https://tagassistant.google.com/#/?url=https%3A%2F%2Fguldastakafi.blogspot.com%2F کوئز نمبر چار (۴) کا مضمون: رمضان المبارک کی ناقدری کرنے والے کے لیے سخت وعیدیں

کوئز نمبر چار (۴) کا مضمون: رمضان المبارک کی ناقدری کرنے والے کے لیے سخت وعیدیں

 


رمضان المبارک کی ناقدری کرنے والے کے لیے سخت وعیدیں

جب کسی چیز کی فضیلت و برتری زیادہ ہوتی ہے، تو یقینا اس کی بے ادبی و بے حرمتی اور ناقدری کرنے کی وجہ سے اس پر عذاب اور پکڑ بھی سخت سے سخت ہوتی ہے، حرمین شریفین میں عبادات دیگر جگہوں کے مقابلے میں زیادہ نافع اور ثواب کا کام ہے، مگر کوئی شخص وہاں جاکر بھی بے احتیاطی اور اعمال میں کوتاہی و سستی کرے، تو اس پر اس کی گرفت بھی بھیانک اور تباہ کن ہوگی، یہی حال رمضان المبارک کا ہے، یہی وجہ ہے کہ اس کی ناقدری کرنے والے کے لیے احادیث مبارکہ میں بڑی سخت اور شدید وعیدیں ذکر کی گئی ہیں، جن سے معلوم ہوتا ہے کہ رمضان المبارک کی ناقدری صرف ناجائز عمل تک محدود نہیں ہے، بلکہ یہ کبیرہ گناہ اور دنیا وآخرت کی ہلاکت و بربادی کا باعث و ضامن بھی ہے۔

حضرت کعب بن عُجْرَہْ ؓ فرماتے ہیں: ایک مرتبہ نبی کریم ﷺ نے ارشاد فرما منبر کے قریب ہو جاؤ، ہم لوگ قریب ہوگئے، جب حضورﷺ نے منبر کی پہلی سیڑھی پر قدم رکھا، تو فرمایا :’’آمین‘‘ جب دوسری سیڑھی پر قدم رکھا، تو فرمایا :’’آمین‘‘ اور جب تیسری سیڑھی پر قدم رکھا ، تو فرمایا:’’آمین‘‘ جب آپﷺ خطبہ سے فارغ ہو کر نیچے اترے، تو ہم نے عرض کیا: یا رسول اللہ !ہم نے آج آپ سے منبر پر چڑھتے ہوئے ایسی بات سنی، جو پہلے کبھی نہیں سنی تھی۔

آپ ﷺ نے ارشاد فرمایا: اس وقت جبرئیل ؑ میرے پاس آئے تھے(جب پہلی سیڑھی پر میں نے پاؤں رکھا ، تو) انہوں نے کہا: ہلاک ہوجائے وہ شخص جس نے رمضان کا مہینہ پایا پھر بھی اس کی مغفرت نہیں ہوئی، تو میں نے کہا :’’آمین‘‘۔

جب میں نے دوسری سیڑھی پر قدم رکھا، تو انہوں نے کہا: ہلاک ہو جائےوہ شخص جس کے سامنے آپ کا ذکر مبارک ہو اور وہ آپﷺ پر درود نہ بھیجے، میں نے کہا:’’آمین‘‘۔

پھر جب میں تیسری سیڑھی پر پاؤں رکھا، تو انہوں نے کہا: ہلاک ہو جائے وہ شخص جس کے سامنے اس کے والدین یا ان میں سے کوئی ایک بڑھاپے کی حالت میں پہنچے اور وہ ان کی خدمت کر کے جنت میں داخل نہ ہو جائے، تو میں نے کہا: ’’آمین‘‘ ۔

(مستدرک حاکم: ۷۲۵۶)

حضرت انسؓ کی روایت میں ہے کہ نبی کریم ﷺ نے ارشاد فرما یا : ہلاکت ہو اس شخص کے لیے، جو رمضان المبارک کا مہینہ پائے اور اس کی مغفرت نہ ہو، جب رمضان میں بھی اس کی مغفرت نہ ہوئی، تو پھر کب ہوگی !
(المصنف لابن ابی شیبہ:۸۸۷۱ا)
ایک جگہ آپ ﷺ کا ارشاد ہے کہ بدبخت ہے وہ شخص جو اس ماہ مبارک میں بھی باران رحمت سے محروم رہا۔
(کنزالعمال: حدیث نمبر: ۲۳۶۹۳)
رمضان المبارک کے مہینے میں بھی جو لوگ گناہ و معصیت میں ملوث رہتے ہیں، ایسے شخص کے بارے میں آپ ﷺ کی وعید ہے کہ اگلے ایک سال تک فرشتے ان پر لعنت کرتے رہتے ہیں۔
(کنز العمال، حدیث نمبر: ۲۳۷۲۴)
حضرت ابوہریرہ کی روایت ہے کہ آپ ﷺ نے فرمایا: میری امت اس وقت تک ذلیل و خوار نہیں ہو سکتی ، جب تک کہ وہ روزوں کا اہتمام کرتی رہے گی ۔
(کنز العمال، حدیث نمبر: ۲۳۷۰۱)
مذکورہ بالااحادیث اور دیگر احادیثوں سے معلوم ہوا کہ رمضان المبارک کی ناقدری کس درجہ خطرناک معاملہ، جس کی وجہ سے ہلاکت، بدبختی، بدنصیبی اور بربادی انسان کا مقدر ہو جاتی ہے۔

Post a Comment

Previous Post Next Post