https://tagassistant.google.com/#/?url=https%3A%2F%2Fguldastakafi.blogspot.com%2F کوئز نمبر دو کا مضمون (مختصر عقائد و مسائل روزہ کے متعلق حصہ دوم)

کوئز نمبر دو کا مضمون (مختصر عقائد و مسائل روزہ کے متعلق حصہ دوم)


کوئز نمبر دو کا مضمون 

مختصر عقائد و مسائل روزہ کے متعلق

جب یہ بات معلوم ہو گئی کہ روزہ فرض ہے ، تو یہ بھی جاننا نہایت ضروری اور اہم ہے کہ کسی شخص پر روزہ فرض و واجب ہونے کے لیے کچھ شرائط ہیں ، جن کے پائے جانے سے ہی روزہ فرض و واجب ہوگا:

(۱) مسلمان ہونا (۲) بالغ ہونا (۳) عاقل ہونا (۴) تندرست ہونا (۵) مقیم ہونا (۶) عورتوں کا حیض و نفاس سے پاک ہونا۔

ان شرائط پر غور کرنے سے خود بخودیہ نتیجہ سامنے آتا ہے کہ کافروں پر روزفرض نہیں ہے ، اسی طرح نابالغ، پاگل، مجنون ، مہلک مرض میں مبتلا شخص، مسافر اور حیض و نفاس میں مبتلا عورتوں پر بھی روزہ فرض نہیں ہے۔

افادۂ عام کے لیے روزہ کی قسموں کو بیان کر دینا بھی مناسب معلوم ہوتا ہے۔ فتاوی ہندیہ کے مطابق روزہ کی کل پانچ قسمیں ہیں: 

(۱) فرض معین:یہ وہ روزہ ہے ، جوفرض ہوا ہو اور اس کی ادائیگی کا وقت بھی متعین و مقرر ہو، جیسے رمضان المبارک کا روزہ ۔

(۲) فرض غیر معین: یہ وہ روزہ ہے، جو فرض ہوا ہو ، مگر اس کی ادائیگی کا وقت متعین و مقرر نہ ہو، جیسے کفارہ کا روزہ اور قضا کا روزہ۔

(۳) واجبِ معین: یہ وہ روزہ ہے ، جو واجب ہوا ہو ؛لیکن اس کا وقت متعین و مقرر ہو، جیسے نذر (منت) معین کا روزہ۔

(۴) واجب غیرمعین: یہ وہ روزہ ہے، جو واجب ہوا ہو، مگر اس کا وقت متعین و مقرر نہ ہو، جیسے نذر غیر معین۔

(۵) نفل روزہ

فتاویٰ ہندیہ ج١ صفحہ٢١٤، المکتبہ : دارالکتب العلمیہ بیروت

پانچویں قسم یعنی نفل روزہ کی مزید تین قسمیں اور بنے گی : 

(۱) سنت روزہ ، جیسے کہ محرم الحرام کی نویں اور دسویں تاریخ کے روزے، عرفہ کے دن کا روزہ اور ایام بیض کے روزے۔

(۲) مکروہ تنزیہی: جیسے محرم الحرام کی صرف دسویں تاریخ کا روزہ ، صرف ہفتہ کے دن کا روزہ اور عورتوں کا اپنے خاوند کی اجازت کے بغیر نفل روزہ رکھنا۔

(۳) مکروہ تحریمی: جیسے عیدالفطر اور عید الضحی کے دن کا روزہ رکھنا اور ایام تشریق کا روزہ رکھنا۔

پانچ اوپراور یہ تین نیچے کل ملاکر آٹھ قسمیں ہوئیں۔

مذکورہ بالاتمام باتوں سے یہ ثابت ہوگیا کہ رمضان المبار ک کا روزہ فرض ہے، جیسا کہ فرمانِ باری تعالیٰ ہے:"فَمَنۡ شَهِدَ مِنۡكُمُ الشَّهۡرَ فَلۡيَـصُمۡه"سو تم میں سے جو شخص اس مہینہ میں موجود ہو، وہ ضرور اس ماہ کے روزے رکھے۔

 (سورہ بقرہ آیت نمبر: ١٨٥)

اسی وجہ سے اس کا رکھنا مذکورہ شرائط کے متحمل شخص پر لازم و ضروری ہے۔

جو شخص اس کے فرض ہونے کا انکار کرے، وہ مسلمان نہیں رہتا ہے ، جو اس کی ادائیگی میں کوتاہی کرے، وہ سخت گناہ گار اور فاسق ہےاور جو شخص اس کی فرضیت و حکمیت کو دور حاضر اور زمانہ حال کے موافق نہ جانے یعنی اس کورکھنے والے کو دقیانوسی خیال کا حامل جانے یا اس میں خفت محسوس کرے ، تو وہ شخص منافق و مرتد ہے۔


Post a Comment

Previous Post Next Post