https://tagassistant.google.com/#/?url=https%3A%2F%2Fguldastakafi.blogspot.com%2F ماہ مبارک کوئز کا اعلان

ماہ مبارک کوئز کا اعلان

 

ماہ مبارک کوئز

ماہ مبارک کوئز 

 ’’ اِقْرأ وَ رَبُّکَ الْاَکْرَمْ الَّذِیْ عَلَّمَ بِالْقَلَمْ عَلَّمَ الْاِنْسَانَ مَالَمْ یَعْلَمْ‘‘ پڑھ اور جان کہ تیرا رب کریم ہے، جس نے علم سکھایا قلم کے ذریعے، آدمی کو وہ سکھایا جو وہ نہیں جانتا تھا۔ (سورہ علق)  ’’قُلْ هَلْ يَسْتَوِي الَّذِينَ يَعْلَمُونَ وَالَّذِينَ لا يَعْلَمُونَ‘‘آپ فرما دیجیے: کیا جو لوگ علم رکھتے ہیں اور جو لوگ علم نہیں رکھتے (سب ) برابر ہو سکتے ہیں؟          (سورہ زمر)
اور بھی بے شمار آیات و روایات ہیں، جن سے علم کی اہمیت و فضیلت اجاگر ہوتی ہے، اگر یہ کہا جائے، تو بے جا نہ ہوگا کہ ایمان قبول کرلینے کے بعد سب سے اہم چیز ’’علم دین‘‘ ہے، کیوں کہ جو چیز ایمان میں مطلوب و مقصود ہیں، جن پر عمل کرنے سے ایمان میں کمال و جمال آتا ہے، وہ چیزیں دین کے علم کے بغیر حاصل نہیں ہوسکتیں، یہی وجہ ہے کہ امام بخاری ؒ نے اپنی معرکۃ الآرا کتاب میں کتاب الایمان کے فوراً بعد کتاب العلم کو لایا ہے، انہیں کی پیروی کرتے ہوئے صاحب مشکوۃ ؒ کتاب الایمان کے بعد کتاب العلم کو جگہ دی ہے۔
دانش و بینش کے نزدیک تو علم کی فضیلت و مرتبت مسلم ہے، لیکن اس کے حصول کے مختلف طریقے ہیں، انہیں میں سے ایک رائج طریقہ سوال و جواب کا ہے۔ کہا جاتا ہے ’’ العلم بابٌ مُقْفَلٌ مِفْتَاحُہ اَلْمَسْئَلۃُ‘‘ یعنی علم ایک بند دروازہ ہے اور سوال کرنا اس کی چابی ہے، جس طرح تالا بغیر چابی کے نہیں کھلتا، اسی طرح علم کا دروازہ بغیر سوال کے نہیں کھلتا۔ سوال و جواب کی اہمیت و افادیت کو یوں بھی سمجھا جا سکتا ہے کہ سوال و جواب کا فائدہ صرف سائل و مسئول عنہ کو نہیں ہوتا ہے، بلکہ اس سے بےشمار لوگ فائدہ اٹھاتے ہیں، جیسے ہزاروں کی موجودگی میں کیے گیے سوال و جواب سے ہزاروں کو فائدہ ہوتا ہے اور بعض اوقات ایک آدمی کا سوال و جواب صدیوں تک لوگوں کی راہنمائی کرتا ہے، جیساکہ صحابہ کرام ؓ کے کیے گیے سوالات اور آپﷺ کے دئے گیے جوابات ہمارے لیے آج بھی رہبر و رہنما ہیں۔
سوال و جواب کا رائج زمانہ ایک طریقہ کوئز ہے، جو ایک مستحسن عمل ہے۔ اس سے طالب میں حصول اور ایک دوسرے سے سبقت لے جانے کا جذبہ موجزن ہوتا ہے۔انہیں باتوں کو مدنظر رکھتے ہوئے آنے والا ماہ صیام میں ایک کوئز مقابلہ بعنوان ’’ماہ مبارک کوئز‘‘ مندرجہ ذیل اکابرین امت کی نگرانی و نگہبانی میں رکھنے کا اہتمام و التزام کیا گیا ہے۔
زیر سرپرستی: استاذالاساتذہ حضرت مولانا قاری عبد الصمد صاحب مفتاحی حفظہ اللہ استاذ مدرسہ عارفیہ، سنگرام ، مدھوبنی ، بہار
زیر قیادت: حضرت مولانا محمد امتیاز احمد صاحب قاسمی مدظلہ العالی سابق استاذ حدیث جامعہ اسلامیہ قاسمیہ بالاساتھ، سیتامڑھی
زیرصدارت:حضرت مولاناڈاکٹر عبدالودود صاحب قاسمی مدظلہ العالی صدر شعبہ اردو سی۔ایم۔بی کالج، گھوگھرڈیہا، مدھوبنی
زیرہدایت : حضرت مولانا قاضی نجم الہدی صاحب قاسمی مدظلہ العالی سابق نائب قاضی فلاح المسلمین، بھواڑہ، مدھوبنی 
زیرحمایت: حضرت مولانا ظہیر صاحب قاسمی و حضرت مولانا محمد نیاز صاحب قاسمی اطال اللہ عمرہما
معاون و مددگار: حضرت مولانا قمر الہدی صاحب قاسمی، مولانا محمد شعیب اختر قاسمی و حافظ حسیب الرحمن صاحب ڈلوکھروی 
شرائط و ضوابط کوئز 
(۱) کوئز میں شرکت کے لیے کوئی اندراج فیس نہیں ہوگا ۔                (۲) کوئز میں شمولیت کے لیے عمر کی کوئی تحدید نہیں ہے ۔
(۳) کوئز میں داخلہ کے لیے صرف اردو زبان کی سدھ بدھ چاہیے ۔  (۴) سوالات کا لنک صبح دس بجےتک بھیجا جائے گا، جبکہ جوابات رات دس بجے تک دینا لازمی ہوگا۔    (۵) کوئز آن لائن ہوگا۔          (۶) جوابات فقہ حنفی کے مطابق ہی قابل قبول ہوگا ۔
 (۷) روزانہ پانچ سوالات آپشن کے ساتھ بھیجے جائیں گے، لہذا ان تمام کے جوابات لازمی ہیں۔  (۸) جوابات وہی معقول سمجھا جائے گا، جو اس دن کی ویڈیو کے مطابق ہوگا۔ (9) اندراج کی آخری تاریخ 10؍ مارچ 2024؁ بمطابق ۲۸؍ شعبان المعظم ۱۴۴۵؁ھ ہے۔
یوں تو سیکھنا سکھانا ہی ایک بڑا موقع اور مقصود ہے ، تاہم آپ مساہمین کے حوصلہ افزائی کے لیے تین پوزیشن بھی رکھی گئی ہیں: اول پوزیشن ایک ہزار روپیے، دوم پوزیشن سات سو روپیے اور سوم پوزیشن پانچ سو روپیے ، ان کے علاوہ چند مساہمین کو خصوصی و تشجیعی انعام بھی دیا جائے گا۔ (ان شا اللہ)  مزید معلومات اور اندراج کے لیے رابطہ کریں:   7367915994   7310598716  
  

اگر آپ مطمئن ہیں، تو مذکورہ فارم پر کریں۔


کوئز کا اعلان


Post a Comment

Previous Post Next Post