مختصر عقائد و مسائل روزہ کے متعلق
روزہ اسلام کی بنیادی پانچ ارکانوں میں سے ایک ہے اہم رکن ہے، جیسا کہ حدیث شریف میں وارد ہوا ہے :’’بُنِيَ الإِسْلَامُ عَلٰی خَمْسٍ : شَهَادَةِ أنْ لَّا إِلٰهَ إِلَّا اﷲُ وَأنَّ مُحَمَّدًا رَسُوْلُ اﷲِ، وَإِقَامِ الصَّلَاةِ، وَإِيْتَاءِ الزَّکَاةِ، وَالْحَجِّ، وَصَوْمِ رَمَضَانَ‘‘ اسلام کی بنیاد پانچ چیزوں پر ہے : یہ گواہی دینا کہ اللہ تعالیٰ کے سوا کوئی معبود نہیں اور یہ کہ محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اللہ تعالیٰ کے رسول ہیں، اور نماز قائم کرنا اور زکوٰۃ ادا کرنا اور (بیت اللہ کا) حج کرنا اور رمضان المبارک کے روزے رکھنا۔
(بخاری شریف، کتاب الايمان، مسلم شریف کتاب الایمان حدیث نمبر ١١٣)
روزہ کو عربی میں صوم کہتے ہیں ،جس کی جمع صیام آتی ہے، صیام کے معنی لغت میں رک جانے کے ہیں، جیسا باری تعالی کا ارشاد ہے: ’’ انی نذرت للرحمن صوما فلن اکلم الیوم انسیا‘‘ میں نے رحمن کے لیے روزہ رکھا ہوا ہے ؛ لہذا میں کسی سے نہیں بولوں گی۔ (یعنی میں نے بات نہ کرنے کا تہیا کیا ہے۔) یہاں بولنے سے رک جانے کو صوم کہا گیا ہے ۔
(سورہ مریم آیت نمبر: ٢٦)
یہ اسلامی مہینوں کے اعتبار سے نواں مہینہ میں رکھا جاتا ہے، روزہ اصطلاح شرع میں صبح صادق سے لے کر غروب آفتاب تک تین چیزوں سے رکنے کا نام ہے:( ١)کھانے( ٢) پینے( ٣) اور بیوی کے ساتھ جماع کرنے سے
رمضان المبارک کے روزے سنہ دو ہجری میں فرض ہوئے، اس اعتبار سے آپ صلی اللہ علیہ وسلم بھی اپنی مبارک زندگی میں نو رمضان کے روزے رکھے۔
روزہ صرف امت محمدیہ پرفرض نہیں ہوا؛ بلکہ جتنی بھی امتیں آئیں، سبھوں پر اس دور کے حساب سے روزے فرض ہوئے، جیسا کہ قرآن مجید میں اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے: ’’یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا كُتِبَ عَلَیْكُمُ الصِّیَامُ كَمَا كُتِبَ عَلَى الَّذِیْنَ مِنْ قَبْلِكُمْ لَعَلَّكُمْ تَتَّقُوْنَ‘‘ مومنو ! تم پر روزے فرض کئے گئے ہیں جس طرح تم سے پہلے لوگوں پر فرض کئے گئے تھے، تاکہ تم پرہیزگار بنو۔
(سورہ بقرہ آیت نمبر: ۱۸۳)
Tags
ماہ مبارک کوئز
