورِ الْعِينِ، فَيَقُلْنَ: يَا رَبِِّ اجْعَلْ لَنَا مِنْ عِبَادِكَ اَزْوَاجًا تَقَرُّ بِهِمْ أَعْيُنُنَا وَتَقَرُّ اَعْيُنُهُمْ بِنَا‘‘بے شک جَنّت اِبتِدائی سال سے آئندہ سال تک رَمَضانُ الْمبارَک کے لئے سجائی جاتی ہے اور فرمایا: رَمَضان شریف کے پہلے دِن عرش کے نیچے سے ایک ہوا چلتی ہے، جو جَنّت کے دَرَختوں سے ہوتی ہوئی بڑی بڑی آنکھوں والی حُوروں تک پہنچتی ہے، تو وہ عَرض کرتی ہیں: اے پروردگار! اپنے بندوں میں سے ایسے بندوں کو ہمارا شوہر بنا ،جن کو دیکھ کر ہماری آنکھیں ٹھنڈی ہوں اور جب وہ ہمیں دیکھیں، تو اُن کی آنکھیں بھی ٹھنڈی ہوں۔

(شعب الایمان، ج 3،ص 312،حدیث:3633) 

حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جب رمضان کی پہلی رات ہوتی ہے تو شیطان اور سرکش جنّ زنجیروں میں جکڑ دیے جاتے ہیں، جہنم کے دروازے بند کر دیے جاتے ہیں اور اس کا کوئی بھی دروازہ کھلا ہوا نہیں رہتا، جنت کے دروازے کھول دیے جاتے ہیں اور اس کا کوئی بھی دروازہ بند نہیں رہتا، منادی پکارتا ہے: اے بھلائی کے چاہنے والے! بھلائی کے کام پہ آگے بڑھ، اور اے برائی کے چاہنے والے! اپنی برائی سے رک جا، کچھ لوگوں کو اللہ جہنم کی آگ سے آزاد کرتا ہے اور یہ (رمضان کی) ہر رات کو ہوتا ہے۔

(ابن ماجہ کتاب الصیام بَابُ: مَا جَاءَ فِي فَضْلِ شَہرِ رَمَضَانَ)

مندرجہ بالا حدیث مبارکہ کی روشنی میں جنت کے دروازوں کا کھولا جانا اور جہنم کے دروازں کا بند ہونا اس امر کی طرف اشارہ ہے کہ رمضان المبارک میں ایسے اعمال کی توفیق دی جاتی ہے جو جنت میں داخل ہونے اور جہنم سے بچنے کا باعث ہیں۔

حجۃ اﷲ البالغۃ میں حضرت شاہ ولی اﷲ محدث دہلوی رحمۃ اللہ علیہ اس حدیث کی شرح میں فرماتے ہیں : جنت کے دروازوں کا کھولا جانا اہل ایمان کے لئے فضل ہے ورنہ کفار و مشرکین تو ان دنوں میں گمراہی و ضلالت میں پہلے سے زیادہ مصروف ہو جاتے ہیں؛کیونکہ شعائر اﷲ کی ہتک کرتے ہیں۔

 اہل ایمان چونکہ رمضان کے روزے رکھتے ہیں اور عبادت و ریاضت کرتے ہیں۔ اس مبارک مہینے میں نیکیوں کی کثرت کرتے ہیں اور برائیوں سے بچے رہتے ہیں۔

(شاہ ولی اﷲ، حجۃ اﷲ البالغہ۲؍۸۸)

ان تمام باتوں کو مدنظر رکھتے ہوئے ہم اپنے اندر احساس و جذبات پیدا کریں کہ ہم اس ماہ مبارک کی دل و جان سے قدر کریں گے، اس کے تقاضوں اور شرائط کی پوری پوری پاسداری کریں گے، اس کے آداب و سنن میں کمی کوتاہی ہرگز نہیں کریں گے اور توبہ و استغفار اور دعاؤں کاخوب خوب اہتمام کریں گے ۔


Post a Comment

Previous Post Next Post