رمضان المبارک کی ناقدری کرنے والے کے لیے سخت وعیدیں
جب کسی چیز کی فضیلت و برتری زیادہ ہوتی ہے، تو یقینا اس کی بے ادبی و بے حرمتی اور ناقدری کرنے کی وجہ سے اس پر عذاب اور پکڑ بھی سخت سے سخت ہوتی ہے، حرمین شریفین میں عبادات دیگر جگہوں کے مقابلے میں زیادہ نافع اور ثواب کا کام ہے، مگر کوئی شخص وہاں جاکر بھی بے احتیاطی اور اعمال میں کوتاہی و سستی کرے، تو اس پر اس کی گرفت بھی بھیانک اور تباہ کن ہوگی، یہی حال رمضان المبارک کا ہے، یہی وجہ ہے کہ اس کی ناقدری کرنے والے کے لیے احادیث مبارکہ میں بڑی سخت اور شدید وعیدیں ذکر کی گئی ہیں، جن سے معلوم ہوتا ہے کہ رمضان المبارک کی ناقدری صرف ناجائز عمل تک محدود نہیں ہے، بلکہ یہ کبیرہ گناہ اور دنیا وآخرت کی ہلاکت و بربادی کا باعث و ضامن بھی ہے۔
حضرت کعب بن عُجْرَہْ ؓ فرماتے ہیں: ایک مرتبہ نبی کریم ﷺ نے ارشاد فرما منبر کے قریب ہو جاؤ، ہم لوگ قریب ہوگئے، جب حضورﷺ نے منبر کی پہلی سیڑھی پر قدم رکھا، تو فرمایا :’’آمین‘‘ جب دوسری سیڑھی پر قدم رکھا، تو فرمایا :’’آمین‘‘ اور جب تیسری سیڑھی پر قدم رکھا ، تو فرمایا:’’آمین‘‘ جب آپﷺ خطبہ سے فارغ ہو کر نیچے اترے، تو ہم نے عرض کیا: یا رسول اللہ !ہم نے آج آپ سے منبر پر چڑھتے ہوئے ایسی بات سنی، جو پہلے کبھی نہیں سنی تھی۔
آپ ﷺ نے ارشاد فرمایا: اس وقت جبرئیل ؑ میرے پاس آئے تھے(جب پہلی سیڑھی پر میں نے پاؤں رکھا ، تو) انہوں نے کہا: ہلاک ہوجائے وہ شخص جس نے رمضان کا مہینہ پایا پھر بھی اس کی مغفرت نہیں ہوئی، تو میں نے کہا :’’آمین‘‘۔
جب میں نے دوسری سیڑھی پر قدم رکھا، تو انہوں نے کہا: ہلاک ہو جائےوہ شخص جس کے سامنے آپ کا ذکر مبارک ہو اور وہ آپﷺ پر درود نہ بھیجے، میں نے کہا:’’آمین‘‘۔
پھر جب میں تیسری سیڑھی پر پاؤں رکھا، تو انہوں نے کہا: ہلاک ہو جائے وہ شخص جس کے سامنے اس کے والدین یا ان میں سے کوئی ایک بڑھاپے کی حالت میں پہنچے اور وہ ان کی خدمت کر کے جنت میں داخل نہ ہو جائے، تو میں نے کہا: ’’آمین‘‘ ۔
(مستدرک حاکم: ۷۲۵۶)
